میاں، مولانا ملاقات اور…42سال پہلے کی یاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپریل کے یہ دن شریف فیملی (اور مسلم لیگ ن) کے لیے خاصے بابرکت ثابت ہوئے کہ حمزہ شہباز کو بدھ کے روز بھی لاہور ہائیکورٹ سے ریلیف مل گیا۔ ادھر انٹرپول نے لندن میں مقیم حسین نواز کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس کے لیے حکومتِ پاکستان کے مہیا کردہ ”شواہد‘‘ قابلِ اعتبار نہیں…
منگل کی دوپہر مولانا فضل الرحمن، جاتی امرا میں میاں نواز شریف سے ملاقات کر چکے (جو طبی وجوہات کی بنا پر، سپریم کورٹ کی طرف سے 6 ہفتے کی ضمانت پر ہیں۔ ان میں سے دو ہفتے گزر چکے) یہ ملاقات بہت دنوں سے Due تھی، تب سے جب میاں صاحب جیل میں تھے۔
ملاقات میاں صاحب کی مزاج پرسی کے لیے تھی۔ لیکن وہی بات کہ سیاست دان مل بیٹھیں گے تو محض موسم پر تو بات نہیں کریں گے؛ چنانچہ دونوں کے درمیان روز بروز گرم تر ہوتی سیاست (اور رو بہ زوال معیشت) پر بھی بات ہوئی۔ اقبال ؒ نے تو ”قادر و عادل‘‘ سے ”بندۂ مزدور کے تلخ اوقات‘‘ کا شکوہ کیا تھا، اب تو متوسط طبقے کے لیے بھی حالات کی گراں باری جان کنی کی کیفیت کو چھونے لگی ہے۔
میاں صاحب سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا نے آئندہ چند دنوں میں زرداری صاحب سے ملاقات کا عندیہ بھی دیا‘ اور اس کے ساتھ یہ نوید بھی کہ ”دونوں‘‘ کی ملاقات میں کوئی رکاوٹ نہیں (جس کے لیے مولانا کی گزشتہ کئی مہینوں کی کوششیں بے اثر رہی تھیں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے میاں صاحب سے مولانا کی ملاقات کو ”سیاسی آکسیجن‘‘ کی فراہمی قرار دیا اور اس کے ساتھ عدالت عظمیٰ سے یہ ”مطالبہ‘‘ بھی کہ وہ علیل رہنما کی ان سیاسی سرگرمیوں کا نوٹس لے۔
ان کے بقول، عدالت عظمیٰ میں ضمانت کی درخواست میں طبی وجوہ کو جواز بنایا گیا تھا۔ چودھری صاحب کے بقول، تو کیا عدالت میں جھوٹ بولا گیا تھا؟ یہاں وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر گئے کہ عدالت عظمیٰ نے ضمانت کی درخواست، سینئر موسٹ ڈاکٹروں کی میڈیکل رپورٹوں کا مفصل جائزہ لینے کے بعد منظور کی تھی۔
مولانا سے ملاقات کے بعد، میاں صاحب میڈیکل چیک اپ کے لیے شریف میڈیکل سٹی تشریف لے گئے۔ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان کے بقول، دل کی دھڑکن نارمل نہیں، علاج جاری ہے۔ مزید علاج کے لیے تازہ ترین رپورٹوں کی روشنی میں مشاورت ہو رہی ہے۔
حالاتِ حاضرہ سے با خبر رہنا، ہم جیسوں کی مجبوری ہے، لیکن سچ بات یہ ہے کہ آج 9 اپریل کا خیال آتے ہی، میں ”ناسٹلجیا‘‘ کی گرفت میں ہوں، 42 سال پہلے کا 9 اپریل… نواب زادہ مرحوم اسے بیلٹ بکس کے تقدس کی ایسی تحریک قرار دیا کرتے، تھرڈ ورلڈ میں جس کی کوئی مثال اس سے پہلے موجود نہیں تھی۔
سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کو کہنے والوں نے ”ام الجہاد‘‘ بھی کہا کہ اس نے کشمیر سمیت دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں کو نیا جذبہ دیا تھا۔ بھٹو صاحب کے خلاف 1977ء کی تحریک بھی، دنیا میں آمریتوں کے خلاف جمہوری تحریکوں کا ”ہراول دستہ‘‘ بنی۔ ایران میں رضا شاہ پہلوی کے خلاف انقلابی تحریک کو بھی تجزیہ کار ان ہی میں شمار کرتے۔
بھٹو صاحب کے خلاف 9 جماعتوں کے اتحاد (پی این اے) کی تحریک الیکشن کے تیسرے روز ہی شروع ہو گئی تھی۔ ”قائد عوام‘‘ کا پورا دور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا بد ترین دور تھا جس میں حزبِ اختلاف کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو گیا تھا۔ پہلے ہی سال پنجاب سے جماعت اسلامی کے واحد ایم این اے ڈاکٹر نذیر شہید کا ڈیرہ غازی خان میں ان کے کلینک میں قتل، پھر خواجہ رفیق کی پنجاب اسمبلی کے عقب میں سر عام شہادت، لیاقت باغ راولپنڈی سے لے کر لاہور میں شاد باغ کے تاج پورہ گرائونڈ تک، لہو کی داستانیں…
سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کے ساتھ جیلوں میں ناروا سلوک، آزاد منش صحافیوں کی گرفتاریاں، عدلیہ کو بے بال و پر کرنے کے لیے یک طرفہ آئینی ترامیم، قائد حزب اختلاف ولی خان اور ان کے رفقا کے خلاف غداری کے مقدمات اور ان کی نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی… اور پھر سات مارچ 1977ء کے بد ترین دھاندلیوں والے انتخابات، جن کا آغاز ہی ”قائد عوام‘‘ کے بلا مقابلہ انتخاب سے ہوا، کہ لاڑکانہ میں ان کے مد مقابل مولانا جان محمد عباسی کو کاغذات نامزدگی سے قبل اغوا کر لیا گیا تھا۔
وزیر اعظم بلا مقابلہ منتخب ہو گئے تھے تو وزرائے اعلیٰ اس ”سعادت‘‘ سے کیوں محروم رہتے؟ چنانچہ یہی پریکٹس صوبوں میں بھی دہرائی گئی۔ پنجاب میں تو سینئر منسٹر بھی بلا مقابلہ منتخب ہو گئے… پولنگ والے دن کی ایک تصویر ایک غیر ملکی جریدے میں شائع ہوئی۔ لاہور کے ایک پولنگ سٹیشن پر امیدوار کے ایک ہاتھ میں سٹین گن تھی اور دوسرے میں بیلٹ بکس… تصویر کے نیچے سوالیہ نشان کے ساتھ کیپشن تھا: ”The Law minister?‘‘
پی این اے نے قومی اسمبلی کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا اور اس کے ساتھ احتجاجی تحریک کا اعلان۔ اس تحریک میں اوّلین اسیری کا اعزاز ائیر مارشل اصغر خان (اور ان کے رفقا) کو حاصل ہوا۔ 17 مارچ کی شب انہیں لاہور کے ایک ریستوران میں ڈنر کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے ساتھ دیگر اسیروں میں جاوید ہاشمی، ملک حامد سرفراز، خورشید قصوری، ہمارے شامی صاحب اور ان کے رفیقِ قلم ممتاز اقبال شامل تھے۔
ملک کے دیگر شہروں کی نسبت لاہور ٹھنڈا تھا۔ اکبر بگٹی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں تھے۔ اللہ بخشے، چودھری محمد اسماعیل ایڈووکیٹ بھی انہی کی بیرک میں تھے۔ بلوچ سردار لاہور والوں کی بے حسی کی شکایت کرتا تو سپریم کورٹ بار کے سابق صدر کا جواب ہوتا: لاہور ایک بڑی دیگ ہے‘ یہ دیر سے گرم ہو گی اور پھر دیر تک گرم رہے گی‘ اور 9 اپریل کو یہ دیگ گرم ہو چکی تھی۔
ملک کے مختلف حصوں سے آنے والی گرما گرم خبروں نے لاہوریوں کو بھی گرما دیا تھا۔ مارچ کے آخر میں یہاں لوہاری دروازے کی مسجد کے سانحہ نے لاہور کو غم و غصے سے بھر دیا۔ شہر بھر کے دینی مدارس کے طلبہ نے یہاں سے پُر امن جلوس نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
نماز عصر کے بعد، مسجد کے باہر ”صفیں‘‘ ترتیب دی جا رہی تھیں کہ پولیس ٹوٹ پڑی۔ آنسو گیس، لاٹھی چارج، گیس کے گولے مسجد کے صحن میں بھی گر رہے تھے، مسجد کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ مغرب، عشا اور اگلے روز فجر کی نماز بھی نہ ہو سکی۔
اور پھر 9 اپریل… پنجاب اسمبلی کی حلف وفاداری کا دن۔ بھٹو صاحب خود اسمبلی میں موجود تھے۔ ادھر نواب زادہ صاحب کی زیر قیادت مسجد نیلا گنبد سے احتجاجی جلوس پنجاب اسمبلی کی طرف روانہ ہوا جسے قدم قدم پر رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ لاہور کی مال روڈ پر ریاستی قوت اور عوامی مزاحمت کی ولولہ انگیز تاریخ رقم ہو رہی تھی۔
بیس سے زیادہ لاشیں، سینکڑوں زخمی۔ ایک لاش لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں پڑی تھی۔ نواب زادہ صاحب کی زیرِ قیادت ”تحریکِ نظام مصطفی‘‘ کے جانباز لڑتے بھڑتے، گرتے پڑتے اسمبلی ہال کے چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ نواب زادہ صاحب نڈھال ہو گئے تھے، کارکن انہیں سہارا دیتے ہوئے شاہ دین بلڈنگ میں لے آئے۔
ادھر شارع فاطمہ جناح پر جماعت اسلامی کے دفتر سے خواتین کا جلوس روانہ ہوا۔ بیگم سید ابوالاعلیٰ، بیگم آمنہ اصغر خان، بیگم مہناز رفیع اور چودھری ظہور الٰہی کی صاحبزادیاں قیادت کر رہی تھیں ( قیصرہ الٰہی بعد میں چودھری پرویز الٰہی کی بیگم بنیں) خواتین سے نمٹنے کے لیے ایک رات قبل زنانہ پولیس کا ”خصوصی دستہ‘‘ تیار کیا گیا تھا (جسے ”نتھ فورس‘‘ کا نام دیا گیا) سینکڑوں خواتین، مردانہ وار آگے بڑھ رہی تھیں۔
انہیں بھی لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سامنا تھا۔ ان کے بیٹے اور بھائی، پانی کی بالٹیاں اور رومال لئے ان کے دائیں بائیں موجود تھے کہ ناک اور آنکھوں پر گیلے رومال آنسو گیس کے اثرات کی شدت کو کم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ لاہور کی ”بڑی دیگ‘‘ گرم ہو گئی تھی جو 5 جولائی 1977ء کو ٹھنڈی ہوئی۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •