گیم آف تھرونز: سپائیلرز سے گھبرانا نہیں

حسن عباس - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخر کار دو سال کے تکلیف دہ انتظار کے بعد میرے جیسے کروڑوں ’گیم آف تھرونز‘ کے مداحوں کے لیے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں جب پیر کو سیریز کا آٹھواں اور آخری سیزن شروع ہوا۔

لیکن اس کے ساتھ سپائیلرز سے بچنے کے مشکل مرحلے کا بھی آغاز ہو گیا۔

https://twitter.com/Evans90/status/1117687553447145472

ٹوئٹر کے صارف ایونز نے اس مرحلے کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا۔

یہ بھی پڑھیے

’سردی آ نہیں رہی۔۔۔۔ سردی آ گئی ہے!‘

آئیں ‘گیم آف تھرونز’ کی دنیا میں کھو جائیں۔۔۔

’اداکار بھی گیم آف تھرونز کے انجام سے بےخبر ہوں گے‘

سیزن کے شائقین پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، لیکن اس کی پہلی قسط امریکی وقت کے مطابق رات کے دس بجے نشر کی گئی۔

لہٰذا جن افراد نے اسے پہلی فرصت میں دیکھا ان کی ایک بہت بڑی تعداد نے بحیثیت بدذوق انسان اپنا فرض سمجھتے ہوئے گیم آف تھرونز کے ٹوئٹر کے ٹرینڈ #GameofThrones پر جا کر کہانی کی تمام ضروری تفصیلات اپنے غیر ضروری تجزیوں کے ساتھ لکھ دی۔

تحریر میں آگے بڑھنے سے پہلے میں پڑھنے والوں سے اس غریب اور بدقسمت لکھنے والے سیزن کے مداح کا غم ضرور بیان کروں گا جسے صبح آفس آتے ساتھ بی بی سی نے اپنے قارئین کے لیے گیم آف تھرونز کے ٹرینڈ پر لکھنے کا کہا (یعنی حکم دیا) اس حکم کی تعمیل کرتے کرتے میں قسط دیکھنے سے پہلے ہی وہ سب کچھ جان گیا جو میں نہیں جاننا چاہتا تھا۔

خدا میرے ایڈیٹر کو پوچھے گا۔

گیم آف تھرونز

BBC
’1080p ہے، فل ایچ ڈی!‘

میری مشکل یہاں ہی ختم نہ ہوئی۔ میرے ساتھ کام کرنے والے ساتھی صحافی اپنے موبائل پر سیزن کی پہلی قسط سے محظوظ ہو رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ مجھے زبردستی جھلکیاں دکھاتے ہوئے فخریہ انداز میں کہتے ’1080 p ہے، فل ایچ ڈی!‘۔

اس کے ساتھ پورے نیوز روم سے آوازیں آ رہیں تھی ’تم نے دیکھا ہے؟ نہیں! میں بتاتا ہوں‘۔ بھلا ہو ساتھی فاران رفیع کا جنھوں نے اس ظلم عظیم کے خلاف۔۔۔۔۔ ٹویٹ کردی۔

https://twitter.com/faranrafi/status/1117683897079357440

انھوں نے لکھا کہ ’میں اعلان کر رہا ہوں میرا آفس محفوظ جگہ ہے۔ یہاں سارا دن کسی کو بھی گیم آف تھرونز پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سب چپ کر کے بیٹھیں!‘

بدقسمتی سے اس ٹویٹ سے حالات پر ذرہ برابر فرق نہیں پڑا۔

سپائیلرز سے بچنے کے طریقے

تو پھر دنیا کی مقبول ترین سیرز کے سپائیلرز سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

پاکستانی مداح اس صورتحال سے بچنے کے لیے کیسی قربانی دے رہے ہیں، سن کر آپ کو بھی خراج تحسین پیش کرنے کا دل کرے گا۔

https://twitter.com/umairjav/status/1117641345261240320

عمیر جاوید کہتے ہیں کہ پاکستان میں رہنے والے افراد نے پہلے ہی صبح کے پانچھ بجے اٹھ کر قسط دیکھ لی ہے۔ ساتھ ہی وہ ان افراد سے سوال کرتے ہیں ’نوکریاں نہیں ہیں تم لوگوں کی؟‘

https://twitter.com/Aqsford/status/1117668947187388416

ایک صارف یہ بھی کہتی ہیں کہ ان کا آج امتحان تھا لیکن صبح اٹھ کر پڑھنے کی جگہ وہ گیم آف تھرونز کی قسط دیکھ رہی تھیں ساتھ ہی انھوں نے کہا ’میرے جیسے نہ بنیں۔‘

صبح سویرے اٹھنے کے علاوہ بھی لوگوں نے ٹوئٹر پر کچھ مشورے دیے۔

https://twitter.com/Pakhtunn/status/1117103138568376322

کامران خان لکھتے ہیں کہ انھوں نے گیم آف تھرونز سے منسلک تمام مواد کو بند کر دیا ہے تا کہ مجھے اس کے متعلق کوئی خبر نہ ملے ’میں تمام اقساط سیزن کے آخر میں اکٹھے دیکھوں گا۔‘

https://twitter.com/Fawtimaa/status/1117679931662721029

فاطمہ کہتی ہیں کہ وہ ایک ٹویٹ بھی نہیں پڑھیں گی جب تک وہ پہلی قسط نہیں دیکھ لیتیں۔

لیکن میرے خیال سے یہ کہنا آسان ہے اور کرنا بہت ہی مشکل۔

https://twitter.com/calppurnia/status/1117686578980249600

کیلی اس مشکل کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ٹوئٹر پر پیر کو گیم آف تھروز کے سپائیلرز سے بچنا اولمپکس سے بچنے کے مترادف ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11161 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp