آسٹریلیا: برسوں کوششوں کے بعد ڈرون کے ذریعے پیزا ڈلیوری شروع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی سال کی آزمائشی پروازوں کے بعد آسٹریلیا میں ڈرون کے ذریعے پیزا پہنچانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

کنبرا کے علاقے میں گوگل کی بانی کمپنی ایلفابیٹ کی ملکیت میں شامل کمپنی ونگ ڈرون کے ذریعے خوراک، کافی اور ادویات فراہم کرے گی۔ یہ اس علاقے کے 100 گھروں میں مطلوبہ اشیا پہنچا سکے گی۔

اگرچہ آسٹریلیا میں سنہ 2014 سے پیزا پہنچانے کی آزمائشی سروس کی کوششیں جاری تھیں تاہم وہاں کے مکینوں کی جانب سے شور کی شکایت کی جا رہی تھی۔

ونگ کا کہنا ہے کہ آزمائشی پروازوں کے بعد ملنے والا ردعمل ’قابل قدر‘ ہے اور امید ہے کہ اس ڈائیلاگ کو ’جاری‘ رکھا جائے گا۔

آسٹریلیا کے ایوی ایشن حکام نے ونگ کو کمرشل سروس فراہم کرنے کی اجازت اس کے حفاظتی ریکارڈ کے معائنے اور آپریشنل منصوبے کا جائزہ لینے کے بعد دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹیکنالوجی کی لت کیسے ہمارے دماغ کو آلودہ کر رہی ہے؟

کھانا بنانے کی شوقین ایک بغیر پیٹ والی لڑکی!

حکام اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ ونگ کمپنی نہ تو علاقے کے مکینوں اور نہ ہی کسی طیارے کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

ونگ ڈرون صارفین کے گھر میں موجود باغیچے میں ایک تار کے ذریعے پیزا، دوا یا کافی پہنچائے گا۔

لیکن اس اجازت کے ساتھ کچھ شرائط بھی جڑی ہوئی ہیں۔ جیسا کہ ڈرون دن کے اوقات میں سروس فراہم کر سکتا ہے اور چھٹی والے دن مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے پہلے ڈرون پرواز نہیں کر سکتا۔ ڈرون کو مرکزی شاہراؤں اور پر ہجوم راستوں پر جانے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔

بونیتھن کے مکینوں نے ڈرون سروس کے خلاف مہم چلائی تھی ان کا کہنا تھا کہ ڈرون کی آمد اور روانگی کے وقت بہت شور سنائی دیتا ہے۔

اس گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا کہ ڈلیوری کے مقام پر جب ڈرون پہچتا ہے تو اس کی آواز ویکیوم کلینر کی مانند شدید اونچی ہوتی ہے۔

اس کے جواب میں ونگ نے بتایا کہ اس نے کم آواز پیدا کرنے والے ڈرون تیار کر لیے ہیں۔

ایوی ایشن حکام نے بھی کمپنی سے کہا ہے کہ وہ وہ کمرشل سروس کے لیے کم شور پیدا کرنے والے ڈرون استعمال کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10737 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp