تیرے میرے ہونٹوں پہ۔ مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسے ہی ایک دن بیٹھے بٹھائے میں نے سوچا کیوں نہ اپنی پسند کے تمام گانے ایک یو ایس بی میں بھروا لیے جائیں، کھٹ سے گاڑی نکالی اور ایک میوزک سٹور کے باہر پہنچ کر بریک لگائی، دکان میں انیس بیس برس کا ایک لڑکا موجود تھا، میں نے اپنی پسندیدہ فلموں کی فہرست اسے تھمائی اور کہا کہ ان فلموں کے گانے بھر دو، اُس نے فہرست پراچٹتی سی نظر ڈالی اور پھر بولا کہ یہ چاندنی کون سی فلم ہے، کیا بہت پرانی ہے؟ اس سوال پر میں سٹپٹا گیا، عجیب نا معقول لونڈا ہے جسے چاندنی فلم کا نہیں پتا، بد قت تمام اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایسی پرانی بھی نہیں، یہی کوئی 89 / 90 میں آئی ہوگی۔

اس پر وہ غریب معصوم سی شکل بنا کر بولا ”تو سرپرانی ہی ہوئی نا! “ اب میرا ماتھا ٹھنکا، غور کیا بیچارہ ٹھیک ہی توکہہ رہا تھا، جو فلم اُس کی اپنی پیدائش سے دس گیارہ برس پہلے آئی تھی اسے وہ پرانی نہ کہے تو اور کیا کہے! چاندنی کے تمام گانے مجھے آج بھی یاد ہیں، ”تیرے میرے ہونٹوں پہ“ کا تو جواب ہی نہیں، شفون کی زرد ساڑھی میں لپٹی سری دیوی سویٹزر لینڈ کی حسین وادیوں میں یہ گیت فلم بند کرواتی ہوئی غضب ڈھا رہی ہے، پھر لتا منگیشکر کی آواز نے تو جیسے گانے میں جادو بھر دیاہو، لتا کا ساتھ بابلا مہتا نے دیا ہے، اِس گلوکار کو زیادہ شہرت نہیں ملی حالانکہ اس کی آواز بہت مختلف تھی، عجیب سی کھنک تھی اس میں۔

جس زمانے کے یہ گانے ہیں اُس دور میں بالی وڈ کا میوزک اپنے عروج پر تھا، اسی کے آگے پیچھے کہیں عاشقی، قیامت سے قیامت تک، میں نے پیار کیا ریلیز ہوئیں، دل والے دلہنیا لے جائیں گے ذرا بعد میں 1995 میں آئی، یہ سب ہِٹ ہوئیں، سب کی موسیقی ایسی شاندار تھی کہ آج بھی اِن فلموں کے گانے لبوں پر ہیں۔ ہم سے پچھلی جنریشن کے لوگوں کی نظر میں بالی وڈ کی موسیقی کا عروج سن 50 سے 70 کی دہائی تک تھا جب بھارتی فلم نگری پر اوپی نیر، نوشاد اور شنکر جے کشن جیسے میوزک ڈائریکٹرز کا راج تھا، آر ڈی برمن کو عروج سن 70 کے بعد ملا۔

مگر ہم اِس بحث میں نہیں پڑتے۔ بالی وڈ کے گانوں کا عروج ستّر کے عشرے تک رہا یا نوّے کی دہائی تک، ایک بات طے ہے کہ اکیسویں صدی کی فلم سے موسیقی ختم ہو رہی ہے، آج جب آپ سنیما میں فلم دیکھ کر باہر نکلتے ہیں تو اُس کا کوئی گانا گنگناتے ہوئے نہیں آتے، کیونکہ فلم میں ایسا کوئی گانا ہوتا ہی نہیں جو آ پ کا دل موہ لے (استثنیٰ ہمیشہ رہیں گے جیسے کہ فلم ”سنجو“ کا گانا ”کر ہر میدان فتح“ ) ۔

جس دور میں بالی ود کے گانے سپر ہٹ ہوا کرتے تھے وہ دور میوزک ڈائریکٹرز کی بادشاہت کا دور تھا، یہ میوزک ڈائریکٹرز لتا، رفیع، کشور، آشا اور مکیش جیسے دیو قامت گلوکاروں کے ساتھ بیٹھتے تھے، کئی کئی دن گانوں کی مشق ہوا کرتی تھی، فلم کے ہیرو ہیروئن کی طرح ان کی پذیرائی کی جاتی تھی، فلم کا آدھا بجٹ تو میوزک پر ہی خرچ ہو جاتاتھا۔ میوزک ڈائریکٹر کا کام زیادہ تر تھیوری سے متعلق ہوا کرتا تھا، مثلاً وہ یہ طے کرتا تھا کہ گانا راگ بھیروی میں بنے گا یا راگ درباری میں، اس میں دو انترے ہوں گے یا تین، گانے میں ”پیس“ کیسے لگائے جائیں گے، 40 کی دہائی میں گانوں کا انداز یوں ہوا کرتا تھا کہ جب گلوکار گاتا تھا تو اس کے بعد ساز اسی دھن کو نقل کرکے دوبارہ بجاتے تھے، اسے ریپیٹ کہا جاتا تھا۔

پھرمغرب سے آرکسٹرا کا تصور آیا اور گانے کا انداز بدلا جس میں گلوکار کے گانے کے بعد ساز اسی دھن کی نقل میں نہیں بجاتے بلکہ ایک مختلف پیس بجاتے تھے جسے آرکسٹرا پیس کہا جاتا ہے، اسی طرح گائیکی کے دوران پس منظر میں ہلکے ہلکے ساز مسلسل متضاد سروں میں بجتے ہیں جنہیں کاؤنٹر پوائنٹ کہتے ہیں، یہ بھی مغرب سے درآمد شدہ ہے۔ بالی وڈ میں صرف میلوڈی تھی یعنی سروں کی ترتیب، جتنے راگ راگنیاں ہیں وہ دراصل سروں کی ترتیب ہے، اس سے میلوڈی کا مزاج بنتا ہے جسے ہم نے صبح، دوپیراور شام کے اوقات سے مخصوص کردیاہے کہ فلاں راگ شام کاہے، فلاں صبح کے لیے موزوں ہے۔

جنوبی ایشیا کی موسیقی ایک لحاظ سے محدود بھی تھی اور غیر محدودبھی۔ محدود اس لیے کہ اس میں آرکسٹرا یا کاؤنٹر پوائنٹ نہیں تھے اور لا محدود ایسے کہ مغربی موسیقی کے برعکس جہاں ایک ایک نوٹیشن کاغذ پر لکھی ہوتی ہے، یہ موسیقی اس سے ماورا تھی، خاں صاحب آزاد ہوتے، امپرو وائز کرتے، راگ کے اندر رہتے مگر ایسے کھیلتے کہ انہیں کاغذ میں نوٹیشن کی شکل میں ڈھالنا ممکن نہ رہتا، بڑے غلام علی خان اس کی مثال ہیں۔ خیر یہ بات کہیں اور نکل گئی۔

بالی وڈ کے میوزک ڈائریکٹرز پر واپس آتے ہیں، میوزک ڈائریکٹر ان سب چیزوں کی ترتیب لگاتا تھا، میلوڈی بناتا تھا، یہ طے کرتا تھا کہ بنیادی سُر کون سا ہوگا، آرکسٹرا کیسے بجے گا، کاؤنٹر پیس کیسا ہوگا، راگ کون سا استعمال کیا جائے گا، کتنے وائلن بجیں گے وغیرہ۔ اس تمام تھیوری کو عملی جامہ ایک اور شخص پہناتا تھا جسے ارینجر کہتے تھے، یہ بے حد اہم شخص ہوتا تھا، گلوکاروں کو لے کر بیٹھنا، ان کی ریہرسل کروانا، سب ارینجر کا کام ہوتا، اس کی مدد کے لیے ایک کمپوزر ہوتا، اگر کوئی موسیقار درست ساز نہ بجا رہا ہوتا تو کمپوزر اسے بجا کے دکھاتا کیونکہ وہ انہی میں سے پروموٹ ہو کر آیا ہوتا تھا، مگر یہ ارینجر اور کمپوزر بیچارے گمنام ہی رہتے، ہِٹ گانے کی داد میوزک ڈائریکٹر اور گلوکار سمیٹتے۔

سو یہ وہ انتظام تھا جس کے بل پر بالی وڈ کے گانے اور فلمیں سپر ہٹ ہوتے تھے، یہ سب اب ناپید ہو رہا ہے کیونکہ فلم کے موضوعا ت بدل رہے، فلم یا تو انٹر ٹینمنٹ کے لیے ہوتی ہے یا حقیقت کے اظہار کے لیے، کوئی فلم جتنی تفریحی ہو گی اتنی حقیقت سے دور بھی ہوگی مثلاً ایک تفریحی فلم کا ہیرو جو ویسے ایک شریف آدمی دکھایا گیا ہوگا لڑکی کو دیکھ کر بے قابو ہو جائے گا اور یکایک گانا گانے لگ جائے گا، اسی طرح ایک شریف خاتون بھی جواب میں ٹھمکے لگا کر باغ میں ناچنا شروع کر دے گی، اور لوگ خوش ہوں گے، حالانکہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ اب چونکہ فلمیں حقیقت کے قریب بننے لگی ہیں تو ایسے گانوں کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے، اب گانا اسی صورت میں ہوگا جب وہ حقیقت میں کسی کلب میں گایا جا رہا ہوگایا پس منظر میں گایا جائے گا جیسے عامر خان نے ”دنگل“ میں یہ تجربہ کیا۔

اب چونکہ فلم بنانے کی تکنیک بہت جدید ہو چکی ہے، ایکشن اور ایڈیٹنگ کے ذریعے فلم بینوں کو مسحور کیا جا سکتا ہے سو ہدایتکار اب روایتی گانوں کی بجائے دیگر ذرائع سے فلم بین کو تفریح مہیا کر رہے ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا ہے کہ ہم آرزو لکھنوی، ساحر لدھیانوی، مجروح سلطان پوری، شکیل بدایونی، شلندر، گلزاراور جاوید اختر سے تقریباً محروم ہو چکے ہیں، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے فلمی گیتوں سے اردو کی ایسی خدمت کی جو شاید کوئی اور نہ کر سکتا، ہمارے بعد آنے والی نسل کو اردو سے جو تھوڑی بہت آشنائی ہے وہ انہی اردو گیتوں کی مرہون منت ہے جسے ہندتوا کے ڈر سے سیاسی طور پر ہندی کہا جاتا ہے۔

چند برس کی بات ہے یہ اردو گیت پھر ختم ہو جائیں گے، فقط یادیں رہ جائیں گی کہ ساحر لدھیانوی لاہورمیں رہتے تھے، بلراج ساہنی اور دیو آنند گورنمنٹ کالج میں پڑھتے تھے، کامنی کوشل کنیرڈ کالج کی سٹوڈنٹ تھی، یش چوپڑہ کے بڑے بھائی بی آر چوپڑہ میکلوڈ روڈ لاہور سے فلمی رسالہ نکالتے تھے، ”اے دل مجھے بتا دے“ کی اداکارہ شیاما گڑھی شاہو لاہور میں رہتی تھی اور بر صغیر کا سب سے بڑا گلوکار محمد رفیع لاہور سے بمبئی گیا تھا۔ کیا زمانہ تھا، سب ختم ہو گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 310 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

––>