فکری جمود اور دانشوران خود معاملہ

مسلم سماج انتشار فکر کا شکار ہے، اسے فکری یکسوئی کی ضرورت ہے۔ سوال اب یہ ہے کہ جو حضرات علم و فکر کی مسند پر براجمان ہیں کیا ان میں اتنی استعداد اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ ہم طالب علموں کی اس باب میں کوئی رہنمائی کر سکیں؟ نیم خواندہ معاشرے کے حسن کمالات قوس قزح کے رنگوں جیسے ہوتے ہیں، تنوع ہی تنوع ۔

یہاں کالم نگاروں اور اینکروں کے سر ’ صاحب دانش‘ کی تہمت ہی نہیں دھری جاتی ، یہاں تیسرے درجے کا ایک غیر معروف شاعر بھی بیک وقت محقق، مفکر ، نقاد ، ادیب اور شاعر کے عہدوں ہر فائز ہوتا ہے۔ جس کے علم و فضل کا کوئی سرا اس کے چاہنے والوں کے ہاتھ بھی نہ آ سکے اسے ’ منفرد لہجے ‘ کا شاعر کہہ دیا جاتا ہے۔

کتاب ، علم اور تحقیق سے بے گانگی کے عمومی ماحول میں سماج فکری رہنمائی کے لیے جن آسان ذرائع سے رجوع کرتا ہے ان میں اخباری کالم اور ٹی وی ٹاک شوز سر فہرست ہیں۔ اسی کی دہائی میں ، اس طالب علم نے بھی عصری سیاست کو سمجھنے کے لیے اخباری کالموں ہی سے فیض پایا تھا۔

اس عہد کی عصری اور بین الاقوامی سیاست کے کردار قصہ ماضی بن کر تاریخ کے صفحات میں رقم ہو گئے ، دنیا کا جغرافیہ بدل گیا لیکن علم وفضل کی مسند پر بیٹھے قوم کے فکری رہنما اپنے سارے فکری ضعف کے باوجود آج بھی پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ابھی تو ہم جوان ہیں بلکہ ہم نہ ہوتے تو پتا نہیں اس قوم کا شعوری ارتقاء کیسے ہو پاتا۔

ایسا نہیں کہ سبھی نے مایوس کیا،تاہم ایسے حضرات کی بھی کمی نہیں جو بطور کالم نگار عشروں پہلے مرحوم ہو چکے ۔ اس وقت ان کا واحد کنٹری بیوشن یہ ہے کہ ادارتی صفحات پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور نئے لکھنے والوں کے لیے جگہ خالی کر دینے کی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہیں۔

میرے جیسا طالب علم وہ شجاعت اور ہمت کہاں سے لائے کہ ان کے کالم پڑھ سکے، کبھی پڑھ بھی لیا جائے تو میں اور میری کم علمی ہاتھوں میں ہاتھ دیے گھنٹوں سوچتے رہتے ہیں کہ صاحب نے لکھ تو دیا لیکن صاحب کہنا کیا چاہتے تھے؟

دنیا لمحہ لمحہ تغیر کا نام ہے۔ یہ تغیر علم و فکر کی دنیا میں بھی رونما ہوتا ہے ۔ندرت خیال اور ارتقاء اسی تغیر کا ایک منطقی نتیجہ ہے۔ہمارے ہاں لیکن بالعموم ایک جمود کا سا ماحول ہے۔بین الاقوامی سطح پر فکر کی دنیا میں کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں، کن موضوعات پر لکھا جا رہا ہے ، کون سے فکری موضوعات پر کام ہو رہا ہے ، علم کی دنیا کے مباحث کیا ہیں، دنیا کیا سوچ رہی ہے ، ان اور ان جیسے موضوعات سے ایک عمومی بے گانگی کی کیفیت ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔

چند اقوال زریں ہجو کے دو فقرات اور تحسین کے دو سطحی جملوں سے اگر کام چل سکتا ہو تو علم اور تحقیق کا بھاری پتھر کون اٹھائے۔ کچھ وہ ہیں جو کالم کے نام پر تعلقات عامہ کا علم لہرائے چلے جا رہے ہیں ، چند ایسے ہیں جو بیرون ملک اپنے مشاعروں کی روداد اس خبط عظمت سے بیان فرماتے ہیں گویا ان رجال کار کی یہ سرگرمیاں قلم بند نہ ہو سکیں تو نسل نو ایک فکری سرمائے سے محروم رہ جائے گی۔

ایسے بھی ہیں جو جالب کے مشورے پر عمل پیرا ہیں اور قلم سے ازار بند ڈالنے کا کام لے رہے ہیں۔پاپولر جرنلزم کا آزار اس سے سوا ہے۔مغرب کو گالیاں نہ دی جائیں تو جذبہ حریت کی سند کہاں سے ملے؟ایسے گداگران سخن بھی ہیں جو قلم سے اہل سیاست کی پریس ریلیز لکھتے ہیں۔ ندرت خیال اب کہاں سے آئے ، بعض کالم نگاروں کی مقبولیت کا تو عالم یہ ہے کہ ان کا نام لے لیجیے ، عام سا قاری بھی بتا دے گا کس نے کیا لکھا ہو گا اور کس کے خلاف لکھا ہو گا۔

رائے پہلے قائم کر کے ا س کے حق میں دلائل ڈھونڈنے کی چاند ماری کو اب کون علم و فکر کے باب میں لکھے؟فکری دیانت تو یہ ہے کہ غوور و فکر پہلے کیا جائے اور اس کی روشنی میں رائے قائم کی جائے۔خبط عظمت کا عالم یہ ہے کہ کبھی گندم کی فصل اچھی ہو جائے تو وہ بھی سینئر کالم نگار کے تجزیوں کا اعجاز قرار پاتی ہے۔

یہی معاملہ ٹی وی شوز کا ہے۔ چند اینکرز ہیں جو دنیا بھر کے امور کے ماہر ہیں۔معیشت پر یہ اتھارٹی ہیں، عصری سیاست بھی ان کی انگلیوں پر ہے، امور خارجہ تو ان کا پیر ہن ہے، دفاعی امور میں ان سے بڑا ماہر کسی ماں نے جنا ہی کب ہے۔گفتگو کا معیار دیکھیے تو اس کا حاصل صدمے کے سوا کچھ نہیں۔

مستثنیات یہاں بھی موجود ہیں مگر عمومی منظر نامہ یہی ہے۔مکالمے کا کلچر تباہ کر دیا گیا ہے۔ سنجیدہ گفتگو کے ذوق سے محرومی کا آزار بڑھتا جا رہا ہے۔ جو جتنا زیادہ بد زبان اور بد تمیز ہو گا ، شنید یہ ہے اس کی ریٹنگ زیادہ آئے گی۔ اب آپ ہی بتائیے اس رویے کا علم کی دنیا میں کیا اعتبار؟ نیم خواندہ سماج نے کمال یہ کیا کالم نگار اور اینکر کے نام ’’ اہل دانش ‘‘ کی تہمت بھی دھر دی۔جامعات اور علم و تحقیق کے متعلقہ اداروں کے ماہرین اجنبی ہوتے چلے گئے اور اینکر اور کالم نگار جملہ امور کے ماہر بن گئے۔

حکمران بھی ان سے مشاورت کرتے ہیں۔ انہیں مشورہ چاہیے ہی کب ہوتا ہے، انہیں چائے کے کپ کے عوض اپنے فضائل کا ابلاغ درکار ہوتا ہے ۔اہل علم کے لیے ہمارا ماحول اجنبی ہوتا جا رہا ہے اور شعبدہ باز اور سطحی سوچ کے حامل یہاں سکرین کے بل بوتے پر ’ دنیا کے سب سے بڑے مذہبی سکالر‘ کے مرتبے پر خود فائز ہو جاتے ہیں۔

سماج اگر اس فکری جمود سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے علم و فکر سے رشتہ جوڑنا ہو گا۔ادب کی بات ہے تو کسی ادیب سے کیجیے ، امور خارجہ ہیں تو کسی منجھے ہوئے سفیر یا آئی آر کے کسی کہنہ مشق پروفیسر کی سنیے اور اپنے تعلیمی اداروں کو طلباء سیاست کی آلودگی سے بچا کر علم و فہم کا مرکز بنائیے ۔

کالم نگار اور اینکر کی بھی اس علمی سفر میں ایک اہمیت ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔گذارش صرف اتنی ہے کہ فکری زمام ان کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔چیزوں کا مقام اور ترتیب اگر درست نہ ہو تو اسی کو ظلم کہا جاتا ہے اور ہم طویل عرصے سے ظلم کا ارتکاب کرتے آ رہے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو