نیوزی لینڈ کو دیکھ کر دہشت گردوں کو کچھ تو شرم آنی چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نائن الیون کے بعد یورپ کے جس ملک نے دہشت گردوں کے ہاتھوں سب سے زیادہ زخم کھائے وہ فرانس ہے۔ مارچ 2012 میں فرانس کے جنوبی شہر میں مسلم شدت پسند تنظیم کے ایک جنگجو محمد مراح نے فائنرنگ کرکے سکول کے تین طلبہ، ایک ربّی اور تین فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ نومبر 2015 میں فرانس کے دارالحکومت اور دنیا کے خوبصورت ترین شہر پیرس کے چھ مقامات دھماکوں سے گونج اٹھے۔ دولت اسلامیہ کے انسان دشمن درندوں نے ریستورا نوں، پبلک مقامات، پارکوں اور فٹ بال اسٹیڈیم میں میچ دیکھتے پر امن شہریوں کو سفاکی سے نشانہ بنایا۔

130 افراد ہلاک اور ان گنت زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل پیرس اسی سال جنوری میں بھی متنازع کامک رسالے چارلی ایبڈو کے دفتر اور ایک یہودی سپر مارکیٹ میں شدت پسندوں کے حملوں سے 17 افراد لقمہء اجل بن گئے تھے۔ جولائی 2016 میں فرانس ہی کے شہر نیس میں ایک جنونی نے 84 افراد کو ٹرک تلے روند ڈالا تھا۔ صرف فرانس ہی نہیں نائن الیون کے بعد یورپ کے دوسرے ممالک بھی بم دھماکوں، فائرنگ اور دہشت گردی کے واقعات سے لرزتے رہے۔

مثلاً جولائی 2011 میں ناروے کے شہر اوسلو میں فائرنگ کے واقعات میں 77 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ مئی 2014 اورمارچ 2016 میں بلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں دہشت گردی کے واقعات میں 38 سے زائد افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے۔ برادر اسلامی ملک ترکی بھی دہشت گردی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ مارچ اور جون 2016 میں استنبول اور کیزلے میں دہشت گردی کے سانحات میں 80 کے قریب ہلاکتیں اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ اسی طرح دسمبر 2016 میں جرمنی کے دارالحکومت برلن، اپریل 2017 میں سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم اور مئی 2017 میں برطانیہ کے شہر مانچسٹر اور جون 2017 میں لندن میں دہشت گردی کے سانحات میں سیکڑوں افراد جان سے گئے۔

اس سے قبل لندن میں 2005 میں بسوں اور ٹرینوں کے سٹیشنوں میں ہونے والے یکے بعد دیگرے کئی خود کش حملوں کو کون بھول سکتا ہے جسے برطانیہ کا 9 / 11 کہا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی یورپی ممالک میں بے شمار چھوٹے بڑے دہشت گردی کے واقعات میں اہل مغرب نے لاتعداد لاشیں اٹھائی ہیں۔ اگران افسوسناک واقعات کے محرکات کا جائزہ لیا جائے تو ان کے پسِ پردہ یہی عوامل دکھائی دیتے ہیں کہ دہشت گرد اپنے ناقص فہمِ دین کی وجہ سے اپنا دین زبردستی دوسروں پر مسلط کرنا اپنا دینی حق سمجھتے ہیں۔

وہ ملکوں کی سرحدوں کے تقدس کو نہیں مانتے۔ سارے عالم پر اسلام کے غلبے کا نعرہ لگا کر ہر جگہ اسلامی جھنڈا لہرانا چاہتے ہیں چاہے اس کے لیے انہیں لاکھوں بے گناہوں کو قتل کرنا پڑے۔ ان کا ہیرو فنونِ حرب سے مزین ایسا جنگجو نوجوان ہے جو آنکھوں میں خون لیے شمشیر بکف ہر وقت کشتوں کے پشتے لگانے کے لیے تیار رہتا ہے۔ وہ اپنے عقیدے اور نظریے کو بزور شمشیر نافذ کرنے پر مصر ہے۔ مکالمے کے مقابلے میں مقاتلے اور مجادلے کا قائل ہے۔

جس یورپ نے ان انتہا پسندوں کو امن، روز گار، تعلیم اور خوشحالی سے نوازا آج اسی کا سکون تباہ کر نے پر تلے ہیں۔ اس کے باوجود یورپین اور مغربی ممالک اپنے ہاں آباد تارکین وطن کو اس قدر عزت دیتے ہیں کہ بس ڈرائیوروں کے بیٹوں کو ووٹ کے ذریعے پارلیمنٹ میں پہنچا دیتے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں مخصوص ذہنیت اور افتاد طبع کے حامل اساتذہءکرام نوخیز ذہنوں کو یہود و نصاریٰ کی سازشوں اور مکار ہندو بنیے کی کارستانیوں اور فریب کاریوں سے آگاہ کرنا اپنا دینی و ملی فرض سمجھتے ہیں۔ ادھر شاعر مشرق یہ کہہ کر یہود و ہنود سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

اور بعد میں رہی سہی کسر ہمارے بیشتر متعصب اور تنگ نظر شارحین، مفسرین اور ماہرین اقبال پوری کردیتے ہیں۔ مگر آگے چل کر یہی طلبہ جب سرکاری و درباری تاریخ کی جگہ حقیقی تاریخ سے آشنا ہوتے ہیں تو یہ جان کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کہ مکر کی چلتی پھرتی آندھی یعنی موہن داس کرم چند گاندھی تو اس قدر مسلمانوں کو عزیز رکھتا تھا کہ جب اسے پتہ چلا کہ تقسیم ہند کے اعلان کے بعد ہندو اور سکھ ہندوستان میں شامل ہونے والے علاقوں میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں تو وہ تڑپ اٹھا۔

اسے بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں شامل ہونے والے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی تو مسلمان ہندوؤں کو بے دردی سے تہ تیغ کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں مکر کی اندھی آندھی نے یہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ اگر پاکستان میں بسنے والے تمام ہندو قتل کردیے جائیں پھر بھی ہندوستان میں کسی ایک مسلمان کے قتل کا جواز بھی نہیں نکلتا۔

اگست 2017 میں آسٹریلیا کی ایک خاتون سینیٹر پولین ہینسن جب سینیٹ میں اس مقصد کے لیے برقع پہن کر آتی ہے تاکہ برقع کو سکیورٹی رسک قرار دے کر اس پر پابندی لگوائی جاسکے تو عیسائی اٹارنی جنرل جارج برینڈس اسے کھری کھری سناتے ہوئے اس کے اس قبیح عمل کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف قرار دیتا ہے۔

جس پر خاتون سینیٹر اپنا سا منہ لے کے رہ جاتی ہے۔ یہ تو ابھی کل کی بات ہے کہ کینیڈا میں جب ایک پارلیمنٹیرین نے مسلمان تارکینِ وطن پر اعتراض اٹھایا تو کینیڈین وزیراعظم نے مسلمانوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا تو بنایا ہی تارکین وطن نے تھا، آپ کون ہوتے ہیں انہیں نکالنے والے؟ نیوزی لینڈ سانحے کے بعد پوری مغربی دنیا جس مثالی طریقے سے مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کر رہی ہے اسے دیکھ کر مسلم دہشت گردوں کو کچھ تو شرم آنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •