مدینہ کی پاکستانی ریاست اور حیوانی جبلتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مدینے کی ریاست کی خواہش کرنا کوئی انہونی بات نہیں۔ مگر اس زوال پذیرمعاشرے کا بھی عمومی جائزہ لینا ا اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے لئے بنیادی اکائیوں کی تدبیر کرنے اور اس کا عملی مظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ توہی مدینہ کی ریاست کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ مگرحکومت نے سارا زورکرپشن کے خاتمے پر لگا دیا ہے۔ اس میں بھی خود کوغیر جانبدار ہونے کا تاثر نہیں دیا۔ ساتھ ہی نیب بھی ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ضمانتیں ہونے لگیں، حکومتی وزراء پر ہاتھ نہ ڈالنے سے گریز کرنا، نیب سے عزت بچانے کی خاطر ایک ریٹائرڈ بریگیڈئیر اسد مینرنے خود کشی کوترجیح دینا بہتر سمجھا۔

خوش فہمی کے شکار معاشرے نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم، جس نے انسانیت کا عملی نمونہ دیا، کے نقشِ قدم پر چلنے کی بجا ئے اْسے اسلام قبول کرنے کی دعوت تو دے ڈالی۔ مگر اپنے اندر حیوانوں جیسی جبلتوں کو ترک کرنے کے بارے میں نہ سوچا۔ معاشرے کی ذہنی بدحالی کی خبریں سن اور پڑھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ہر روز کمسن بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ معصوم بچوں اور بچیوں کی برہنہ ویڈیو بناکر انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔

تین سال کی بچیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بناکر قتل کر دیا جاتا ہے۔ بعض انتہاپسند مدرسوں میں دہشت گردی سکھائی جاتی ہے اورمعصوم بچوں کے ساتھ بدفعلی کی جاتی ہے۔ اور معاشرے میں سگے رشتوں تک کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ماموں اپنی معصوم بھانجیوں کو ڈرادھمکا کر ان سے بدفعلی کرتے ہیں۔ باپ اپنی سگی بیٹی کا اور بھائی سگی بہن کا ریپ کرتے ہوئے خدا سے نہیں ڈرتے۔ بہاولپور میں ایک طالب علم نے اپنے پروفیسر کو نئے آنے والے طالب علموں خوش آمدید کہنے پر چاقو کے پے درپے وار کرکے قتل کر دیا، کہ اس عمل سے فحاشی پھیلتی ہے۔

شوہرنے اپنی بیوی کو اس لئے زدو کوب کیا اور اس کا سر منڈا دیا کہ اْس کی بیوی دوستوں کے سامنے نہیں ناچی۔ بٹگرام کے خوبرو طلب علم محمد عدنان نے اس لیے خود کشی کرلی کہ اس کے دوست اس کے ساتھ جنسی بد فعل کرکے اسے مسلسل بلیک میل کر رہے تھے۔ اورماڈریٹ معاشرے کا عملی مظاہرہ اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے میں نوجوانوں لڑکے اور لڑکیوں نے رات بھر رقص کرکے دیا تھا۔ ”خواتین کے عالمی دن“ کے موقع پر غیر مہذب تحریر شدہ پلے کار ڈ اٹھا کر خواتین نے اپنی آزاد مرضی کا اظہار کیا۔

بڑا ظلم یہ ہے کہ مذہبی اقلیت سے تعلق والی کمسن لڑکیوں کے ساتھ جبراً نکاح اور تبدیلیِ مذہب جو کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ پاکستان سے ہندو کمیونٹی کے 5000 افرادکا سالانہ انخلا ہونے لگا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2018 میں 700 ہندو، مسیحی اور کیلاش لڑکیوں کو جبراً اسلام قبول کروایا گیا۔ 2015۔ 16 کے دوران 25 لڑکیوں کو۔ پچھلے 15 سالوں میں 0 900 لڑکیوں کو جبراً اسلام قبول کروایا گیا۔ ظلم کا شکارمذہبی اقلیتوں کی آہ کا اثر کسی بھی حکومت پر نہیں ہوا۔

یہاں تک کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران بھی ہندو اور مسیحی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی کمسن لڑکیوں کو یکہ بعد دیگرے جبراً اسلام قبول کرنے اور نکاح پر مجبور کردیا گیا۔ جو بین العقوامی سطح پر بہت بڑا ایشو ابھر کر سامنے آیا۔ کاش مدنیہ کی ریاست کا بار بار ذکر اور خواہش کرنے والے ر یاست میں بسنے والے غیر مسلم کے ساتھ ریاستِ مدینہ کے قوانین کو بھی مدِ نظررکھ لیتے۔ جہاں تمام مذاہب ایک امت کی شکل اختیار کر گئے تھے۔

جہاں سب کی عزت و مال کی حفاظت کی جائے گی۔ سینٹ کیتھرین خانقاہ کے رہبروں سے رسول پاک ﷺنے 630 ء میں معاہدہ کیا جس کی روح سے حضور پاک ﷺ نے مسیحیوں کوبحیثیت اہل کتاب امان دی۔ ان کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کیا۔ ان کا فرمان تھا کہ اگر کوئی مسلمان کسی کی عبادت گاہ کو لوٹے گا یا کسی لڑکی کو اغوا کرکے مسلمان بنائے گا تو اس سے قطع تعلق کرلیا جائے گا۔ اگر کوئی عورت پہلے سے مسلمان کے نکاح میں ہے تو اس کو اپنے مسیحی مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔

راہبوں کو چرچ میں عبادت کی مکمل آزادی ہو گی۔ اس کے علاوہ پہلے سے موجودریاست مدینہ کے قوانین کی روح سے مسلمان اور مسیحی کوایک امتِ واحد تصور کیا جائے گا۔ کفارِ مکہ کی جارحیت کی صورت میں ایک پر حملہ سب امت پر حملہ تصور ہوگا۔ جو ان کی انحراف کرے گا وہ میر مخالف ہوگا۔ ایسی ریاست کی خواہش کون نہیں کرے گا جہاں سب کی عزتیں محفوظ ہوں۔ المیہ یہ ہے کہ ایک طرف  مولانا میاں میٹھو جیسے لوگ سندھ میں ہندو لڑکیوں کو جبراً داہر اسلام میں لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ تو دوسری طرف شیطان صفات حیوان اپنی شیطانی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

کم عمری میں شادی اور مذہب کی جبری تبدیلی کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وکوانی نے قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں 2 بلز جمع کروادیے جن میں ایسے اقدامات اٹھانے والوں کو سخت سزا دینے کا بھی مطالبہ سامنے آیا ہے۔

اقلیتی رکن اسمبلی کی جانب سے یہ بل ایسے وقت میں جمع کروایا گیا ہے جب چند روز قبل ہی سندھ کی 2 ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا کا معاملہ سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہوں نے جبری اسلام قبول کیا۔ امید ہے کہ پاکستانی ریاست مدینہ کی حکومت ان دو بلز کو مجلسِ شوری سے بھی منظور کروانے میں کامیاب ہو جائے گی  اور مذہبی اقلیتیں سکھ کا سانس لیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •