نیوزی لینڈ کی وزیراعظم مسلمان ہوگئیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یقیناً آپ بھی یہ جاننے کے لئے بیتاب ہوں گے کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن جنہوں نے کرائسٹ چرچ کی مساجد میں دہشت گردی کے بعد اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے اقوامِ عالم کے دل جیت لئے، کیا وہ حالیہ دنوں میں اسلام قبول کر چکی ہیں؟ تلبیسِ اطلاعات کے ماہر نام نہاد مجاہدین نے اس محاذ پر نہایت جانفشانی سے جھوٹے پروپیگنڈا پر کام شروع کر دیا ہے اور اب آپ کو جیسنڈا آرڈرن کے قبولِ اسلام کی خبریں آئے روز ملتی رہیں گی کیونکہ اِنہیں پختہ یقین ہے کہ کوئی کافر یا غیر مسلم نیک اور صالح نہیں ہو سکتا۔

ہو سکتا ہے یہ خبریں سچی نہ ہوں مگر یہ انہیں اس امید پر پھیلاتے رہیں گے کہ ایک نہ ایک دن یہ عظیم خاتون اسلام اور ایمان کی دولت سے ضرور مستفیض ہو گی۔ مسجد النور میں دہشت گردی کے بعد جیسنڈا آرڈرن مسلم کمیونٹی کی دل جوئی کے لئے نکلیں اور مسلسل حیران کرتی چلی گئیں تو مجھے لگا اب بہت جلد جیسنڈا کے قبولِ اسلام کی خبر آئے گی اور پھر حسبِ توقع ایک باریش نوجوان کی دل سوز وڈیو منظر عام پر آ گئی۔

یہ وڈیو غالباً اس وقت کی ہے جب وزیراعظم جیسنڈا مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لئے ان کے پاس پہنچیں۔ اس وڈیو میں پہلے تو مسلم نوجوان نے وزیراعظم جیسنڈا کے کردار کی تعریف کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ دنیا بھر کے رہنما ان جیسے ہو جائیں اور پھر دل کی بات زبان پر لاتے ہوئے نہایت دردمندی سے کہا کہ آپ مسلمان ہو جائیں۔

بالفاظ دیگر، آپ نیک اور صالح خاتون ہیں، بس آپ میں ایک ہی کمی ہے کہ آپ مسلمان ہو جائیں۔ جیسنڈا کی ہنسی چھوٹ گئی اور وہ موقع کی مناسبت سے کسی ردعمل کا اظہار کئے بغیر چل پڑیں۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ نام نہاد مجاہدین پہلے سے اسلام کا دم بھرنے والے مسلمانوں کو دائرۂ اسلام سے خارج کرنے کے لئے جس قدر بیتاب رہتے ہیں اس سے کہیں زیادہ اشتیاق کا مظاہرہ معروف شخصیات کو زبردستی مسلمان کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ کسی کو اسلام کی طرف بلانا اچھی بات ہے ،مگر اس کے پیچھے جو سوچ کارفرما ہے، وہ بہت منفی ہے۔

اب سے پہلے کسی کو یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ جیسنڈا کو قبول اسلام کی دعوت دی جائے اور اب ایسا کیوں سوچا جا رہا ہے؟ اس لئے کہ یہ لوگ مغالطوں اور خوش فہمیوں کا شکار ہیں۔ یہ نام نہاد مجاہدین سمجھ رہے ہیں کہ جیسنڈا کے مسلم کمیونٹی سے حسنِ سلوک کی وجہ ان کا اسلام کی طرف مائل ہونا ہے.

اسی طرح نیوزی لینڈ کے سفید فام لوگ جو مساجد کا رُخ کر رہے ہیں تو دراصل وہ اسلام کے قائل ہو گئے ہیں حالانکہ ان کے نزدیک مذہب سے قطع نظر مسلمان نیوزی لینڈ کے شہری ہیں جنہیں اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ دہشت گردی کے مرتکب شخص نے مسجد کو نشانہ بنا کر دراصل ان کی مذہبی آزادی کی روایات پر حملہ کیا ہے۔

جیسنڈا آرڈرن پہلی سلیبرٹی نہیں جنہیں اس طرح کی صورتحال کا سامنا ہے بلکہ اس محاذ پر برسہا برس سے سینکڑوں اہم شخصیات کو اپنے تئیں دائرۂ اسلام میں داخل کرنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ 1990ء میں برطانیہ کے شہزادہ چارلس سے متعلق اس طرح کی خوشخبری دی گئی اور پھر لیڈی ڈیانا کے قبولِ اسلام کی خبروں نے زور پکڑا۔

بل گیٹس نے اپنی دولت فلاح انسانیت کے لئے وقف کرنے کا اعلان کیا تو انہیں مسلمان ڈیکلیئر کر دیا گیا۔ کسی روز یہ دھماکہ خیز خبر پھیلائی گئی کہ عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ مسلمان ہو گئے ہیں۔ چاند پر قدم رکھنے والے پہلے خلا باز نیل آرمسٹرانگ سے متعلق اس نوعیت کی داستانیں گھڑی گئیں۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے مسلمانوں سے خیر سگالی کا غیر معمولی اظہار کیا تو ان کے قبولِ اسلام کی خبر چلا دی گئی۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ جسٹن ٹروڈو کی جس تصویر کو فوٹو شاپ کرکے انہیں مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، وہ دراصل ہالووین کے موقع پر لی گئی تصویر تھی۔

پوپ میوزک کے بے تاج بادشاہ مائیکل جیکسن کے بارے میں یہ بے پَر کی اڑائی گئی کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام میکائل رکھ لیا ہے لیکن ان کی موت کے بعد آخری رسومات نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ معروف کامیڈین Atkinsonالمعروف مسٹر بین کے قبولِ اسلام سے متعلق افواہیں زیر گردش رہیں۔ پیرس ہلٹن سے انجلینا جولی تک کئی ہالی ووڈ اسٹارز کو اس طرح کی بے بنیاد خبروں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہاں تک کہ ایک بار لوہان کے مسلمان ہونے کی خبر آگئی حالانکہ بات صرف اتنی تھی کہ اس نے اپنے انسٹا گرام اکائونٹ پر مسلمان فالورز کو السلام علیکم کہہ دیا تھا۔ معروف کرکٹر ڈیرن سیمی نے پی ایس ایل کے دوران پاکستانیوں سے بے پناہ محبت کا اظہار کیا تو ان کے مسلمان ہونے کی خبریں بھی چل پڑیں اور جب ان خبروں کی وجہ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا تو انہیں وضاحت کرنا پڑی۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے متعلق ابتدائی نوعیت کی معلومات تو پہلے بھی تھیں مگر سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد ان سے متعلق جاننے کی جستجو مزید بڑھ گئی۔ جیسنڈا آرڈرن کے مذہبی عقائد کیا ہیں اور انہوں نے ایک پروفیشنل ڈی جے سے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم تک کا سفر کیسے طے کیا؟

جیسنڈا آرڈرن نیوزی لینڈ کی 170سالہ تاریخ میں کم عمر ترین وزیراعظم ہیں جنہوں نے وقت کا دھارا بدل کر رکھ دیا ہے۔ بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ جیسنڈا میوزک کی دلدادہ ہیں اور سیاست میں آنے سے پہلے وہ پروفیشنل ڈی جے کے طور پر اپنے فن کے جوہر دکھا چکی ہیں۔

جیسنڈا آرڈر بینظیر بھٹو کے بعد دوسری وزیراعظم ہیں جنہوں نے اس منصب پر فائز ہونے کے بعد بچے کو جنم دیا۔ جیسنڈا آرڈرن کا تعلق عیسائیوں کے ایک مذہبی گھرانے سے ہے اور ان کی تربیت عیسائیوں کے ایک مذہبی قبیلے مورمن کے طور پر ہوئی لیکن انہوں نے تب عیسائیت کو خیرباد کہہ دیا جب ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے پر مذہب ان کے پیروں کی زنجیر بن گیا۔ جیسنڈا آرڈرن اب کسی مذہب سے وابستہ نہیں اور خود کو Agnosticکہلواتی ہیں۔

Atheist اور Agnostic میں فرق یہ ہے کہ Atheistخدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتے مگر Agnosticسمجھتے ہیں کہ یہ سب مذاہب تو جھوٹے ہیں، تاہم کوئی نہ کوئی اس نظام ہستی کو چلا رہا ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگر کوئی مہذب خاتون آپ سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ آپ سے کسی قسم کے تعلقات استوار کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح ضروری نہیں کہ اچھا کام کرنے والے تمام لوگوں کا تعلق نام نہاد مجاہدین کے مذہب سے ہو۔

جیسنڈا آرڈرن نے مسلم کمیونٹی کا بھرپور دفاع کرکے اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا مگر یہ نہایت کم ظرفی کی بات ہوگی کہ نام نہاد مجاہدین اسے مسلمان ثابت کرکے اس کی سیاست اور ساکھ کو نقصان پہنچائیں۔ اسی پروپیگنڈے کے باعث جیسنڈا کو انتہا پسندوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد بلال غوری

بشکریہ روز نامہ جنگ

muhammad-bilal-ghauri has 137 posts and counting.See all posts by muhammad-bilal-ghauri