باڈی شیمنگ: ’چھوٹا قد ہو یا موٹا جسم ہر کمی آپ کی طاقت بن سکتی ہے‘

فرحت جاوید - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان خواتین اور مردوں کو تضحیک کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو موٹاپے کا شکار ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دُبلا پتلا ہونے پر آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ آپ بھی برابر سے جملے اور طعنے سننے کو تیار رہیں۔

اِسی طرح لمبے قد پر جملے کسے جاتے ہیں تو چھوٹے قد والوں کو بھی طرح طرح کے القابات سے نوازنا ایک عام سی بات ہے۔ اِسی کا نام باڈی شیمنگ ہے اور اس قسم کے رویوں کا سامنا کرنے والے افراد زندگی کا ایک بڑا حصہ تکلیف اور تنہائی میں گزارتے ہیں۔

‘اگر آج میری آنکھوں میں اس بات پر آنسو ہیں کہ میں ہمیشہ چھوٹے قد کے باعث بہت سی چیزوں میں نہیں جا سکی تو یہ سب جتنا میں محسوس کرتی ہوں ، باقی بھی تو اتنا ہی محسوس کرتے ہوں گے’۔

یہ بھی پڑھیے!

کیا آپ بھی اپنے بچے کا موٹاپا چھپاتے ہیں؟

پلس سائز فیشن: ’پاکستان میں میرا ناپ نہیں ملتا‘

جسم کی ساخت کا مذاق اڑانے والے اشتہار پر احتجاج

‘میرا قد چھوٹا ہے، یا میں کالی ہوں یا میں دبلی پتلی ہوں، تو اس میں میرے خیال میں میری تو کوئی غلطی نہیں ہے’،

یہ کہنا ہے اسلام آباد کی صحافی شازیہ نیّر کا جو چند برس پہلے تک تو اپنے قد اور وزن کے بارے میں خاصی پریشان رہتی تھیں لیکن پھر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اب ان معاشرتی رویوں کے خلاف کام کریں گی اور ان سب مرد و خواتین کا ساتھ دیں گی جنھیں ان کی جسمانی ساخت کی بنیاد پر مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

شازیہ 14 برس سے بطور صحافی کام کر رہی ہیں، اس سے پہلے انھوں نے ماڈلنگ میں بھی اپنا کریئر بنانے کی کوشش کی اور زمانۂ طالب علمی میں کھیل کے میدان میں بھی کئی بار خود کو آزمانے کی تگ و دو کی مگر انھیں مواقع نہیں دیے گئے۔

مزید پڑھیے

ذہنی دباؤ سے موٹاپا کیوں ہوتا ہے؟

موٹوں پر تنقید کی ویڈیو کے بعد ‘یوٹیوب ہنگامہ’

علیحدہ جم سے زیادہ خواتین ورزش پر مائل ہو رہی ہیں

شازیہ کہتی ہیں کہ باڈی شیمنگ کا سلسلہ بچپن سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ وہ والدین ہوں، اساتذہ یا رشتہ دار، ہر کوئی بچے کے جسم، رنگت، قد کاٹھ، وزن کا مذاق اڑانا، اس پر اپنا رائے دینا اپنا فرض سمجھتا ہے اور یہ نہیں سوچا جاتا کہ اس رویے کا بچے کی زندگی اور اس کی نفسیات پر کس قدر منفی اثر پڑ سکتا ہے،

‘میری ایک ٹیچر تھیں جو مجھے چوزہ کہتی تھیں، مجھے کھیلنا بہت پسند تھا۔ سکول کی والی بال ٹیم میں مجھے شامل نہیں کیا جاتا تھا، کہ نہیں، نہیں یہ تو بہت چھوٹی ہے، اس کو رہنے دو۔ ہمیشہ نکال دیا جاتا تھا، اور یہ بہت تکلیف دہ تھا۔’

وہ کہتی ہیں کہ دیگر کئی چھوٹے قد یا دبلے پتلے جسم والی خواتین کی طرح انھیں انتہائی تکلیف دہ جملے سننے پڑتے تھے، جیسا کہ ‘ ہینگر پر کپڑے لٹکے ہوئے ہیں، زیادہ ہوا میں مت جانا، اُڑ جاؤ گی، یا پھر اپنے ساتھ اینٹیں باندھ لو۔‘

اس طرح کی باتیں تو عام ہیں۔ یا پھر یہ کہ اس کی شادی نہیں ہو گی کیونکہ اس کا قد چھوٹا ہے۔ یہ سب بھی بہت سنا ہے، اور باہر کے لوگوں سے نہیں، بلکہ اہلخانہ سے، اور رشتہ داروں سے سنتی آئی ہوں’۔

شازیہ کی کچھ سال قبل شادی ہوئی اور وہ ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر عام مردوں کی نسبت دراز قد ہیں۔

وہ سمجھتی ہیں کہ اگر انھیں ان کے قد اور وزن کی بنیاد پر مذاق کا نشانہ نہ بنایا گیا ہوتا تو وہ آج ایک قدرے مختلف شخصیت کی مالک ہوتیں اور ان کی خواہش ہے کہ ‘جو میں نے سہا ہے، میری خواہش ہے کہ میری بیٹی کا تجربہ ویسا نہ ہو۔‘

‘کبھی بھی اپنے اِردگرد موجود لوگوں کو ان کی کمی کی وجہ سے پوائنٹ آؤٹ نہ کریں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں، ان کا اعتماد بحال کریں، اگر ہم انھیں ان چیزوں کا احساس نہیں دلائیں گے تو میرے خیال میں ان کی شخصیت تھوڑی مختلف ہو گی’۔

شازیہ کے خیال میں چھوٹے یا لمبے قد، دبلے یا موٹے جسم ، یا رنگت، ہر کمی آپ کی طاقت بن سکتی ہے، لیکن باڈی شیمنگ کا خاتمہ کرنا ہے تو وہ گھر سے شروع ہو گا۔

’میرے خیال میں جن کا قد چھوٹا ہے، انھیں زیادہ دل گرفتہ نہیں ہونا چاہییے، جیسے میں ہوتی تھی۔ آپ اس (سوچ) پر قابو پائیں تو میرے خیال میں آپ خود میں نکھار پیدا کر سکتے ہیں’۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10818 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp