کیا عرب سپرنگ الجزائر کے بعد سوڈان تک پہنچ پائے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوڈان میں مظاہرے

Getty Images
سوڈان میں تین عشروں سے اقتدار پر قابض صدر عمر البشیر کے خلاف کئی ماہ سے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں

خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور ملک کی کمزور معیشت سوڈان کے صدر عمر البشیر کے 30 سالہ دور اقتدار کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔ صدر عمر البشیر نے 1989 میں فوجی بغاوت کے بعد ملک کی باگ دوڑ سنبھالی تھی۔

الجزائر میں عوامی احتجاج کے بعد صدر عبد العزیزبوتفلیکا نے پانچویں بار صدارتی امیدوار نہ بننے کا اعلان کیا۔ دو عشروں سے اقتدار پر قابض عبد العزیز سنہ 2013 میں فالج کے حملے کے بعد جسمانی طور پر معذور ہونے کے باوجود بھی اقتدار سے علیحدہ ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔

سوڈان میں صدر عمر البشیر کے مخالفین کو الجزائر کے صدر کے عوامی احتجاج کے باعث اقتدار سے علیحدہ ہونے کے فیصلے سے حوصلہ بڑھا ہے کہ وہ بھی تین عشروں سے قابض عمر البشیر کو اقتدار سے علیحدہ کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

سوڈان کے مطلوب صدر جنوبی افریقہ سے بھاگ گئے

’سوڈانی صدر جنوبی افریقہ چھوڑ کر نہ جائیں‘

انتخاب میں صدر عمر البشیر دوبارہ منتخب

سوڈانی مظاہرین کی ترجمان سارہ عبدل جلیل نے کہا کہ: ’بوتفلیکا کی روانگی اس بات کا اشارہ ہے کہ افریقہ میں پرامن مزاحمت کامیاب ہو سکتی ہے۔‘

کیا ایک اور عرب سپرنگ سوڈان تک پھیل سکتی ہے؟ ملک کی تباہ حال معیشت، بدعنوانی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور فوج سوڈان میں جاری مزاحمت کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Fسوڈان کھانے پینے کی اشیا

Getty Images
سوڈان میں بچت کے لیے کئے جانے والے اقدامات کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

تباہ حال معیشت

سوڈان کی معیشت کئی سالوں سے مشکلات میں ہے۔ 2011 میں ملک کے دو حصے ہونےکےبعد سوڈان کی تین چوتھائی تیل کی پیدوار اس سے چھن چکی ہے جس سے خرطوم کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

حکومت چاہتی ہے کہ معیشت پانچ فیصد کی شرح سے ترقی کرے جبکہ آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ صرف دو فیصد سالانہ ترقی ہی ممکن ہے۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ سوڈان کی 13 فیصد آبادی کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

گذشہ سال دسمبر میں جب حکومت نے بچت مہم کے دوران اشیائے خورد و نوش پر سبسڈی کے خاتمے کا اعلان کیا تو اس سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آ گیا۔ روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافے اور تیل کی قیمتیں بڑھنے کے بعد ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے۔

سوڈانی صحافی زینب محمد صالح نےبی بی سی کو بتایا کہ جن لوگوں کے پاس کچھ رقم ہے تو وہ اب اسے بینکوں میں رکھنے کے بجائے اپنے گھروں میں رکھنے کو ترجیج دے رہے ہیں۔

اگر لوگ اپنی دولت کو بینکوں میں رکھتے ہیں تو بوقت ضرورت نکالنے میں دشواری ہوتی ہے کیونکہ اے ٹی ایم مشینوں میں پیسے ہی نہیں ہیں۔

عام لوگ کرنسی کی قدر میں کمی سے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ گذشتہ سال افراط زر کی شرح 74 فیصد بڑھ گئی تھی لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ افراط زر کی شرح 45 فیصد تک واپس آ چکی ہے۔

جان ہاپکن یونیورسٹی کے افراط زر اور کرنسیوں کے ماہر سٹیو ہانکے نے کہا کہ دراصل سوڈان کی افراط زر ایک سو اٹھارہ فیصد تک بڑھ چکی ہے۔

گذشتہ برس امریکہ کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ وہ سوڈان کو دہشت گردی برآمد کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کر سکتا ہے جس سے وہ آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کر سکے گا۔

عمر البشیر

Reuters
صدر عمر البشیر کی حکومت پر جنگی جرائم کا الزام لگایا جاتا ہے

بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

تازہ احتجاجی مظاہرے جمعے کے روز شروع ہوئے۔ مظاہرین نے فوجی بغاوت کی چونتیسویں سالگرہ منانے کے لیے فوجی ہیڈکوارٹر کے سامنے دھرنا دیا۔ یہ مظاہرے جلد ہی صدر بشیر کے خلاف احتجاج میں تبدیل ہو گئے۔

صدر عمر البشیر کی حکومت پر بدعنوانی اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کا الزام لگتا رہا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے بدعنوانی کے انڈیکس پر سوڈان 180 ممالک میں سے 172ویں نمبر پر ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے اندازے کے مطابق سوڈان کے سربراہ مملکت اور حکومت نے تیل کی آمدن میں سے نو ارب ڈالر خرد برد کیے ہیں۔

انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے 2010 میں عمر البشیر کو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات عائد کرتےہوئے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

سوڈانی فوجی

AFP
تجزیہ کاروں کے خیال میں فوج میں اعلی عہدوں پر فائز افسران اب بھی صدر عمر البشیر کے وفادار ہیں

فوجی وفاداریاں

مظاہرین کو امید ہے کہ فوج صدر عمر البشیر کے خلاف اندرونی بغاوت کی حمایت کرے گی جس سے اقتدارکی تبدیلی کی راہ ہموار ہو گی۔

اتوار کے روز عینی شاہدین نے بتایا کہ نیوی اور ایئر فورس کے اہلکاروں نے اس وقت مظاہرین کو بچانے کے لیے مداخلت کی جب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنےکے لیے فائرنگ کی۔

گذشتہ تین ماہ میں ہونے والے احتجاج میں فوج ایک طرف رہی ہے جبکہ سکیورٹی فورسز نے احتجاجی تحریک کو ختم کرنے کے لیے سخت کارروائیاں کی ہیں اور سینکڑوں لوگوں کو جیل میں ڈالا جا چکا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے ہیومین رائٹس واچ کے مطابق احتجاجی مظاہروں سے پیدا ہونےوالے تشدد میں 50 لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق درمیانی رینک کے فوجی افسران مظاہرین کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں جبکہ اعلی عہدوں پر فائز فوجی اب بھی صدر عمر البشیر کے وفادار ہیں۔

فوج پر ہونے والے اخراجات پر نظر رکھنے والی تنظیم ’دی سینٹری‘ کے مطابق صدر عمر بشیر نےفوج کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے 2016 میں کل بجٹ کا 70 فیصد حصہ فوج پر خرچ کیا ہے۔

صدر عمر البشیر نے فروری میں اعلی فوجی اور انٹیلجنس افسران کو اپنی کابینہ کا حصہ بنایا اور ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کردیا۔

صدر عمر البشیر مانتے ہیں کہ مظاہرین کا احتجاج بجا ہے لیکن حکومت میں آنے کے لیے انھیں 2020 کے انتخابات میں فتح حاصل کرنا ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10758 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp