فاٹا انضمام: پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص قوانین پر حکومتی موقف طلب کر لیا

عزیز اللہ خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پشاور ہائی کورٹ

BBC
پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ انضمام کے بعد خصوصی قوانین پر اپنا موقف واضح کریں

خیبر پختونخوا کے ساتھ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد اب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران قائم کیے گئے حراستی مراکز اور فاٹا اور پاٹا کے لیے ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن 2011 کے قانون کے تحت زیرِ حراست ملزمان کی حیثیت کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ انضمام کے بعد اس قانون کے تحت قائم کیے گئے حراستی مراکز اور اس قانون کی حیثیت کے بارے میں اپنا موقف واضح کریں۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں حکومتی موقف لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔ اس مقدمے کی سماعت اب 23 اپریل کو ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

سابقہ فاٹا میں قبیلے کی مانیں یا قانون کی؟

کورٹ کچہری سے قبائیلیوں کی توقعات؟

فاٹا کا نظام آخر کیسے چلے گا؟

پشاور ہائی کورٹ میں 70 کے لگ بھگ ایسے افراد کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی ہیں جنھیں اس قانون کے تحت خصوصی طور پر قائم کیے گئے ان حراستی مراکز یا انٹرمنٹ سنٹرز میں رکھا گیا ہے۔

ماضی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں اور مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے ان سے تفتیش کرنے جیسے حالات کی وجہ سے یہ خصوصی قانون سازی کی گئی تھی۔

یہ حراستی مراکز مختلف شہروں میں قائم کیے گئے تھے جن میں اطلاعات کے مطابق سینکڑوں مشتبہ افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے۔

حراستی مراکز

Getty Images
پشاور ہائی کورٹ میں 70 کے لگ بھگ ایسے افراد کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی ہیں جنھیں خصوصی قانون کے تحت حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے

قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد اس قانون کی حیثیت ختم ہو گئی ہے کیونکہ یہ قانون وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں فاٹا اور صوبے کے زیر انتظام نیم قبائلی علاقوں پاٹا کے لیے تھا۔

اب فاٹا اور پاٹا کے حیثیت ختم ہو چکی ہے اور اب یہ علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کے حصہ بن چکے ہیں اس لیے ان سابقہ قبائلی علاقوں میں بھی وہی قانون نافذ ہو گیا ہے جو خیبر پختونخوا اور پاکستان میں نافذ ہے۔

ضلع مہمند کے رہائشی محمد طیب کی وکیل عذرا سلیمان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد طیب سنہ 2014 سے حراستی مرکز میں ہیں اور یہ نہیں بتایا جا رہا تھا کہ واقعی وہ کسی حراستی مرکز میں ہیں بھی یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے عدالت میں یہی موقف اختیار کیا کہ حراستی مراکز یا انٹرمنٹ سنٹرز اگر واقعی اصلاح کے لیے قائم کیے گئے تھے تو پانچ برسوں میں کیا ان کی اصلاح نہیں ہو سکی؟

ان کا کہنا تھا کہ انضمام کے بعد اب یہ قانون نہیں رہا تو جو لوگ ان حراستی مراکز میں ہیں انھیں فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

لاپتہ افراد

BBC

عارف جان ایڈووکیٹ بھی لاپتہ افراد کے وکیل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ملٹری کورٹس کی توسیع کے بارے میں حکومت نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 200 کے لگ بھگ ملزمان کے مقدمات ان عدالتوں نے سنے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک قانون موجود ہے اور اسی کے تحت عدالتیں بھی قائم ہیں جن میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے علاوہ خصوصی عدالتیں اور دیگر معمول کے عدالتیں کام کر رہی ہیں تو ان حراستی مراکز میں زیر حراست افراد کو انھی عدالتوں میں پیش کیا جائے اور ان کے مقدمات کی سماعت انھیں عدالتوں میں کی جائیں۔

ایکشن ان ایڈ آف سول پاور 2011 فار فاٹا پاٹا

یہ قانون بنیادی طور پر سنہ 2011 میں مخصوص حالات کی بنیاد پر قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں کے لیے تھا۔ اس کے بعد پھر ملٹری کورٹس بھی قائم کیے گئے تھے۔ اس قانون کے تحت قبائلی علاقوں میں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جاتا اور ان سے تفتیش کی جاتی رہی ہے۔

لاپتہ افراد

AFP

اس قانون کے تحت مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں زیر حراست افراد کے بارے میں تحقیقات کرتی ہیں اور اگر کوئی ملزم دہشت گردی یا شدت پسندی میں ملوث پایا جاتا تو انھیں ’بلیک` قرار دیا جاتا جبکہ جو ملزمان ان جرائم میں ملوث نہ ہوتے انھیں ’وائٹ‘ یعنی سفید اور مشکوک افراد کو ’گرے` لسٹ میں شامل کیا جاتا تھا۔

حراستی مراکز یا انٹرمنٹ سنٹرز

حراستی مراکز یا انٹرمنٹ سنٹرز اس قانون (ایکشن ان ایڈ آف سول پاور 2011 فار فاٹا پاٹا) کے تحت قائم کیے گئے تھے۔

اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب قانون ہی نہیں رہا تو ان سنٹرز کی حیثیت بھی کچھ نہیں رہی۔ ان مراکز میں زیرِ حراست افراد کی تعداد کچھ واضح نہیں ہے۔

تاہم ان مراکز کے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں زیر حراست افراد کو ان کی اصلاح کے علاوہ فنی تربیت بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ معاشرے کے کار آمد شہری بن کر سامنے آ سکیں۔ ان حراستی مراکز کی تعداد چھ سے آٹھ تک ہے جو لکی مروت، کوہاٹ، پیتام اور دیگر شہروں میں قائم کیے گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10786 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp