مغرب کے ضمیر کا امتحان: پہلا پتھر کون مارے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین معصوم سنہرے بالوں والی گلابی بچیاں سیاہ کنکریٹ کی روش پر گھر سے اٹھا کر لائے اپنے رنگوں سے دل کا خاکہ بناتی ہیں۔ خاکے کی آؤٹ لائن رنگین ہے پر بیچ میں روش کا رنگ سیاہ ہے۔ محبت بھرے دل سیاہ نہیں ہوتے۔ سیاہ دل بندوق تھامتے ہیں، جسموں پر بم باندھتے ہیں، گردنوں پر خنجر پھیرتے ہیں، اونچی عمارتوں سے نوجوان جسم نیچے پھینکتے ہیں، انہیں قتل سے غرض ہوتی ہے، سنگ ساری سے مطلب ہوتا ہے۔ بچیاں پھر اس خاکے پر جھک جاتی ہیں۔ اب ان خاکوں میں محبت کا سرخ، نیلا اور گلابی رنگ بھر دیا گیا ہے۔ سیاہ دلوں سے کوئی کہہ دے کہ یہ سب رنگ محبت کے ہیں۔ جس مٹی میں کل نفرت کے بیج بوئے گئے تھے وہاں سے محبت کی بیل پھوٹ رہی ہے۔

روش پر ایک جانب پھولوں کے ڈھیر لگے ہیں۔ ان کی خوشبو سے ہوا زلف یار کی مانند مہک رہی ہے۔ حبیب عنبر دست قافلہ در قافلہ چلے آتے ہیں۔ بارود کی بو اس مہک کے آگے ماند پڑتی جا رہی ہے۔ کوئی دیر ہے کہ یہ بو معدوم ہو جائے گی پھر ہوا کے دوش پر پھولوں کی خوشبو سفر آغاز کرے گی۔ جہاں تک پہنچے گی وہاں تک محبت کا پیغام پہنچے گا۔

شام ڈھلتے ہی اسی روش پر چراغ روشن ہوتے ہیں۔ اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو ، ایک شمع کی تھرتھراتی لو اس کا سینہ چیر ڈالتی ہے۔ یہاں تو کتنی ہی شمعیں قطار اندر قطار جگمگاتی ہیں اور عشاق کے قافلے ہیں کہ چلے آتے ہیں۔ موت کے اندھیرے سے زندگی کا نور جنم لے رہا ہے۔

یہ مسجد ہے، نمازی رب کے حضور دوبارہ سجدہ ریز ہیں کہ ان کے ایمان میں فرض کی قضا نہیں ہے پر ان کے پیچھے قطار بنائے جو عیسائی اور یہودی شہری ان کی رضاکارانہ حفاظت کر رہے ہیں ان کے روزمرہ میں انسانی فرض کی قضا نہیں ہے۔

تعزیت کے لیے مساجد اور کمیونٹی سینٹرز کے باہر ہر رنگ اور نسل کے لوگ قطار لگائے کھڑے ہیں۔ جن کے پیارے اب لوٹ کر نہیں آئیں گے ان کے غم میں شریک یہ نامانوس اجنبی چہرے اداس ہیں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اشکبار ہیں۔ ایک باریش شخص مغفرت کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو بہت سے ایسے ہاتھ اس کے ساتھ اٹھتے ہیں جنہیں یہ دعا یاد نہیں، جن کا ایمان مختلف ہے، جن کا عقیدہ کچھ اور ہے پر آج، آج انسانیت سب سے بڑا عقیدہ ہے۔ ہر شہر میں جلوس نکلتا ہے۔ اس پر پلے کارڈ اٹھائے کتنے ہی ملول چہرے ہیں۔ یہودی آج مسلمان کو اپنا عم زاد لکھتے ہیں۔ عیسائی انہیں اپنا بھائی کہتے ہیں۔ پیغام ایک ہی ہے۔ ہم تم سے ہیں اور تم ہم سے ہو۔

والعجب، یا حیرت ۔ کوئی انہیں موم بتی مافیا کہنے والا نہیں ہے۔ یہ کیسی بستی ہے جہاں تعزیت کے لیے عقیدہ پوچھنے کا رواج نہیں ہے۔ یہ کیسا نگر ہے جہاں یہودی مسلمان  خون سے اظہار عقیدت  میں سبت پر اپنے سیناگاگ بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ کونسا شہر ہے جہاں عیسائی کلیسا میں غیر مذہب کے مرنے والوں کے لیے دعائیہ سروس کا اہتمام کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ کون سا ملک ہے جہاں نظریاتی سرحدیں نہیں ہیں ، جہاں مسلک کی پرکھ نہیں ہے۔ جہاں اپنے اپنے لاشے الگ کرنے کا چلن نہیں ہے۔ لوگ بے مہر نہیں ہیں۔ مذمت، تعزیت اور افسوس میں اگر،مگر اور لیکن کے ٹانکے لگانے کا رواج نہیں ہے۔

نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ سے کئی ہزار میل ادھر میرا مسکن ہے۔ اس المیے پر یہاں بھی آہ و بکا ہے۔ لیکن مجھے اس نالہ و شیون میں نہ ہم دردی نظر آتی ہے نہ ہم دلی۔ یہاں تو کوئی اور ہی ایجنڈا ہے۔ ہمیشہ کی طرح انہیں پھر خون مسلم کسی اور ہی سبب یاد آیا ہے۔ کچھ دیر کے لیے، مغرب کو من حیث التہذیب مطعون کرنے کے لیے آج ان سب نے اپنے لاشے ساتھ ساتھ رکھ لیے ہیں۔ بشار الاسد اور جیش الاسلام کے مقتولین ایک ساتھ سجا دیے گئے ہیں۔ اردن میں پاکستانی تربیت یافتہ فوجیوں کے ہاتھوں مرنے والے بلیک ستمبر کے فلسطینی مقتولین, فلانجسٹوں کی گولیوں سے چھلنی صابرہ اور شتیلہ کیمپوں کے فلسطینی شہید اور اسرائیل کے جیٹ حملوں میں غزہ کی گلیوں میں بچھی لاشیں سب ایک صف میں لگا دی گئی ہیں۔ داعش کے ہاتھوں مرنے والے شیعہ اور حزب کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سنی، مزار شریف کے تاجک اور دشت لیلی کے پشتون لاشے بھی آج فرق کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ احمدیوں کے بارے میں البتہ اب بھی خاموشی ہے۔ پشاور اور راولپنڈی کے جلے ہوئے چرچ اور وہاں بکھری ہوئی لاشوں سے صرف نظر کر لیا گیا ہے۔ گوجرہ، جوزف کالونی اور یوحنا آباد میں اللہ اکبر کے نعروں کے بیچ گھروں کی لوٹ مار اور عیسائیوں کا قتل عام فی الحال فراموش یادوں کے البم میں رکھ دیا گیا ہے۔

یہی صالحین اور مجاہدین جو مغرب کے ضمیر کا امتحان لینے کے درپے ہیں، کل اس بات پر سیخ پا تھے کہ ملالہ کو گولی لگنا ایک ڈرامہ ہے جس کی آڑ میں طالبان کے خلاف وزیرستان آپریشن کرنے کی سازش ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں یہی طالبان کو خوش آمدید کہنے والے ترانے بنا رہے تھے۔ ان کی پارلیمنٹ اس سے پہلے صوفی محمد سے امن معاہدہ کرنے کو مری جا رہی تھی۔ ان کے رہنما بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کو شہید لکھ رہے تھے۔ منگل باغ کے گلے میں ہار ڈالنے والے بھی انہی کے ممدوح تھے۔ وہ تو اے پی ایس کا سانحہ ہو گیا کہ ان کے منہ پر مہر لگی وگرنہ آج یہ شاید طالبان کو اقتدار سونپنے کے لیے ریلیاں نکال رہے ہوتے۔

احمدیوں نے اپنی عبادت گاہ سے سو مقتولین اٹھائے۔ ابھی فضا میں بارود کی بو مدھم نہ ہوئی تھی کہ شہریوں کے وہ تبصرے قومی چینلوں پر نشر ہونے لگے جہاں یہ کہا جا رہا تھا کہ احمدیوں کو ان کی سازشوں کا پھل ملا ہے۔ یہ ہیں ہی واجب القتل۔ ایک سابق وزیراعظم غم کی اس گھڑی میں تعزیت کرنے پہنچے تو ان کے منہ سے نکل گیا کہ احمدی ہمارے بھائی ہیں۔ سب کو سو لاشیں بھول گئیں اور بازار کے بیچ منتخب نمائندوں کے ایمان کو ماپنے کی ترازو نصب کر دی گئی۔ سب نے کان لپیٹ لیے۔ گزرے آٹھ سالوں میں قاتل ماسٹر مائینڈز کا سراغ تو کیا ملنا تھا الٹا احمدیوں پر زمین مزید تنگ کر دی گئی۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 147 posts and counting.See all posts by hashir-irshad