انڈین الیکشن: سیاسی مقاصد کے لیے فوج کا استعمال سابقہ جرنیلوں میں تشویش کا باعث

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین الیکشن

AFP

انڈین فوج کے آٹھ سابق سربراہان سمیت سو سے زائد سابقہ فوجی افسران نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں فوج اور اس کی علامتوں کو استعال کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انڈیا کے صدر سے اپیل کی ہے کہ وہ فوج کا نام سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس اقدام کو حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کا سیاسی حربہ قرار دیا ہے۔

صدر مملکت کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں سابق قوجی اہلکاروں نے کہا ہے کہ سرجیکل سٹرائکس اور سرحد پار فوجی کارروائیوں کا سیاسی رہنماؤں کے ذریعے کریڈیٹ لینا اور فوج کو ‘مودی جی کی سینا’ کہنا جیسے بیانات ناقابلِ قبول ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ جاری

ایل کے اڈوانی کی نریندر مودی پر ڈھکی چھپی تنقید

انڈین الیکشن: واٹس ایپ ’جعلی خبروں کا بلیک ہول’

اس خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا انتخابی مہم میں ملٹری وردی پہن کر آنا اور پوسٹروں میں فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھینندن وررتھمان کے پوسٹر آویزاں کرنا بھی تشویش کا باعث ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ انتخابی کمیشن نے اس حوالے سے کی گئی چند شکایات کے بعد فوج کے نام کا سیاسی مقاصد کے لیے استعال روکنے کے اقدامات کیے ہیں لیکن وہ موثر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

سابقہ فوجی اہلکاروں نے صدر مملکت اور ملک کی افواج کے سپریم کمانڈر سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ فوراً سیاسی جماعتوں کو ہدایت جاری کریں کہ وہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ملٹری، ملٹری یونیفارم اور علامتیں سیاست میں استعال کرنے سے گریز کریں ۔‘

اس خط میں سابقہ جنرل شنکر رائے چودھری، جنرل دیپک کپور، سابق ایڈمرل لکشمی ناراین رام داس اور سابق ائیر چیف مارشل این سی سوری، مسلح افواج کے آٹھ سابق سربراہوں سمیت تقریباً ڈیڑھ سو سابقہ فوجی اہلکاروں کے نام شامل ہیں۔

وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے اس خط کو کانگریس کا سیاسی حربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ تشویش کی بات ہے کہ بعض لوگوں کے نام اس خط میں ان کی اجازت کے بغیر شامل کیے گئے ہیں۔ بعض مفاد پرست لوگوں نے فرضی الزام لگا کر ایک فرضی خط پر دستخط کیے ہیں۔ ہم ان کی مذمت کرتے ہیں۔‘

انڈین الیکشن

AFP

یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اپنی انتخابی تقریروں میں عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کبھی پلوامہ حملے تو کبھی بالا کوٹ میں کی گئی فضائی کارروائی ذکر کرتے ہیں۔ انتخابی ریلیوں میں مودی کا بڑا ایجنڈہ قوم پرستی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ مودی اوران کی جماعت اپنی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کیے لیے فوج کے نام کا استعمال کر رہی ہے۔ کانگریس کے سینیئر رہنما نوجوت سنگھ سدھو نے کہا ہے کہ ’فوج اور دوسرے غلط موضوعات اٹھا کر مودی جی عوام کی توجہ اصل مسئلوں سے ہٹانا چاہتے ہیں لیکن ان سے عوام کو گمرا ہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی نے پارلیمانی انتخابات کی انتخابی مہم کو قوم پرستی کی تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔ انتخابی مہم اتنی تلخ شکل اختیار کر چکی ہے کہ اب اپوزیشن کو ملک اور فوج کا دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10827 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp