بلوچستان: ہزار گنجی دھماکے کے خلاف دھرنا جاری، مظاہرین کا لانگ مارچ کا اعلان

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان

BBC

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں پیش آنے والے خود کش حملے کے خلاف ہزارہ قبیلے کے افراد کا دھرنا جاری ہے۔ ادھر حقوق انسانی کی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے واقعات کے خلاف کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گی۔

ہزار گنجی میں خود کش حملے کا واقعہ جمعے کو اس وقت پیش آیا تھا جب ہزارہ قبیلے کے پھل اور سبزی فروش وہاں خریداری کے لیے گئے تھے۔ اس واقعہ میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 40 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد ہزارہ قبیلے کے افراد اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا اور مغربی بائی پاس پر ہزارہ ٹاؤن کے قریب دھرنا دیا جو اب بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان: خودکش دھماکے اور بم حملے میں 21 افراد ہلاک

کوئٹہ میں خواتین اور دودھ پیتے بچوں کا دھرنا

بلوچستان

BBC

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس دھرنے کو ختم کروانے کے لیے مغربی بائی پاس جا کر شرکا سے ملاقات کی لیکن انھوں نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔

دھرنے کے شرکا کا کہنا تھا کہ مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے اس واقعے کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

بلوچستان

BBC

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جلیلہ حیدر نے ہزار گنجی میں پیش آنے والے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے محنت کش طبقے کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گذشتہ سال ان واقعات کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی جس کے بعد فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے فی الفور کاروائی کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ایک سال تک ہم نے ریلیف محسوس کیا لیکن ہزار گنجی کے واقعے نے پورے سال کی کسر پوری کر دی ہے۔

اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ وہ کوئٹہ سے اسلام آباد تک ہزارہ خواتین اور بچوں کے ساتھ لانگ مارچ کریں گی جس کے لیے وہ اپنے عمائدین سے بات کریں گی۔

بلوچستان پریس کلب

BBC

انہوں نے کہا ’ہم دہشت گردی سے تنگ آ چکے ہیں۔ حکومت بے اختیار ہے ہم اس سے بات نہں کرنا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد جائیں گے اور پاکستان کی ہر گلی اور کوچے سے گزر کر یہ بتائیں گے کہ وہ کون لوگ ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10786 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp