تبدیلی ہنوز دور است

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیاپاکستان بنانے والے پرانے پاکستان میں فاتحین کی صورت داخل ہوئے۔ رعونت کاعالم۔ اللہ کی پناہ۔ حضور کا اقبال بلند ہو کے نعرے۔ مخالفین پر سکتہ طاری۔ جوش سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ غیض و غضب لہجوں سے چھلک رہاتھا۔ بڑے بڑے سیاسی بت پاش پاش ہوچکے۔ دشمنوں پر انتقام کی تلوار لٹکنے لگی۔ انصافی بِچھے بچھے جارہے۔ پرانے سیاسی درباری نئے آنے والوں کے قصیدے پڑھنے لگے۔ نئے پاکستان کے نئے حکمرانوں کا جاہ وجلال۔ اللہ اللہ۔ !

نئے پاکستان والوں نے پرانے پاکستان کے باسیوں کو نجانے کیا کیاخواب دکھائے، 200 ارب ڈالرملک لانے کاوعدہ، ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر بنانے کا عندیہ۔ وزیر اعظم ہاوس کو یونی ورسٹی میں ڈھال دیا جائے گا۔ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے گا۔ انقلابی اقدامات کے سحر میں عوام کوجکڑ دیاگیا۔ اوورسیز پاکستانی وطن واپس پاکستان کو اپنا مسکن بنائیں گے۔ غیرملکی روزگارکے لیے پاکستان سکونت اختیار کریں گے۔ سیاح ملک کے دلفریب نظارے دیکھنے دنیا بھرسے کھنچے چلے آئیں گے۔ انڈے مرغی سے معیشت کو سہارادیاجائے گاوغیرہ وغیرہ۔ مگر۔ ذرا ٹھہرئیے۔ اس طلسماتی دنیا سے باہر آکرکیوں نہ حقیقت کاسامناہوجائے۔

فاتحین نیا پاکستان نے آتے ہی پرانے پاکستان میں جاری و ساری منصوبوں کا افتتاح کرنا شروع کردیا۔ ان منصوبوں پراپنے ناموں کی تختیاں لگانی شروع کر دیں۔ جن ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت میں کنٹینرز سے غیض وغضب سے بھرپور تقاریر کی جاتی رہیں اب ان کے فوائد گنوانا شروع کر دیے گئے۔ جو پراجیکٹ و پلانٹ اپوزیشن میں رہتے ہوئے عمران اینڈ کمپنی نے حرام قرار دیے تھے انھیں نئے پاکستان میں حلال قرار دے دیا گیا۔ تھر کول، لیپ ٹاپ، اورنج ٹرین وغیرہ اس کی مثال ہیں۔

حکومت عمرانیہ کی دگرگوں معیشت کی تازہ جھلکیاں بھی حاضر خدمت ہیں۔ صورت حال اب کچھ یوں ہے کہ نئے پاکستان کی پرانی معیشت مہنگائی کے طوفان میں ہچکولے کھاتی دکھائی دے رہی ہے۔ ڈالر کی پرواز اقبال کے شاہین کو مات دے چکی۔ عالمی منڈی میں تیل سستا اورنئے پاکستان میں مہنگا۔ پٹرول بم شہریوں پر برس رہے ہیں، سوئی گیس بجلی کے بل اپنے بِلوں سے نکل نکل کر عوام کو ڈس رہے ہیں۔ بجلی غائب ہے۔ گیس غائب ہے۔ حکومت عمرانیہ نے افراط زر کا گراف آسمان تک پہنچا دیا ہے۔

موجودہ دور حکومت میں ہر چیز تاریخ میں پہلی بار ہورہی ہے جوخود ایک تاریخ ہے۔ بازارسونے پڑ چکے، اسٹاک ایکسچنج میں کاروبار ٹھپ، کئی لوگ کاروبارسمیٹ کر پاکستان سے روانہ ہوچکے۔ میڈیا جو ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ تھی اس کوبھی جان بوجھ کر تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا گیا۔ عالم یہ ہے کہ ہزاروں صحافی بے روزگار ہوچکے۔ نئے طلبا و طالبات جو میڈیا سائنسز میں اعلی تعلیم حاصل کررہے اور جن کے والدین لاکھوں روپے فیس دے چکے ان کے مستقبل پربھی تبدیلی سرکار نے سوالیہ نشان لگادیا۔ تباہ حال میڈیا انڈسٹری میں اب کون جا کر ملازمت کرے گا جن کے برسرروزگار صحافیوں کو کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔

”ہم انڈے دیں گے، مرغی دیں گے“ سے معیشت کا آغاز کرنے والوں کو یہ بھی بتاتے چلیں یہ اسکیم بھی بری طرح ناکام ہوچکی، مرغی کے گوشت کے بھاؤ بھی بلند سطح پر پہنچ کر عوام کا منہ چڑا رہے ہیں۔ سونے چاندی کے بھاؤ کی تو بات ہی نہ کریں حضور۔ وہ تو شاید غریب کی سکت سے کوسوں دور ہوچکے۔ کیا کیجئے۔ یہ ملک کی عمومی صورت حال ہے۔ اس حکومت سے جو امیدیں تھیں وہ دھیرے دھیرے مایوسی میں بدلتی جارہی ہیں۔ سارے انقلابی نعرے اور معیشت کے اشاریے منفی۔

اور یہ ان کے لئے جو کہتے ہیں کہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (FDI) نئے پاکستان میں گری ہے تو کیا ہوا، ابھی صرف 7 ماہ ہوئے ہیں! نواز شریف کے 2013 میں اقتدار میں آنے کے سو دن میں FDI میں 101.2 فیصد اضافہ ہوا تھا، کپتان کے نئے پاکستان میں ان 8 ماہ میں 22 فیصد کمی ہوئی۔ ابھی تو ہم نے گزشتہ حکومت سے موجودہ حکومت کی کارکردگی کا تقابل نہیں کیا۔ یقین مانیے۔ صفحات کے صفحات کالے ہوجائیں گے۔

تو صاحبو! اب تک حکومت عمرانیہ آٹھ ماہ عبور کر کے نویں میں جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ نہ 200 ارب ڈالر واپس آئے نہ جھیل والا ڈاکٹر۔ پشاور کی میٹرو سفید ہاتھی بن کر کھربوں کھا کر بھی بھوکی بیٹھی ہے، مہنگائی کا دیو بے قابو دندناتاپھر رہا ہے۔ عوام خوف سے دل پکڑ کر بیٹھے ہیں۔ انڈے ٹوٹ گئے۔ مرغی بھاگ گئی، معیشت اپنے آپ کو ڈوبتا دیکھ رہی ہے اور تبدیلی ہنوز دور است۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •