اپنے سوہنے رب سے ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کالم نگار کی تاریخ پیدائش بزرگوں نے 29 فروری 1948 بتائی۔ ان دنوں بٹوارے کو ابھی صرف چھ ماہ ہوئے تھے۔ لوگ ابھی اتنے سنبھلے کہاں تھے کہ ایک مہاجر کنبہ اپنے بچے کی تاریخ پیدائش یاد رکھتا۔ لیپ کا سال تھا اور فروری کی 29 تاریخ، اسی لئے انہیں صحیح تاریخ یاد رہ گئی ہوگی۔ بہر حال کالم نگار امسال فروری ختم ہونے پر بہترویں برس میں داخل ہو گیا ہے۔ فیس بک پر ہمارے مرشد پروفیسر فضل حسین کے عزیز ریٹائرڈ سیشن جج اسد رضا بھی اس سال 12مارچ کو اپنی عمر کے اکہتر برس پورے ہونے کی اطلاع دے رہے ہیں۔ ان کی وال پر ملتان سے ڈاکٹر انوار احمد نے لکھا۔ میں آپ سے پہلے ہی اکہتر برس کا ہو چکا ہوں۔ اس طرح میں آپ سے بڑا ہوں۔ اردو ادب کے یہ استاد کالم نگار اور چوہدری اسد رضا سے عمر میں چھوٹے ہیں یا بڑے، یہ سوال بے معنی ہے۔ علم اور مرتبے میں البتہ وہ اتنے بڑے ہیں کہ ان سے صرف رشک اور حسد ہی کیا جا سکتا ہے۔ کالم نگار خطوط غالب پڑھتا ہے تو اللہ کا شکر بجالاتا ہے۔ مرزا غالب ایک خط میں لکھتے ہیں :”اب ایک کم ستر برس کی عمر ہے۔ کانوں سے بہرا ہو گیا ہوں۔ بغیر لاٹھی کے چل نہیں سکتا۔ تکیہ یا دیوار کے سہارے کے بغیر بیٹھ نہیں سکتا“۔ اسی زمانہ کے ایک اور خط میں لکھتے ہیں :”حواس کھو بیٹھا۔ حافظے کو رو بیٹھا۔ اگر اٹھتا ہوں تو اتنی دیر میں اٹھتا ہوں کہ جتنی دیر میں قد آدم دیوار اٹھے “۔ اس بیان میں کچھ شاعرانہ مبالغہ بھی ہوگا۔ لیکن مرزا غالب کو ”گوڈوں“کا مسئلہ بھی درپیش ہو سکتا ہے۔ وہ اسے محض اپنے کسی مربی کو خوش کرنے کو ہی کہہ سکتے تھے:

تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے

لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور

ورنہ اس زمانہ میں انسانی اعضا کی تبدیلی ممکن نہیں تھی۔ اگر ایسا ممکن ہوتا بھی تو مرز اغالب کا مداح انہیں نقد ادائیگی ہر گزنہ کرتا۔ وہ خوب جانتا ہوگا کہ مرزا غالب ’گوڈے‘ بدلوانے کی بجائے، سال چھ مہینے کی شراب کے اسٹاک کو ترجیح دیں گے۔ خطوط غالب میں کہیں ادویات کا ذکر نہیں ملتا۔ البتہ اس سستے زمانے میں جب خالص دیسی گھی ایک روپے میں ڈیڑھ سیر ملتا تھا۔ مرزاغالب پانچ روپوں کی روزانہ ولایتی شراب پیتے تھے۔ وہ ہر گوبند سہائے کے نام خط میں کاس ٹیلن اور یک اولڈ ٹام، دو انگریزی شرابوں کا ذکر بڑی رغبت سے کرتے ہیں۔ جبکہ دیسی شراب کو گڑ چھال کہہ کر اس سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اہل ذوق کہتے ہیں کہ شراب کیلئے دنیا بھر کی زبانوں میں سب سے موزوں لفظ پنجابی زبان میں ہے۔ پنجابی میں شراب کو ”دارو“کہا جاتا ہے۔ داروکے معنی دوائی کے بھی ہیں۔ اب پانچ روپے کا ”دارو “روزانہ پینے والے کے حالات، اطمینان اور صحت سن لیجئے :۔

غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس

برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم

ادھر کالم نگار کو زیست کرنے کیلئے دارو نہیں، اصلی ’دوا دارو‘ درکار ہے۔ اندھیر نگری چوپٹ راج۔ ن لیگی دور میں میڈیسن کنٹرول کے محکمہ کا سربراہ پی ایچ ڈی کی جعلی ڈگری والا نکلا۔ اس نے ادویات کی قیمتیں بہت بڑھا دی تھیں۔ اب ’تبدیلی والے‘ بہت ڈھونڈ ڈھانڈ کے کوئی اصلی ڈگری والا افسر لائے ہیں۔ لیکن ادویات کی قیمتیں بڑھانے میں یہ بھی پہلے والے سے کچھ کم نہیں۔ کالم نگار علی الصبح اللہ رسول کے ذکر سے فراغت پا کر  Revolizer میں ایک کیپسول ڈال کر زور زور سے دو تین سانس کھینچتا ہے۔ یہ کالم نگار کی تیس سالہ سگریٹ نوشی کا اجر ہے۔ پروفیسر عاطف کہتے ہیں کہ اس طرح پھیپھڑے ٹھیک نہیں ہوتے، بس ٹھیک رہتے ضرور ہیں۔ کالم نگار کی سگریٹ نوشی اختر شیرانی کی شراب نوشی سے کسی طور کم نہ رہی۔ اختر شیرانی کی سنیں:

حد ہے پینے کی کہ خود پیر مغاں کہتا ہے

اس بری طرح جوانی کو نہ برباد کرو

کالم نگار کو بھی سگریٹ فروشوں سمیت سبھی نے سمجھایا۔ ’اس بری طرح جوانی کو نہ برباد کرو‘۔ اس کے بعد کالم نگار اپنے شہر کے معروف ہارٹ فزیشن ڈاکٹر محمد اصغر کے نسخہ کے مطابق ناشتہ کے بعد چھ گولیاں پھانکتا ہے اور پانچ گولیاں شام ڈھلے۔ ایک ایک قطرہ صبح شام دونوں کانوں میں، ENT اسپیشلسٹ ڈاکٹر اویس کی ہدایت کے مطابق۔ پچھلے ہی دنوں پروفیسر عمران اکرم سے اپنی دونوں آنکھوں میں لینز ڈلوائے ہیں۔ دونوں آنکھوں میں ہر چار اور چھ گھنٹوں بعد دوائی ڈالنی پڑتی ہے۔ کالم نگار لینز کے موجد کو دعا دیتا ہے ورنہ آنکھیں بنوا کر آنکھوں پر محدب عدسہ جیسے موٹے موٹے شیشوں کی عینک لگ جاتی تھی۔ اردو کی بیباک ادیب عصمت چغتائی برسوں بعد اپنے محبوب کزن سے ملنے ہندوستان سے کراچی پہنچی۔ اس بیچارے کی بنی ہوئی موٹی موٹی خوفناک آنکھیں دیکھ کر چیختی ہوئی وہاں ٹھہرے بغیر بھاگ آئی۔ یقینا اسے اس سمَے اپنا خیال آگیا ہوگاکہ چند برس بعد آپریشن کروا کر میری آنکھیں بھی ایسے ہی ہو جائیں گی۔ اپنی ذات سے عشق ہے سچا ‘باقی سب افسانے ہیں۔ دانتوں کے سلسلے میں کالم نگار کی ہفتے دس دن بعد انتہائی شائستہ سے ڈاکٹر سجاد مصطفی کے کلینک میں حاضری اب ایک معمول بن چکی ہے۔ اسی پر کالم تمام کرتا ہوں۔ زندگی کی آخری دہائی میں ہوں۔ بچوں کی تعلیم، معاش، صحت اور حالات سے ناخوش نہیں۔ زندگی کا رنگ اچھا دیکھ لیا ہے۔ اب دیکھئے مرنے کے بعد کیا دیکھتا ہوں۔ ویسے اپنے سوہنے رب سے ملاقات میں عفو اور درگزر کی امید بہت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •