نقل…روک سکو تو روک لو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ پچاس خاتمے کے قریب تھا، جب میں نے آخری امتحان دیا۔ اُس وقت نقل یوں ہوتی تھی کہ پڑوس میں بیٹھے لڑکے کی کاپی کو دیکھنے کی کوشش کرتے تھے، وہ بھی کن انکھیوں سے۔ اور پڑوس کا لڑکابھی کچھ ایسے بانہیں پھیلا کر بیٹھتا تھا، جیسے مرغی انڈوں پر بیٹھتی ہے۔

بڑی تعداد میں لڑکوں کی تھرڈ ڈویژن آتی تھی اور کثرت سے فیل ہوا کرتے تھے۔ لڑکیوں کا معاملہ جدا تھا، جی لگا کر پڑھتی تھیں اور اچھی پوزیشن لاتی تھیں۔ بس اتنا تھا نقل کا چلن۔ اُنہی دنوں ایک عام خیال پیدا ہوا کہ کراچی بورڈ کے پرچے مشکل ہوتے ہیں، لاہور بورڈ کے پرچے نہ صرف آسان ہوتے ہیں بلکہ لاہور والے آسانی سے پاس کر دیتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کراچی سے لڑکے بڑی تعداد میں لاہور جا کر امتحان دیتے اور پاس بھی ہوتے تھے۔ ایسے پاس ہونے والوں کو کہا جاتا تھا کہ ’وایا بھٹنڈا‘ پاس ہوئے ہیں۔ آج کوئی یقین نہیں کرے گا۔ لاہور کے میٹرک امتحان کے بارے میں یہ خیال قیامِ پاکستان سے پہلے بھی تھا اور اتنا پختہ تھا کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لڑکے امتحان دینے لاہور پہنچا کرتے تھے۔

ان دنوں دلّی سے لاہور جانے والی ریل گاڑی جنوبی پنجاب کے جس اسٹیشن کے راستے چلتی تھی، اس کا نام بھٹنڈا تھا۔ چنانچہ یہ ’وایا بھٹنڈا‘ کی اصطلاح کا چلن آزادی سے پہلے سے تھا۔ وہ ریلوے لائن اب بھی موجود ہے، البتہ پاکستان والوں نے اس کا استعمال ترک کر دیا ہے۔

میرا خیال ہے کہ اب پاکستان کے امتحانوں میں پاس ہونا اتنا آسان ہو گیا ہے کہ بھٹنڈا والی لائن پر پسنجر ملنا بند ہو گئے ہیں اور یہ لائن گھاٹے کی لائن ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک وزیر سے پوچھا کہ یہ روٹ کیوں بند ہے، اس نے کہا ’وارا نہیں کھاتا‘۔ پتانہیں اس کا کیا مطلب ہے۔

پھر آتے ہیں موجودہ پاکستان کی طرف۔ اس کے بعد خدا جانے کیا ہوا، جیسے ہوا کا رخ ہی بدل گیا۔ نہ صرف نقل عام ہوئی، پرچے آؤٹ ہونے لگے اور کاپی میں نمبر بڑھوائے جانے کی خبریں عام ہونے لگیں۔ نقل عام ہوتے ہوتے روز کا معمول بن گئی۔ میرے جاننے والے کئی نوجوانوں نے اعتراف کیا کہ وہ نقل کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں؟

نقل نہ کریں تو بددیانت لڑکے لڑکیاں زیادہ نمبر لائیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار بنگلہ دیش سے عجب خبر آئی۔ پتہ چلا کہ مشتعل طالبعلموں نے احتجاجی جلوس نکالا۔ ان کا مطالبہ تھا ’ہمیں نقل کی اجازت دی جائے‘۔ ان کی تاویل ایسی تھی کہ ان کی بات سمجھ میں آتی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ یا تو کوئی نقل نہ کرے، یا پھر سب کو اجازت دے دی جائے، ورنہ نقل کرنے والے آگے نکل جائیں گے۔

پھر پتا نہیں ان کے مطالبے کا کیا بنا۔ بہت عرصے سے کچھ سننے میں نہیں آرہا۔ اب یا تو بنگلہ دیش والوں نے اس لعنت پر قابو پالیا ہے یا سب کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ پاکستان میں تو صورت حال اتنی بگڑ گئی ہے کہ اصلاح کا امکان تک نظر آنا بند ہو گیا۔ شہر کے بڑے بڑے غنڈوں نے اپنی مافیا قائم کر لی ہے۔

وہ بڑی چابک دستی سے پرچے آؤٹ کراتے ہیں، جس میں لاکھوں کی ہیرا پھیری ہوتی ہے یا پھر کلاس روم میں بیٹھے ہوئے طالب علموں کو بیٹھے بیٹھے آسانی سے جواب لکھواتے ہیں۔ پہلے تو یہ نقل کرنے والے پرچیاں چھپا کر یا ان کی بتّیاں بنا کر لاتے تھے اور ڈیسک کے نیچے انہیں کھول کر جواب لکھا کرتے تھے مگر اب تو سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے اور اسمارٹ فون نے ایسا انقلاب برپا کیا ہے کہ کچھ عرصے بعد آپ دیکھیں گے کہ ہر ایک پاس ہونے لگے گا۔

میں ایک ایسے لڑکے کو جانتا ہوں، جس نے مر مر کر لکھنا پڑھنا سیکھا تھا اور جو میرے حساب سے نرا ان پڑھ تھا۔ باپ نے واقف کاروں سے اپیل کی کہ وہ غریب بی کام کے امتحان میں بیٹھ رہا ہے، کوئی درد مند اس کی فیس ادا کردے۔ وہ بھی کردی گئی۔ پھر غضب ہوا۔ وہ پاس ہو گیا اور کہیں ملازمت بھی مل گئی۔ اس پر مجید لاہوری مرحوم کا شعر یاد آتا ہے:

شومئی قسمت سے وہ لڑکا منسٹر بن گیا

باپ کا دل جنت الفردوس میں مسرور تھا

مجید لاہوری تو کبھی کے مرحوم ہوئے، ان کا یہ شعر آج بھی زندہ ہے۔ اب سب سے زیادہ ترس امتحان کی نگرانی کرنے والے عملے پر آتا ہے، جسے کبھی معطل کیا جاتا ہے اور کبھی بے عزت کر کے بر طرف کہ وہ نقل روکنے میں ناکام رہے۔ وہ دکھیا کیا کریں، لڑکے اتنے سیانے ہو گئے ہیں اور شہر کے غنڈے اس قدر سرگرم عمل ہو گئے ہیں کہ وہ چاہیں بھی تو نقل کو نہیں روک سکتے۔

مگر ٹھہرئیے! اس کا ایک حل بھی ہے۔ وہ یہ کہ نوجوانوں کی رٹّا لگانے کی صلاحیت نہ جانچی جائے، ان کی ذہانت آزمائی جائے۔ انہیں کتابیں دیکھ کر جواب لکھنے کے لئے کہا جائے۔ چاہیں تو انہیں بڑی لائبریری میں بٹھا کر کہا جائے کہ ان کتابوں میں جواب تلاش کریں یعنی انہیں درسی کتابیں دستیاب ہوں اور وہ ان میں سوالوں کے جواب ڈھونڈیں۔

سوال اس نوعیت کے ہوں جن کے جواب دینے کے لئے طالب علم اپنی ذہانت استعمال کرے۔یہاں اپنی نو عمری کے دنوں کا ایک واقعہ یاد آیا۔ کراچی کی امریکن لائبریری میں کتابوں کا بے مثال ذخیرہ تھا، جس سے بہت لوگ فیض اٹھاتے تھے۔ میں اور میرے ہم عمر دوست باقاعدگی سے وہاں جاتے تھے۔

لائبریری میں ہر مہینے ایک مقابلہ ہوتا تھا۔ وہ لوگ معلومات عامہ کا ایک سوال نامہ جاری کرتے تھے، لوگوں کو عام دعوت تھی کہ لائبریری کی کتابوں میں جواب تلا ش کریں۔ صحیح جواب دینے والے کو انعام میں کوئی کتاب دی جاتی تھی۔ ہم لوگ دیکھتے تھے کہ وہاں باقاعدگی سے آنے والے ایک پڑھاکو قسم کے صاحب ہر مہینے سارے سوالوں کے صحیح جواب بھر دیتے تھے اور انعام لے جاتے تھے۔

ہم سارے دوست پیر پٹخ کر رہ جاتے تھے کہ جب سارے جواب اسی چھت کے نیچے موجود ہیں تو ہمیں کیوں نہیں ملتے۔ اسی طرح میں نے برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی کا ایک کورس کیا، جس میں ہر مہینے ایک مضمون لکھ کر بھیجنا ہوتا تھا اور ضروری تھا کہ مضمون درسی کتاب ہی کی عبارت سے ترتیب دیا جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس میں بھی پسینے چھوٹ جاتے تھے۔

اسی کی بنیاد پر طالب علم کو گریڈ ملا کرتے تھے۔ اس میں کچھ ذہانت طالب علم کی اور اس سے بھی زیادہ ذہانت سوال ترتیب دینے والے ممتحن کی ہوتی تھی۔

جانتا ہوں، یہ حربے ہمارے معاشرے میں کام آنے والے نہیں۔ ہم جتنے بھی جتن کر لیں، کرپشن جو ہماری رگ و پے میں اتر گئی ہے، اس کو شکست دینا ہمارے بس کا روگ نہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •