بلوچستان سیلاب: ’سوچا نہ تھا کہ یوں چھت سے محروم ہو جائیں گے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان میں سیلاب سے تباہی

BBC

قلعہ عبداللہ کے رہائشی عبداللہ جان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ وہ اور ان کے خاندان کے دیگر لوگ اچانک اپنی چھت سے محروم ہو جائیں گے۔

قلعہ عبداللہ پاکستان کے پسماندہ صوبے بلوچستان کے ان 18 اضلاع میں شامل ہے جو پہلے خشک سالی سے متاثر تھے اور اب شدید بارشوں اور برفباری کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے یہاں کی آبادی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان شدید بارش اور برفباری کی زد میں

یکم مارچ کو بلوچستان کے جن اضلاع میں شدید برفباری اور موسلادھار بارشوں نے تباہی مچائی ان میں نوشکی، چاغی، کوئٹہ، زیارت، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبد اللہ اور تربت اہم ہیں۔

دو مارچ کو آنے والا سیلابی ریلا قلعہ عبداللہ کے عبداللہ جان کے گھر کے بارہ کے بارہ کمرے زمین بوس کر گیا۔ یہ سیلابی ریلا 24 گھنٹے تک ہونے والی بارش کی وجہ سے قلعہ عبداللہ ٹاؤن میں بازار اور اس سے متصل رہائشی علاقوں میں داخل ہوا۔

عبداللہ جان نے بتایا کہ قلعہ عبد اللہ ٹاؤن کے قریب گرڈ سٹیشن کے ساتھ سڑک پر بنا پل بند ہونے کی وجہ سے سیلابی پانی نے رہائشی علاقے کا رخ کیا۔

سیلابی پانی کے متاثرین اپنے مکانات کی تباہی کے بعد اب دیگر علاقوں میں رشتہ داروں کے یہاں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

بلوچستان میں سیلاب سے تباہی

BBC

عبداللہ جان کے مطابق قلعہ عبد اللہ ٹاؤن میں گھروں کے گرنے کے باعث 15 سے 20 ہزار کی آبادی متاثر ہوئی ہے اور وہ خود اپنے خاندان کے 25 دیگر افراد کے ہمراہ ایک رشتہ دار کے گھر منتقل ہوئے ہیں کیونکہ انھیں ابھی تک کوئی خیمہ اور دیگر امدادی اشیا فراہم نہیں کی گئیں۔

قلعہ عبداللہ کے ہی ایک اور رہائشی محراب خان نے فون پر رابطہ کرنے پر بتایا کہ ان کے مکان کا بڑا حصہ سیلاب کی وجہ سے مکمل طور پر زمین بوس ہو گیا ہے جبکہ باقی بھی رہائش کے قابل نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ شدید سردی میں کھلے آسمان تلے ان کے خاندان کے افراد کے لیے گھر کے صحن میں قیام ممکن نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ قریبی دیہات پولازئی میں رشتہ داروں کے چلے گئے۔

قلعہ عبداللہ کے مقامی صحافی حیات اللہ اچکزئی کا کہنا ہے کہ قلعہ عبداللہ ٹاؤن میں مجموعی طور پر دو سو گھروں اور12 دکانوں کو نقصان پہنچا جبکہ پورے قلعہ عبداللہ میں 1500 سے زائد مکانات متاثر ہوئے ہپں۔

بلوچستان میں سیلاب سے تباہی

BBC

قلعہ عبداللہ ٹاؤن کے قریب واقع میزئی اڈا کے علاقے میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے اور بڑی تعداد میں مکانات یا تو زمیں بوس ہو چکے ہیں یا انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

میزئی اڈا کے رہائشی احسان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گھر میں چار کمرے تھے جو تمام کے تمام سیلابی پانی آنے کی وجہ سے تباہ ہو گئے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس علاقے میں اب تک حکومت کی جانب سے جو امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ احسان اللہ کے مطابق چونکہ سردی کی شدت برقرار ہے اس لیے متاثرین مناسب ریلیف نہ ملنے کی وجہ سے مشکل صورتحال سے دوچار ہیں ۔

قلعہ عبداللہ کی طرح افغانستان سے متصل بلوچستان کے ایک اور ضلع نوشکی میں بھی سیلابی ریلوں نے ایک بڑے علاقے میں تباہی مچائی ہے۔

غیر سرکاری تنظیم آزات فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر زاہد مینگل نے بتایا کہ سیلاب سے دو یونین کونسلوں میں 25 دیہات زیر آب آئے ہیں اور راستے بند ہونے کی وجہ سے بہت سارے علاقوں میں لوگ پھنس گئے ہیں جنھیں صاف پانی، خیموں اور راشن کی فوری ضرورت ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ ان یونین کونسلوں کی آبادی مجموعی طور پر 20 ہزار کے لگ بھگ ہے جن میں سے تین ہزار سے زیادہ افراد زیادہ مشکل میں ہیں۔

بلوچستان میں سیلاب سے تباہی

BBC

تاہم ڈپٹی کمشنر نوشکی رزاق ساسولی کے مطابق سیلابی ریلوں کے باعث ان علاقوں میں جو لوگ پھنسے ہوئے تھے ان کو نکالا جا رہا ہے جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لوگوں کو خوراک اور دیگر اشیا بھی فراہم کی گئی ہیں۔

قلعہ سیف اللہ، زیارت اور پشین کے متعدد علاقوں میں برفباری کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے بھی لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ اگرچہ سرکاری حکام کی جانب سے بڑے راستوں کو کھول دیا گیا ہے تاہم پہاڑی علاقوں میں چھوٹی سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے لوگ مشکل میں ہیں۔

پشین کے علاقے برشور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص روزی خان کاکڑ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ شدید برفباری کی وجہ سے اس علاقے میں محصور افراد کو راشن کی اشد ضرورت ہے۔

سیلاب سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اور حکام کے مطابق یہ تعداد 13 ہے جبکہ درجن بھر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پیر کو کوئٹہ میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عمران زرکون کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اطلاعات میر ظہور بلیدی نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی اور کہا کہ تمام متاثرہ علاقوں میں ریلیف کی فراہمی جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم مارچ سے قبل سیلاب سے پانچ اضلاع متاثر ہوئے تھے جن میں لسبیلہ، خضدار، آواران، کیچ اور پنجگور شامل ہیں اور ان اضلاع میں 28 ہزار سے زائد متاثرین کو ایک ماہ کے لیے راشن فراہم کیا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر متاثرہ علاقوں میں پانچ ہزار خیمے بھی دیے گئے ہیں۔

ظہور بلیدی کا کہنا تھا کہ لوگوں کے املاک اور مال مویشی کو جو نقصان پہنچا ہے ان کا اندازہ لگایا جارہا ہے اور نقصانات کا تخمینہ مکمل ہونے کے بعد بلوچستان اور وفاقی حکومت ان کے ازالہ کے لیے اقدامات کریں گی۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے جو اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں وہ اس سے قبل خشک سالی سے بھی متاثر تھے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ پہلے چند سال سے شدید خشک سالی اور اب طوفانی بارشوں سے ان علاقوں کے متاثر ہونے کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہے۔

ماہر ماحولیات فیض کاکڑ کے مطابق بلوچستان کے اکثر علاقے ماحولیاتی تبدیلی کی زد میں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ کبھی طویل عرصے تک بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی کے زد میں آتے ہیں جبکہ کبھی طوفانی بارشوں کی زد میں ۔

ان کا کہنا تھا کہ کارخانوں سے زہریلی گیسوں کے اخراج اور جنگلات کے کٹاؤ سے گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو کہ ماحولیاتی تبدیلی کا باعث بن رہا ہے ۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق کسی علاقے میں ماحول کو بہتر رکھنے کے لیے اس کا 25 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے لیکن بلوچستان میں جنگلات کا علاقہ چار فیصد سے بھی کم ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21746 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp