عراق: موصل میں کشتی ڈوبنے سے 80 افراد ہلاک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Aftermath of Mosul ferry sinking

Reuters

عراق کے شہر موصل میں دریائے دجلہ میں ایک کشتی ڈوبنے سے تقریباً 80 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

موصل کے شعبہِ شہری دفاع کا کہنا ہے کہ کشتی کے زیادہ تر مسافر تیراکی نہیں جانتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس کشتی پر تققریباً 200 افراد سوار تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ نئے سال کی تقریبات کے سلسلے میں یہ کشتی ایک سیاحتی جزیرے کی جانب جا رہی تھی۔

وزیراعظم عدل عبدل مہدی نے اس واقعے کی تفتیش کا اعلان کیا ہے تاکہ ’ذمہ داران کا تعین‘ کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

دولت اسلامیہ کو مکمل شکست دے دی ہے: عراق کا دعویٰ

’دولتِ اسلامیہ نے موصل میں 741 لوگوں کو قتل کیا‘

دولت اسلامیہ کو مکمل شکست دے دی ہے: عراق کا دعویٰ

وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ شدید درد اور غم کے ساتھ صورتحال کا جائمہ لے رہے ہیں اور انھوں نے بچ جانے والوں کے لیے تمام تر ریاستی وسائل بروکار لانے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعظم نے ملک میں تین روز کے سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی عراق کے حوالے سے خصوصی ایلچی جنین ہینس پلاسچارٹ نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکام نے دریا میں پانی کی ابھرتی ہوئی سطح کے بارے میں خبردار کیا تھا کیونکہ موصل ڈیم کے گیٹ کھول فیے گئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے کشتی چلانے والی کمھنی پر الزام لگایا کہ اس نے حکام کی تنبیہ کو نظر انداز کیا۔

سوشل میڈیا پر الٹی ہوئی اس کشتی کی تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔ جائے وقوع پر طبی عملہ اور ریسکیو اہلکار دیکھا جا سکتا ہے۔

تاہم مقامی اخبار موصل آئی کے مطابق سیکیورٹی فورسز صحافیوں کو اس واقعے کی تفصیلات حاصل کرنے سے روک رہی ہیں اور کچھ کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

Aftermath of Mosul ferry sinking

Reuters
جائے وقوع پر طبی عملہ اور ریسکیو اہلکار دیکھا جا سکتا ہے۔
Aftermath of Mosul ferry sinking

Reuters
اب تک درجنوں افراد کو پانی سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔
Tourist island near Mosul

Reuters
کہا جا رہا ہے کہ نئے سال کی تقریبات کے سلسلے میں یہ کشتی ایک سیاحتی جزیرے کی جانب جا رہی تھی۔

اطلاعات کے مطابق یہ کشتی ام رابن جزیرے کی جانب روانہ تھی جو کہ موصل کے وسط سے تقریباً 4 کلومیٹر دور ایک سیاحتی مقام ہے۔ خطے بھر میں لوگ کردش نئے سال نوروز کے سلسلے میں تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔

2014 میں موصل دہشتگرد تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں تھا اور اس کا غیر اعلانیہ دارالحکومت بھی بن گیا تھا۔ نو ماہ کی طویل لڑائی کے بعد اسے جولائی 2017 میں آزادف کروایا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12818 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp