بصارت سے محروم صحافی کی کہانی: ’کوئی یقین نہیں کرتا کہ میں بھی صحافی ہوں‘

رفعت اللہ اورکزئی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عماد

BBC
عماد یوسفزئی

پاکستان میں صحافت کچھ برسوں میں جس تیزی سے خطرناک اور مشکل پیشہ بنتا جارہا ہے وہیں اس پیشے سے بعض ایسے باہمت افراد بھی منسلک ہورہے ہیں جنھیں دیکھ کر پہلی مرتبہ یقین نہیں آتا کہ کیا یہ بھی صحافت میں قسمت آزمائی کرسکتے ہیں؟

شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پشاور میں ایک ایسے باہمت نوجوان نے صحافت کو بطور پیشہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے جو قوت بصارت سے مکمل طورپر محروم ہیں۔

خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے علاقے بٹ خیلہ کے رہائشی عماد یوسفزئی نے حال ہی میں پشاور یونیورسٹی سے صحافت اور ابلاغ عامہ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ گذشتہ ایک سال سے پشاور کے ایک مقامی انگریزی اخبار سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔

23سالہ عماد یوسفزئی بچپن سے ہی دونوں آنکھوں سے مکمل طورپر محروم ہیں۔

مزید پڑھیے

خیبر پختونخوا کی پہلی بیورو چیف خاتون صحافی

’ہری پور میں صحافی کے قتل کی وجہ خبر بنی‘

’اپنی بیٹی کو صحافی نہیں بننے دوں گی‘

ان کا کہنا ہے ‘جب وہ کسی تقریب کی کوریج کے لیے جاتے ہیں تو کوئی اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ میں بھی ایک صحافی ہیں اور انگریزی اخبار سے وابستہ ہوں۔’

انھوں نے کہا کہ انہیں بچپن سے صحافی بننے کا شوق تھا اور اس مقصد کے حصول کے لیے شعبہ صحافت پشاور یونیورسٹی میں داخلہ لیا تاکہ باقاعدہ صحافی بن سکوں۔

پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے ایک مشکل اور خطرناک پیشہ رہا ہے لیکن عماد یوسفزئی نے کبھی ان مشکلات کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا بلکہ ایک باہمت نوجوان کی طرح اس پیشے میں اپنا کرئیر بنانے کی کوششوں میں ہیں۔

‘پہلے پہل جب میں ہاسٹل سے باہر فیلڈ کی طرف نکلتا تو دل میں بڑے وسوسے آتے تھے کہ کیسے اکیلے جاؤں گا کوئی ساتھ نہیں ہے، گاڑی نے ٹکر مار دیی تو کیا ہوگا، ایسے کئی سوالات ذہن میں پیدا ہوتے تھے لیکن اب میں نے ان مشکلات پر بہت حد تک قابو پالیا ہے۔’

عماد

BBC

انھوں نے کہا کہ وہ باقاعدہ اپنے اخبار کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں اور ان کے نام کے ساتھ کئی سٹوریز بھی شائع ہوچکی ہیں۔

ان کے مطابق جب سے پشاور میں موبائل ایپ کے ذریعے سے ٹیکسی یا موٹر سائیکل منگوانے کی سہولت عام ہوگئی ہے تو ان جیسے افراد کی بھی مشکلات حل ہوگئی ہیں اور ان کے لیے رپورٹنگ کرنے میں بھی کافی حد تک آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔

عماد یوسفزئی کے بقول ‘میں صحافت میں اس مقصد کے تحت آیا ہوں کہ اپنے علاقے اور کمیونٹی کے لوگوں کےلیے کچھ کام کرسکوں اور بس یہی میرا بڑا مقصد اور خواب ہے۔’

ان کے مطابق ان کا علاقہ بڈخیلہ (ضلع دیر) انتہائی پسماندہ تحصیل ہے لیکن قومی میڈیا میں اسے کوئی کوریج نہیں ملتی اور اس طرح معذروں کے بھی لاتعداد مسائل ہیں لیکن وہ بھی اس طرح ذرائع ابلاغ تک رسائی نہیں رکھتے جس طرح ان کا حق بنتا ہے۔

عماد یوسفزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ معذور ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے لیکن انھوں نے کبھی اپنی معذوری کو اپنے مقصد کے حصول میں حائل ہونے نہیں دیا۔

‘میں قوت بصارت سے محروم ضرور ہوں لیکن مجبور اور کمزور نہیں۔ میں نے اپنی معذوری کو کبھی کمزوری نہیں سمجھا بلکہ اس کو بطور طاقت استعمال کیا ہے اور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہا ہوں۔’

معذورں کے ساتھ عام لوگوں کے روئیے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عمومی طورپر خصوصی افراد کے ساتھ لوگوں کا رویہ زیادہ برا نہیں ہے لیکن پھر بھی اس ضمن میں آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔

‘جب میں کسی تقریب میں جاتا ہوں تو لوگ مجھ سے طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں، آپ صحافی ہیں، اچھا آپ کام کیسے کرتے ہیں، آپ تو معذور ہیں، سٹوری کیسے لکھتے ہیں، آپ سرکاری نوکری کیوں نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ، ایسے درجنوں سوالات مجھ سے روزانہ پوچھے جاتے ہیں لیکن میں پھر بھی مایوس نہیں ہوتا۔’

عماد

BBC

انھوں نے کہا کہ بدقسمی کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ آپ کی معذوری پر سوال کرتے ہیں جس سے کبھی کبھی دل خفا سا ہو جاتا ہے۔

عماد یوسفزئی ریڈیو پاکستان پشاور سے خصوصی افراد سے متعلق ایک ہفتہ وار شو کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں قومی ٹی وی چینل کا اینکر بننے کا بہت شوق ہے اور اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو یہ تمام معذوروں کےلیے ایک بڑا تحفہ ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10745 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp