ناقابلِ اشاعت: کیا مولانا علی میاں امتِ مسلمہ سے نکل گئے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 106
  •  

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، المعروف علی میاں سے کون واقف نہیں؟ بیسویں صدی میں اسلام کے جوجلیل القدر علما پیدا ہوئے، ان میں نمایاں تر۔ وہ محض عالم نہیں تھے، راہِ سلوک کی مسافر بھی تھے۔ علم و زہد کے تمام مروجہ پیمانوں پرپورا اترتے تھے۔ مولاناعلی میاں بھارت کے شہری تھے۔ تقسیم کے بعد ہندوستان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا اورتادمِ مرگ وہاں کے شہری رہے۔ بعض لوگوں کی تعبیر کے مطابق بھارت مشرکین کا ملک ہے اور ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ مسلمانوں کا ملک ہوتے ہوئے، مشرکین میں رہنے کا فیصلہ کرے۔ کیا بھارت کا شہری ہونے کے باعث ان کا امتِ مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں؟

مولاناکے پاس تمام اسباب مو جود تھے کہ وہ پاکستان ہجرت کرجا تے یا کسی دوسرے مسلمان ملک میں جا بستے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ سعودی عرب سمیت، ہر ملک انہیں اپنی شہریت کی پیشکش کرتا اور اسے اپنا اعزاز سمجھتا۔ عرب ملکوں میں شاید ہی کسی عجمی عالم کا وہ احترام ہو جو مولانا کا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے ہندوستان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ کیا کوئی مسلمان اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ، مولانا علی میاں سے بری ہیں؟

دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم، مدرسۃالاصلاح، بریلی کی درس گاہ، ندوۃ العلما، سمیت بھارت کے بے شماردینی ادارے ہر سال ہزاروں علما تیار کرتے ہیں جوتفسیر، حدیث اور فقہ سمیت کئی دینی علوم کے ماہر ہوتے ہیں۔ یہ سب نسلوں سے ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ یہی نہیں جماعت اسلامی سمیت بہت سی دینی جماعتیں بھارت میں فعال ہیں۔ کیا ان کا امتِ مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں؟

برطانیہ اورامریکہ سمیت بہت سے ممالک ہیں جن کی اکثریت غیر مسلم یا مسیحی مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ ان ملکوں میں ان گنت مسلمان آباد ہیں۔ ان میں دین کے جید علما بھی شامل ہیں۔ مولانا نظام الدین، جنہوں نے نیوزی لینڈ کی پارلیمان میں قرآن مجید کی تلاوت کی، بیس سال سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ پروفیسر خورشید احمد نائب امیر جماعت اسلامی برطانیہ میں رہتے ہیں۔ کیا اللہ کے رسول ﷺ ان سب سے بری الذمہ ہیں؟

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں سے اللہ کے رسول ﷺ بری ہیں یا فلاں امتِ مسلمہ کا حصہ نہیں رہا تو کیا ہمیں معلوم ہے کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ وہ اب مسلمان نہیں رہا۔ جولوگ یہ موقف پیش کر رہے ہیں، وہ دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ اپنی مرضی اور انتخاب سے بھارت، برطانیہ یا آسٹریلیا اور امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کا دعویٰ ِاسلام قابلِ قبول نہیں۔ اگر نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کی طرح ایسے لوگ مار دیے جائیں تو وہ خود اس کے ذمہ دار ہیں کیونکہ وہاں رہائش ان کا ا پنا انتخاب ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ بیسویں صدی میں یہ بحث ختم ہو چکی تھی۔ دورِ جدید کے مسلم معاشروں میں مذہبی انتہا پسندی نے جن تکفیری رجحانات کو جنم دیا، یہ اسی کا ایک مظہرہے۔ دین کے جن احکام کا تعلق، رسالت مآب ﷺ کی بنفسِ نفیس موجود گی سے تھا، ان کا اطلاق آج کے حالات پر کیا جا رہا ہے۔ روایات کو خود ساختہ معانی پہنائے جا رہے ہیں۔ اہلِ اسلام کی تکفیرکے لیے لوگ اتنے گرم جوش ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ خدا خدا کر کے، مسلکی بنیادوں پر تکفیر کے رحجانات میں کچھ کمی آئی تھی کہ سیاسی بنیادوں پر تکفیر کو پھرسے زندہ کیا جا رہا ہے جس کا آغاز 1960 ء کی دھائی میں ’التکفیر والہجرہ‘ کے عنوان سے مصر میں ہوا۔ اثرات کے اعتبار سے تکفیرِ مسلمین کی یہ تازہ مہم پہلی مہمات سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

دین کے جید علما، تعبیرِ دین کے باب میں دو باتوں کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ رسول کی موجودگی میں معاشرہ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک وہ جو رسولوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جوان کے مخالف ہوتے ہیں۔ جو رسول کی مخالف صف میں کھڑا ہے، کوئی شبہ نہیں کہ اللہ اور اللہ کے رسول اس سے بری ہیں۔ رسول کی غیر مو جو دگی میں اس واضح تقسیم کا کوئی امکان نہیں۔ اسی طرح جب رسول کی سربراہی میں کوئی نظم ِاجتماعی (دارالاسلام ) وجود میں آ جا تا ہے تو کسی کے لیے اس سے باہر رہنا جائز نہیں الا یہ کہ اللہ یا اللہ کا رسول اس کا حکم دیں۔ ختمِ نبوت کے بعد تو یہ بحث ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔

دوسری بات یہ کہ دورِ جدید میں ریاستیں مذہب کی بنیاد پر وجود میں نہیں آتیں۔ ایک مذہب کے ماننے والوں کی کئی ریاستیں ہو سکتی ہیں۔ جیسے دنیا میں کئی ممالک اسے ہیں جن کے شہریوں کی اکثریت مسیحی ہے لیکن وہ خود مختار ہیں۔ یہی معاملہ مسلمانوں کابھی ہے۔ ان کے بھی کئی ملک وجود میں آ چکے ہیں۔ اکثر قومی ریاستیں جمہوری اصول پر قائم ہیں اور ان کی شہریت کے دروازے سب پر یکساں طور پر کھلے ہیں۔ شہریوں کے حقوق مساوی ہیں۔ یوں آج دنیا میں نہ تو کوئی دارالاسلام ہے اور نہ کوئی دارالکفر۔ اس دورپر ان احکامات کا اطلاق نہیں ہو سکتا جن کا تعلق عہدِ رسالت سے تھا اور جب دنیا دوواضح حصوں میں منقسم ہو چکی تھی۔

یہی نہیں، مسلمانوں کو برطانیہ امریکہ سمیت، ان جمہوری ممالک میں دعوت و تبلیغ کا حق حاصل ہے اور تبدیلی مذہب پر کوئی پابندی نہیں۔ کہا جا تا ہے کہ اسلام ان ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یوں اس کا کوئی جواز نہیں کہ اس دور کے ممالک پر ان روایات کا اطلاق کرتے ہوئے، جن کا تعلق عہدِ رسالت سے تھا، کروڑوں مسلمانوں کے ایمان کو خطرے میں ڈالا جائے۔

دین کے جیدعلما اور سکالرز کو اس بات کا چھی طرح اندازہ ہے۔ مثال کے طور پرجب محترم خرم مراد مرحوم، نائب امیر جماعت اسلامی سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس تعبیر کو یکسر مسترد کر دیا۔ خرم صاحب نے لکھا: ”فی زمانہ مدینہ کی طرح کوئی دارالہجرت یادارالاسلام نہیں، جہاں منتقل ہو جانے کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے۔ مدینہ کی طرف ہجرت کے احکام کا ہر زمانے میں اطلاق صحیح نہیں۔“ (راہنمائی، صفحہ 51 )

خرم صاحب کے نزدیک اب صرف دارالمسلمین ہیں۔ وہاں رہنا بہتر ہے لیکن فرض نہیں۔ وہ کہتے ہیں : ”پیدائش کی بنا پر، وطن ہونے کی بنا پر، تعلیم کی بنا پر اور اگر دارالمسلمین میں ذریعہ معاش میسر نہ ہو تو بہتر معاش کے لیے بھی، دارالکفر میں، جو دار الامن اور دار الصلح ہو، رہنے میں کوئی مضائقہ محسوس نہیں ہوتا“ ۔ انہوں نے اس کے علاوہ بھی اپنے موقف کے حق میں کئی دلائل دیے ہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ آج سب ممالک دارالعہد ہیں کیونکہ اقوام ِ متحدہ کے تحت ایک معاہدے اور عہد میں بندھے ہوئے ہیں۔

آج ’فقہ الاقلیات‘ کے عنوان سے پورا علم وجود میں آچکا ہے جس میں ایسے دینی مسائل زیرِ بحث آتے ہیں جو کسی مسلم اقلیتی گروہ کو انفرادی یا اجتماعی طور پرپیش آ سکتے ہیں۔ جو مسلمان کسی ایسے ملک میں مقیم ہیں جہاں حکومت مسلمانوں کی نہیں ہے یا اکثریتی آبادی غیر مسلم ہے اور وہ دین کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو یہ علم ان کی راہنمائی کرتا ہے۔

نیوزی لینڈ میں بہنے والے بے گناہ مسلمانوں کے لہو سے امن کے نئے چراغ جل اٹھے ہیں۔ مذاہبِ عالم میں قربت کے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ ا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، مسلمانوں کو آگے بڑھ کر انصاف، مساوات اور خیر خواہی جیسی اقدار پر مبنی ایک عالمی معاشرت کی تشکیل کے لیے اپنا کردارادا کر نا چاہیے۔ عالمی ردِ عمل سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اگر سلیقے کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کیا جا ئے تو سننے والے کان مو جود ہیں۔

اس کا آغاز ہمیں اپنے گھر سے کرنا ہے۔ اگر ہم مسلمانوں ہی کو غیر مسلم بنانے اور امتِ مسلمہ سے کاٹنے پر کمر بستہ رہیں گے تو دوسروں کو کیسے قریب لائیں گے؟ سیاسی بنیادوں پراٹھنے والی اس نئی تکفیری مہم کا ہمیں دلیل اور حکمت کے ساتھ رد کر نا ہوگا۔ جو لوگ یہ مقدمہ پیش کر رہے ہیں، انہیں بصد احترام اس کے مضمرات سے آگاہ کرنا ہوگا۔ اسلام سراپا خیر ہے۔ اس کو پیغام کوعام کرنی کی ضرورت ہے نہ کہ سمیٹنے کی۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر مولانا علی میاں ہی امتِ مسلمہ کا حصہ نہیں ہیں تو پھر یہ امت کس کا نام ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 106
  •