فقہائے کلیسا و حرم اتنے بے یقین کیوں ہیں؟

ستمبر دو ہزار پندرہ عیسائی مذہب کے سب سے بڑے روحانی پیشوا پوپ جان پال کی امریکہ آمد تھی۔ سرکاری سطح پر ان کے شایانِ شان استقبال کے لئے تیاریاں کی گئیں۔ دو ہفتے قبل ہی ان کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت مامور خصوصی حفاظتی دستہ، مختص طیارے سے امریکہ پہنچا، پوپ کی حفاظت اور روٹ کی مشقیں ہونے لگیں۔ آقائی کی آمد تھی، امریکہ کے تمام سیکیورٹی ادارے بھی خاصے پھرتیلے نظر آئے تاکہ سیکیورٹی میں کسی قسم کی کوئی کمی یا کوتاہی نہ رہ جائے۔

پوپ نے امریکہ میں اپنے پیروکاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرنا تھا۔ پوپ کی آمد کے دن عوام کے لئے شاہراہیں بند کردی گئیں، اجتماع میں برقی آلات، حتیٰ کہ سیلفی اسٹیک پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اجتماع شروع ہوا، پوپ نے اپنے خطبے کے سرنامے کے لئے اس آدیش کوچنا ”خدا ئے ذولجلال نے ہمیں تخلیق کیا ہے اور اسی کے طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے، وہی پیدا کرنے اور مارنے کی قدرت رکھتا ہے“

پوپ کی حفاظت کا مقدس فریضہ گزشتہ پانچ سو برس سے قائم سوئز فورس کا چوکس دستہ اپنے ذمے لئے ہوئے ہے۔ جس ملک میں بھی قدم رنجہ فرمائیں، سوئز فورس کے ایک سو پچاس جوانوں کا مسلح دستہ ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ با ایں ہمہ، دیگر ادارے بھی حرکت میں نظر آتے ہیں۔

اب ذرا اپنے گھر کی طرف نظر کریں، داتا کی نگری میں شاہراہیں سُونی پڑیں ہیں، خلق ِ خدا کو کوسوں دور جانے کی واضح ہدایت جاری کی جاتی ہیں، ریاستی ادارے متحرک ہیں، مسلح پہرے دار جابجا کھڑے ہیں۔ فضا میں سائرن کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ سرکاری گاڑیوں کی آمد کا طویل سلسلہ شروع ہوتا ہے، لگ بھگ تیس گاڑیاں فراٹے بھرتی، برق رفتاری سے نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہیں۔ قصہ کیا ہے؟ پتا چلتا ہے یہ امتِ مسلمہ کے دور حاضر کے امام کی آمد تھی۔

امتِ مسلمہ کے سر کے تاج امام کعبہ کی حرم میں تشریف آوری ہو یا کسی ملک کی زمین ان کی قدم بوسی کرے تب بھی، بیک وقت مخصوص لباس میں مسلح حفاظتی اہلکار اور بم پروف گاڑیاں ہمراہ ہوتی ہیں۔ حرم میں ان کا خطبہ ہو یا دعا ایک بات آپ بھی بہت واضح فرماتے ہیں کہ بے شک سب کو لوٹ کر اپنے رب کی طرف جانا ہے اور زندگی موت کا مالک ایک ہی رب ہے۔

ہمارے معاشرے میں بھی آپ کو خدا کی وحدانیت سمجھانے والے، صبح و شام، خدا کے قادر و مطلق ہونے اور زندگی موت کا مالک کے نوشتے سنائے والے، خود مریدین کے جلو میں، سرکاری اہلکاروں اور نجی حفاظتی اہلکاروں کے جمِ غفیر، مع بم پروف لینڈ کروزر گاڑیوں میں فاصلہ طے کرتے ہیں۔ گولڑہ شریف کے موجودہ پیر ہوں، مولانا طارق جمیل، کسی بزرگ آستانے کے گدی نشین یا علمائے دین ہوں، تمام کے تمام منصبِ آقائی پر براجمان، بھرپور پروٹوکول کے ساتھ رواں دواں ہوتے ہیں۔

کل شرعی عدالت کے سابق جسٹس، مفتی تقی عثمانی پر حملہ ہوا تو ایک نوجوان پولیس محافظ اپنی جان ہار گیا۔ دل ایک ہی خیا ل میں گھرا ہوا ہے کہ خلق کو زندگی اور موت پر توکل بخدا کے آدرش دینے والے، فقہا ئے حرم و کلیسا خود اتنے بے یقیں کیوں ہیں؟