باتوں کے دھنی! شہباز شریف کا سونا اور عمران خان کا تیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صرف 70 سالوں میں زراعت سے انڈسٹری تک، نہری نظام سے دریاؤں تک، پی آئی اے سے اسٹیل مل تک، جنگلوں سے ریگستانوں تک، ملک سے قوم تک، معاشیات سے اخلاقیات تک زمین پر ہر شے کا تیل نکال کر اب زیر زمین تیل کی باتیں، وہ وقت دور نہیں جب زیر زمین تیل کا تیل نکال کر ہم ہواؤں، خلاؤں کی باتیں کر رہے ہوں گے کیونکہ باتوں کے تو ہم دھنی۔

چینوٹ، رجوعہ، فروری 2015 ءکی سہ پہر، تقریب جوبن پر، وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف، وفاقی وزراء، روح رواں ڈاکٹر ثمر مبارک مند، بیورو کریٹ، ارکانِ اسمبلی، تاجر برادری، ملک بھر سے آئے صحافی، کون تھا، جو موجود نہ تھا؟ ایک اندازے کے مطابق تقریب پر 3 کروڑ لگے، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف خطاب کے لئے تشریف لائے، چند ابتدائی کلمات، دو چار اِدھر اُدھر کی باتیں، پھر کہا ”ہم لوہا تلاش کرنے نکلے، نکل آیا تانبا، سونا، اس سے بڑی اس دکھی قوم پر اللہ کی مہربانی اور کیا ہو سکتی ہے، یہ منصوبہ قوم و ملک کے لئے گیم چینجر، یہ منصوبہ غربت، بیروزگاری کو دفن کر دے گا، معدنیات کا ٹھاٹھیں مارتا یہ سمندر عوام کو خوشحالی دے گا، مائیک گراؤ پرفارمنس کے قریب پہنچ کر جب خادمِ اعلیٰ نے یہ اشعار پڑھے تو سماں بندھ گیا:

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا

اے وطن کی مٹی! مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا

جادوگر لفظوں بھری تمہید، موقع برمحل شعر، حاضرینِ محفل کا جوش آسمانوں کو جا چھوا، ایسے تو خادمِ اعلیٰ نے تقریر نویس، تقریروں کو غالبؔ، جالبؔ، فیضؔ، اقبالؔ کے شعری تڑکے لگانے والے مشیروں کی فوج نہیں رکھی ہوئی تھی، یہ علیحدہ بات سب کچھ سرکاری خرچے پر، خیر خادمِ اعلیٰ محفل کو جذبوں کی آگ لگا کر ہٹے تو بڑے بھائی، وزیراعظم نواز شریف نے اسٹیج سنبھالا، چند ابتدائی جملوں کے بعد فرمایا ”اگر ہماری نیت خراب ہوتی، نیت میں فتور ہوتا، ہم بے ایمان ہوتے تو جو خوشخبریاں یہاں مل رہی ہیں، یہ نہ ملتیں“ دو چار اور جملے، پھر بڑے میاں کی منظر کشی بھی عروج پر پہنچی، کہنے لگے ”اس دریافت کے بعد وہ کشکول جسے ہم نے توڑنے کا عزم کر رکھا ہے، اس کشکول کو کسی روز عوام، صحافیوں کے سامنے ٹی وی تقریب کے دوران اوپر سے نیچے پھینک کر توڑ دیں گے تاکہ آئندہ یہ کشکول استعمال کے قابل نہ رہے“ اس روح پرور گفتگو کے بعد وہی ہوا، جو ہونا چاہیے تھا۔

تالیاں، نعرے، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے لیکن وہاں ناچتے، گاتے، خوشیاں مناتے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ 3 سال بعد جب میاں صاحب پاناما برکتوں سے رخصت ہوں گے تو میاں صاحب کا کشکول 15 ہزار ارب کا قرضہ لے چکا ہو گا۔ ذرا سی دیر کے لئے یہیں رک کر پہلے دو باتیں، ایک تو یہ تقریب ہو رہی چینوٹ سے 3 کلومیٹر دور اس جگہ پر جہاں نواز، شہباز کے مطابق زیر زمین اتنا سونا، تانبا کہ دریا بہہ رہے تھے، بقول میاں برادران نہ صرف ڈاکٹر ثمر مند مبارک، ان کی ٹیم اس گیم چینجر دریافت کو ری کنفرم کر چکی تھی بلکہ چین کے ماہرین اس عظیم خزانے کے ہونے پر مہرِ تصدیق لگا چکے تھے۔

دوسری بات جیسے ہی میاں برادران قوم کو خوشخبری سنا کر نکلے، پورا علاقہ سیکورٹی کے حصار میں آیا، بھانت بھانت کے ماہرین نے سونے سے بھری زمین پر ڈیرے جمائے، جنگل میں منگل ہوا مگر پھر یہ رونقیں ماند پڑتی گئیں چند ماہ بعد ایک دن وہ بھی آ پہنچا، جب وزیراعظم نواز شریف کے اپنے وزیر پٹرولیم، گیس اور معدنی ذخائر شاہد خاقان عباسی سے قومی اسمبلی میں سوال ہوا کہ ”وہ چینوٹ کی زمین میں جو سونے، تانبے کے دریا بہہ رہے تھے، جن سے ملک و قوم کی تقدیر بدلنا تھی، ان کا کیا بنا“ تو شاہد خاقان عباسی کا جواب تھا ”وہ سب جھوٹ، وہاں سونے، تانبے کا نام و نشان تک نہ تھا، وہاں تو گھٹیا قسم کے کوئلے کی ایک قسم تھی اور بس“ ، یوں یہ عظیم دریافت اپنی مو ت آپ مری، مزے کی بات نواز، شہباز کو معذرت کرنے کی توفیق ہوئی نہ ثمر مند مبارک، ان کی ٹیم، غیر ملکی ماہرین نے سوری کی اور تو اور وہاں تالیاں مار مار جھلے ہونے والے کسی وزیر، رکنِ اسمبلی، بیورو کریٹ، صحافی کو بھی یہ توفیق نہ ہوئی کہ میاں برادران سے پوچھ لیتا، جب آپ کا، ہمارا اس قسم کا کوئی مذاق ہی نہیں تھا تو یہ مذاق کیوں؟

مجھے آج یہ سب اس لئے یاد آرہا کہ ان دنوں قائدِ انقلاب عمران خان سمندر سے تیل و گیس کے ذخائر نکلنے کی ایڈوانس خوشخبریاں سنا رہے، پچھلے ماہ سینئر صحافیوں سے ملاقات میں فرمانے لگے ”آگے تذکرہ نہیں کرنا، بس دو تین ہفتوں بعد تیل و گیس کے ذخائر نکلنے والے“ ، چند دن بعد صحافیوں کی دوسری پارٹی ملی تو کپتان نے ذرا کھل کر یہی خوشخبری دہرا دی، دو چار دنوں بعد کنونشن سینٹر میں لائیو ٹی وی کیمروں کے سامنے قوم کو بھی بتا دیا۔

اب یہ چھوڑ دیں کہ 1963 سے 2019 تک، مطلب ایوب، بھٹو، ضیاء سے لے کر نواز شریف تک کم ازکم ڈیڑھ درجن بار سمندر سے تیل وگیس کے ذخائر کی خبر آ چکی، جھوٹی ثابت ہو چکی، اسے بھی رہنے دیں کہ سینڈک منصوبہ، ریکوڈک ذخائر، بلوچستان کے سونے سے بھرے پہاڑوں کی کہانیوں سے بھی کچھ حاصل وصول نہ ہوا، اس کا ذکر بھی کیا کرنا کہ ہمارے ہاں منصوبے شروع ہونے کے بعد ایسے تاخیر کا شکار ہوں کہ 6 اکتوبر 1994 کو وزیراعظم بے نظیر بھٹو اسٹیٹ بینک کی عمارت میں ہانگ کانگ کے سرمایہ کار گورڈن وو کو ساتھ بٹھا کر کہہ رہی تھیں ”ہم 5 ارب ڈالر کی لاگت سے کوئلے سے چلنے والے 5280 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے 8 پلانٹ لگا رہے، گڈانی کی ساحلی پٹی پر کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کا ہر یونٹ 660 میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا، ایک گھنٹہ یہ تقریب اکلوتے پی ٹی وی پر براہِ راست دکھائی گئی، اس دن پاکستان کو وہ چھوٹا ایشین ٹائیگر بنا دیا گیا جو سب سے پہلے اکیسویں صدی کے سفر پر روانہ ہوا اور پھر وہ پہلا پلانٹ جس نے مقامی کوئلے سے سستی بجلی دسمبر 1997 میں پیدا کرنا تھی، وہ پلانٹ چلا 22 سال بعد ابھی 2019 میں، باقی 7 پاور پلانٹ اور 4 ارب 22 کروڑ ڈالروں کا کیا بنا، کچھ پتا نہیں۔

لیکن ان سب بدشگونیوں کے باوجود دل وجان سے یہ دعا کہ اس بار عمران خان کی بات سچ نکلے، کم ازکم اسد عمر کے ہاتھوں قوم کا تیل نکلنے سے پہلے سمندر سے ہی تیل نکل آئے، مگر کیا کریں، کوئی فلاحی منصوبہ ہو، عوامی بہبود کا کوئی پروجیکٹ ہو، کسی زیر زمین چھپے خزانے کی خوش خبری ہو، اتنی بار لٹ چکے، اتنی بار جھوٹ سن چکے، اتنی بار یہ ہو چکا کہ سچ بھی جھوٹ لگے، ویسے میں اکثر سوچوں کیا وجہ ہمارے حکمرانوں کے ذاتی کاروبار تو ہمیشہ ان کے لئے گیم چینجر، ان کی تو ہر دریافت سچ نکلے، ان کے تو خسارے بھی فائدے مگر جب بات ہو ملک کی تو سوئی گیس ذخائر سے سی پیک تک رولے ہی رولے، گوادر سے گڈانی تک پھڈے ہی پھڈے، خیبر سے کراچی تک جھوٹ ہی جھوٹ، شاید نیت بد، منزل کھوٹی، شاید ہمارے نصیبوں کا ہیر پھیر، مگر بات پھر وہی کہ 70 سالوں میں زراعت سے انڈسٹری تک، نہری نظام سے دریاؤں تک، پی آئی اے سے اسٹیل مل تک، جنگلوں سے ریگستانوں تک، ملک سے قوم تک، معاشیات سے اخلاقیات تک زمین پر ہر شے کا تیل نکال کر اب زیر زمین تیل کی باتیں، وہ وقت دور نہیں جب زیر زمین تیل کا تیل نکال کر ہم ہواؤں، خلاؤں کی باتیں کر رہے ہوں گے، کیونکہ باتوں کے تو ہم دھنی۔
بشکریہ جنگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •