“Better sense should prevail”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا قسمت ہے پونے دو ارب انسانوں کی، انتہا پسند نریندر مودی کے رحم و کرم پر، جس کی سیاست، اٹھان، کامیابی، قتل و غارت، خون خرابہ، دنگا فساد،2014 کے انتخابات، وعدے تو تھے، سالانہ دو کروڑ ملازمتیں دوں گا، کاشتکاروں کے منافع میں 50فیصد اضافہ ہو گا، ملک سے لوٹا پیسہ واپس لاؤں گا، 100جدید شہر بناؤں گا، رام مندر تعمیر کروں گا، گنگا صاف کروں گا، 2019آگیا، ایک وعدہ بھی پورا نہ ہوا۔

اب ایک طرف الیکشن، گرتی ساکھ، کم ہوتی مقبولیت، رافیل کرپشن اسکینڈل، پریانکا گاندھی کی سیاست میں انٹری کے بعد نئی نسل کا کانگریس کی طرف جھکاؤ جبکہ دوسری طرف عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا متوقع اجلاس، پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے یا نہیں، فیصلہ ہونے والا۔

یورپی یونین کی بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہونے والی متوقع بیٹھک، کرتار پور راہداری کی دلی میں ہونے والی میٹنگ، پاکستان کی مدد سے مسلسل آگے بڑھتا افغان امن مشن اور بھارت کا افغانستان سے ختم ہوتا کردار، پی ایس ایل کے ذریعے پاکستان میں کھیلوں کی واپسی، تازہ زہر، نفرت، سانحہ، المیہ چاہئے تھا، لہٰذا پلوامہ، الزام پاکستان پر اور اجیت دوولوں نے منٹوں سیکنڈوں میں پورے بھارت کو مہا بھارت میں جھونک ڈالا۔

گو کہ جب پاکستان نے پلوامہ کے ثبوت دینے پر کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرا دی، جب امریکہ سے سعودی عرب تک دنیا پاکستانی موقف کے ساتھ کھڑی ہو گئی، جب فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، بھارتی ریٹائر افسروں تک نے کہہ دیا ’’خودکش بمبار کشمیری، بارود بھارتی ساخت کا، پاکستان کہیں نظر نہیں آ رہا، یہ مقبوضہ وادی کے مقامی نوجوانوں کا کام، کشمیریوں سے بات کی جائے‘‘۔

جب راج ٹھاکرے جیسے کٹر ہندو نے کہہ دیا ’’یہ مودی سرکار کا سیاسی ڈرامہ، اجیت دوول ہدایتکار‘‘ اور جب بھارتی سماجی رہنما ومن مشرام نے یہاں تک کہہ دیا ’’بھارت کو 8 دن پہلے معلوم تھا کہ پلوامہ خودکش حملہ ہوگا، بھارت سرکار کے پاس آئی بی کی رپورٹ تھی، کابینہ کمیٹی برائے سیکورٹی کو بھی معلوم تھا مگر چونکہ الزام پاکستان پر لگانا تھا، لہٰذا حملہ ہونے دیا گیا بلکہ خودکش حملے کے بعد جب جوان کہہ رہے تھے ہمیں ائیر لفٹ کیا جائے تب بھی حکومت نے بات نہ مانی، قتل کروائے مودی سرکار نے، الزام لگا دیا پاکستان پر‘‘۔

جب یہ سب ہوا، مطلب مودی کا پلوامہ ڈرامہ فلاپ ہونے لگا تو رات کی تاریکی میں بالاکوٹ جارجیت کر دی، 1971کے بعد پہلی دفعہ پاکستانی حد میں بھارتی جارجیت، پاکستان کی خود مختاری پر حملہ، کہا ’’جیشِ محمد کا ٹھکانہ تباہ، ساڑھے تین سو دہشتگرد مار دیئے‘‘، حقیقت یہ، آئے، پہلے سے پیٹرولنگ پر پاک فضائیہ کے روکنے پر جنگل میں بم گراکر بھاگ گئے، چونکہ معاملہ خود مختاری کا، جواب د ینا بنتا تھا، جواب دیا، 2بھارتی طیارے مار گرائے، پائلٹ گرفتار، لیکن یوں انتہا پسندمودی کی وجہ سے دو ایٹمی طاقتیں پھر سے آمنے سامنے۔

مگر یہ نئی بات نہیں، 71سال سے امن، جنگ کا یہی کھیل جاری، کئی بار لگا برف پگھل رہی، مگر صورتحال واضح ہوئی، پتا چلا برف نے پگھلنا کیا الٹا ایک اور تہہ جم گئی، ویسے تو تقسیم ہند کے دور ان ہی بدگمانیاں، بدعہدیاں، منافقتیں، جھوٹ، سیاستیں ہوگئیں، لارڈ ماؤنٹ بیٹن، نہرو ایکا، ریڈ کلف ایوارڈ ناانصافی، جموں وکشمیر ودیگر ریاستوں پر بھارتی قبضہ، منصوبہ بندی سے 1947کی قتل وغارت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، پاکستان کے فنڈز روک لینا سمیت بہت کچھ ہوا۔

مگر پھر بھی حالات بہتر ہوئے، سندھ طا س فارمولے کے تحت پانی کی تقسیم تاریخی معاہدہ طے پایا تو 65کی جنگ ہوگئی، تاشقند کا تاریخی معاہدہ ہوا تو71کی جنگ ہوگئی، شملہ معاہدہ ہوا توسیاچن کا بحران اور ممبئی دھماکے، واجپائی لاہور بس ڈپلومیسی سے کچھ امید بندھی توکارگل ہوگیا۔

مشرف، واجپائی آگرہ مذکرات سے توقعات پیدا ہوئیں تو نائن الیون ہوگیا، حالات سنبھلے تو بھارتی لوک سبھا پر حملہ ہو گیا، کچھ بہتری آئی تو ممبئی میں 26/11ہوگیا، اس سے نکلے تو بھارت کو مودی ہوگیا، مودی ہیپی برتھ ڈے کیک کاٹنے رائے ونڈ آیا توپٹھانکوٹ ہوگیا، حالات سنبھلے تو برہان الدین وانی شہید ہوگیا، کچھ بہتری آئی تو اوڑی چھاؤنی پر حملہ ہوا، ذرا سانسیں درست ہوئیں، کلبھوشن پکڑا گیا، پلوامہ اور بالا کوٹ آپکے سامنے۔

گو کہ یہ 71سالہ رونا دھونا لیکن اس بار دکھ یہ کہ عمران خان وزیراعظم بنے، پہلی تقریر، بھارت ایک قدم بڑھائے ہم دوقدم بڑھائیں گے، نریند ر مودی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا’’ یہ وقت آپس میں جنگ کا نہیں، غربت، بے روزگاری، عوامی محرومیوں کے خلاف جنگ کا‘‘ سول ملٹری قیاد ت نے مل کر کرتارپور راہداری کھول دی اور یہ سب تب کیا جب 70سالہ تاریخ کا سب سے بڑا جاسوس کلبھوشن، اس کے جاسوسی نیٹ ورک اور افغانستان کے راستے بھارتی تخریب کاریوں کے زخم تازہ تھے۔

بلوچستان سے چینی قونصل خانے حملوں تک کے ماسٹر مائنڈ اسلم اچھو بھارت میں، 75ہزار ہوئی شہادتوں میں بھارت کتنا ملوث، یہ بھی معلوم تھا لیکن مودی نے اپنی راج نیتی کی خاطر سب کچھ برباد کر دیا، نریندر مودی نے چند دنوں میں ہی سیکولر بھارت کی یہ حالت کر دی کہ سنیل گواسکر، ٹنڈولکر تک کی وطن پرستی پر باتیں ہوگئیں، جی ہاں وہ ٹنڈولکر جس کی ہندوستان میں پوجا ہو، مطلب ایسا ماحول کہ پجاری اپنے دیوتاؤں پر شک کر رہے۔

گو کہ اس بار ہماری سول، ملٹری قیاد ت کار ویہ شاندار، ہمارے میڈیا کا کردار بہت بہتر، سب کچھ حقیقت کے قریب، خوابوں، افسانوں، دیومالائی داستانوں سے پاک، بھارتی جارجیت ہوئی، سول ملٹری قیادت ایک ساتھ بیٹھی، سیاسی قیادت اکٹھی ہوئی، نیشنل کمانڈ اتھارٹی، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، وزیراعظم کا قوم سے خطاب، پھر بھارت کو جواب دینے کیلئے کھلی جگہ کا انتخاب ملٹری ٹارگٹ سے اجتناب، انسانی جانیں ضائع نہ ہوں، پورا خیال رکھا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا’’ پاکستان پر حملہ ہوا تھا، جواب دیا، لیکن ہم امن پسند، امن کو ایک موقع اور دینا چاہتے ہیں، جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی بلکہ انسانیت ہار جاتی ہے ‘‘، گو کہ ہم خودمختار، ہمیں معلوم کہ کسی کی خودمختاری اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کا دفاع کیا جاسکے، گو کہ ہمیں اپنی فوج پر بھروسہ، فخر، گو کہ پوری قوم ایک صفحے پر، مگر پھر بھی اور اب بھی ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر، ناسمجھی، نادانی نہیں، صرف واہ واہ، تالیاں بجوانے کیلئے نہیں، اور سفارتی محاذپرجنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت۔

یہاں رہ رہ کر یہ خیال آرہا کہ کاش سوشل میڈیا نہ ہوتا، جس طرح ان چند دنوں میں سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل ڈالا وہ افسوسناک، کاش کوئی جاپان سے ہیروشیما، ناگاساکی کےزخموں کا پوچھ لے، عراق، ایران جنگ تباہ کاریاں کا دونوں ملکوں سے پوچھ لے، کاش کوئی یمن، شام، لیبیا کی تباہی کا سوچ لے اوریہاں یاد دہانی کیلئے عرض، پہلی جنگ عظیم میں ڈھائی کروڑ، دوسری جنگ عظیم میں 5کروڑ ہلاکتیں ہوئیں۔

71,65اور کارگل جنگوں میں اور لائن آف کنڑول پر ہوئی اموات سب کے سامنے، سینئر دوست مظہر عباس نے کیا خوب کہا، ہمارے حوالے سے تو یہ داستانیں کہ ہم انتہا پسند، بھارت پر تو انتہا پسندوں کی حکومت، ہمارے بارے میں تو پھیلایا جارہا کہ کہیں ہماری ایٹمی صلاحیت انتہا پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔

بھارت میں تو ایٹم بم انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ چکا، یہی بات پوری دنیا کو بتانے کی ضرورت، آخرپر وہی جووزیراعظم نے کہا، عقل، حکمت کا استعمال ضروری، امن کو ایک موقع اور دیں اور better sense should prevail۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں