اسرائیل کے انتخابات: بنیامین نتن یاہو اور مخالفین میں کانٹے کا مقابلہ، لیکن جیت کس کی ہوئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسرائیل کے انتخابات

Reuters

اسرائیل کے انتخابات سے متعلق ایگزٹ پولز کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ کانٹے کے مقابلے کے بعد کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ سابق فوجی سربراہ بینی گینٹز کی سربراہی میں ’بلو اینڈ وائٹ اتحاد‘ کو 36 سے 37 سیٹیں مل سکتی ہیں، جبکہ وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کو 33 سے 36 سیٹیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

دونوں ہی افراد نے اپنی اپنی جیت کا دعوی کیا ہے۔

دو ایگزٹ پولز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی پارٹیاں مل کر حکومت سازی کریں گی۔

لیکن ایک تیسرے ایگزٹ پول میں کہا گیا ہے کہ مسٹر گینٹز کی اتحادی سینٹرسٹ اور بائيں بازو کی پارٹیاں مل کر حکومت بنائیں گی۔

بلو اینڈ وائٹ نے ایک بیان میں کہا: ‘ہم نے جیت حاصل کی! اسرائیل کی عوام نے اپنا موقف ظاہر کر دیا ہے! ان انتخابات میں واضح فاتح اور واضح شکست خوردہ ہیں۔’

یہ بھی پڑھیے

اسرائیلی انتخابات کی پانچ اہم باتیں

کیا ایک ’اسرائیلی طیارہ‘ پاکستان آیا تھا؟

پاکستان نے اپنے ایک شہری کو یہودی تسلیم کر لیا

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو

EPA
نتن یاہو اگر پانچویں بار منتخب ہوئے تو وہ اسرائیل کے بانی ڈیوڈ بین گورین کے سب سے زیادہ مدت تک وزیراعظم رہنے کا ریکارڈ توڑ دیں گے

لیکن تل ابیب میں اپنے پارٹی ہیڈکوارٹر میں نتن یاہو بھی جیت کا جشن منا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: ‘یہ عظیم فتح کی شب ہے۔ میں اس بات پر فرط جذبات سے مغلوب ہوں کہ لوگوں نے پانچویں بار مجھ پر یقین کیا ہے۔’

خیال رہے کہ آج تک کوئی بھی پارٹی اسرائیلی پارلیمان نیسیٹ میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی ہے اور ملک میں ہمیشہ اتحاد کی حکومت رہی ہے۔

اصل سیاست اب شروع ہوتی ہے۔

تل ابیب سے بی بی سی کے ٹام بیٹ مین کا تجزیہ

تل ابیب میں انتخاب کی رات جوں ہی پہلا ایگزٹ پول جاری ہوا بینی گینٹز کے لیے زبردست نعرہ تحسین بلند ہوا۔

ان کے حامیوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اسرائیل ایک نئی سینٹرسٹ حکومت سازی کے دہانے پر ہے۔

ایک رضاکار نے جشن کے شور میں مجھ سے کہا کہ ‘تبدیلی آنے کو ہے۔’

لیکن نتیجہ ابھی بہت واضح نہیں ہے۔ گذشتہ انتخابات میں ایگزٹ پول ڈرامائی انداز میں غلط ثابت ہوئے تھے۔

اگر نتائج بہت ہی ٹکر کے ہوتے ہیں تو اصل سیاست اب شروع ہوگی کیونکہ دونوں اہم پارٹیاں اسرائیل کے صدر کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گی کہ انھیں اتحاد کے لیے بات چیت شروع کرنے کا حق حاصل ہے۔

پس منظر کیا ہے؟

مسٹر نتن یاہو اگر پانچویں بار منتخب ہوتے ہیں تو وہ اسرائیل کے بانی ڈیوڈ بین گورین کے سب سے زیادہ مدت تک وزیر اعظم رہنے کے ریکارڈ کو توڑ دیں گے۔

69 سالہ نتن یاہو نے سکیورٹی پر سخت موقف اختیار کر رکھا ہے اور یہ انتخابات کے اہم مسئلوں میں شامل ہے۔

انھوں نے انتخابی مہم کے آخری ایام میں ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی حکومت بنتی ہے تو وہ غرب اردن کی یہودی بستیوں کو اسرائیل میں شامل کر لیں گے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بستیاں غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل اس کی نفی کرتا ہے۔

مسٹر نتن یاہو پر بدعنوانی کے الزامات ہیں جنھیں وہ مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات کے پیش نظر سیاسی ‘وچ ہنٹ’ کا شکار ہیں۔

ایک علیحدہ تنازع میں منگل کو اسرائیل کے عرب نژاد سیاستدانوں نے لیکوڈ پارٹی پر عرب برادریوں کے پولنگ سٹیشن پر 1200 آبزروز کو پوشیدہ جسمانی کیمرے کے ساتھ بھیجنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

عرب اتحاد حدش تال نے کہا کہ غیر قانونی عمل ہے اور یہ عربوں کو ڈرانے کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکوڈ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی یقین دہانی چاہتی تھی کہ صرف ‘جائز ووٹ’ ہی ڈالے جا سکیں۔

مسٹر نتن یاہو کے اہم مخالف مسٹر گینٹز ایک ریٹائرڈ لفٹینینٹ جنرل ہیں جنھوں نے فروری میں بلو اینڈ وائٹ اتحاد قائم کیا ہے اور یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کو متحد کریں گے جو اپنی راہ کھو بیٹھی ہے۔

59 سالہ سابق فوجی سربراہ سکیورٹی کے معاملے پر نتن یاہو کو کڑا مقابلہ دے سکتے ہیں اور وہ زیادہ شفاف سیاست کا وعدہ کر رہے ہیں۔

مسٹر گينٹز کے انتخابی پلیٹ فارم سے فلسطین سے ‘علیحدہ’ ہونے کی بات تو ہو رہی ہے لیکن واضح طور پر انھیں ریاست دیے جانے کی بات نہیں کی گئی۔ بینی گينٹز کے اتحاد نے وادی اردن کے کنٹرول کو جاری رکھنے کی بات کہی ہے اور غرب اردن کی یہودی بستیوں کو اپنے قبضے میں رکھنے کی بات بھی کہی ہے۔

اسرائیل کے انتخابات

BBC

اگزٹ پول میں کیا پیش گوئی کی جا رہی ہے؟

تین اسرائیلی ٹی وی نے تین مختلف ایگزٹ پول کرائے ہیں۔

سرکاری براڈکاسٹر کین نے پیش گوئي کی کہے کہ بلو اینڈ وائٹ کو 37 نشستیں مل رہی ہیں جبکہ لیکوڈ کو 36 سیٹیں مل رہی ہیں۔ تاہم اس نے کہا ہے کہ دائیں بازو کے بلاک کو ان انتخابات میں 64 سیٹیں ملنے کی امید ہے جب کہ سینٹر لیفٹ بلاک کو 56 سیٹیں مل رہی ہیں۔

چینل 13 نے پیش گوئی کی کہ دونوں پارٹیوں کو 36-36 سیٹیں ملیں گی لیکن دائیں بازو کے بلاک کو 66 سیٹیں حاصل ہوں گی جبکہ سینٹر لیفٹ کو 54 سیٹیں۔

چینل 12 نیوز نے پیش گوئی کی ہے کہ بلو اینڈ وائٹ کو 37 سیٹیں ملیں گی جبکہ لیکوڈ کو 33 نشستیں حاصل ہوں گی۔ لیکن سینٹر لیفٹ اور ڈائیں بازو دونوں بلاک کو 60-60 سیٹیں ملیں گی۔

تینوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ بائیں بازو کی لیبر پارٹی کو چھ سے آٹھ سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ بائيں بازو کی میرٹز پارٹی کو چار سے پانچ سیٹیں مل سکتی ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ انتخابات میں شامل 40 چھوٹی پارٹیوں میں سے کتنی پارٹیوں کو قومی ووٹ کا سوا تین فیصد ووٹ حاصل ہوگا یہ پارلیمان میں چار سیٹوں کے ساتھ داخل ہونے کی حد ہے۔

دو ایگزٹ پول میں کہا گیا ہے کہ اپنی مدت ختم کرنے والے وزیر تعلیم نفٹالی بینٹ کی نیو رائٹ پارٹی اور موشے فیگلن کی انتہائي قوم پرست زیہوٹ پارٹی اس حد کو عبور نہیں کر سکے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10758 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp