اب بھگتیں سب معیشت کو

حکومت گرنے کی خبریں تواتر سے آ رہی ہیں۔ کوئی بتا رہا ہے کہ بجٹ سے پہلے کام تمام ہو جائے گا۔ کوئی بتاتا ہے کہ نہیں، بلکہ بجٹ میں جب عوام کی روح کھینچی جائے گی تو جولائی اگست میں عوامی غصہ اور بے بسی حکومت کو بہا لے جائیں گے۔ کچھ کہتے ہیں کہ نہیں حکومت کی رسی اس برس کے آخر تک دراز کر دی گئی ہے۔ حکومت کے حق میں کوئی معجزہ نہ ہوا تو اس کے بعد اسی پارلیمان سے تبدیلی لائی جائے گی۔ یہ آخری بات کہنے سہیل وڑائچ ہیں جو جون 2017 میں نواز شریف حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی کرنے والا ”دی پارٹی از اوور“ والا کالم لکھنے کے بعد سیاسی ولی کا رتبہ پا چکے ہیں۔

حکومت کیوں تبدیل کی جائے؟ وہ اپنے پانچ برس پورے کیوں نہ کرے؟ اس کی بنیادی وجہ معیشت کی زبوں حالی بتائی جاتی ہے۔ تحریک انصاف نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا قلع قمع کرنے کے چکر میں معیشت کو بٹھا دیا ہے۔ رہی سہی کسر ملک ریاض جیسوں کے ”احتساب“ نے پوری کر دی ہے اور ملکی معیشت کا ایک نمایاں حصہ چلانے والا رئیل سٹیٹ کا شعبہ اب سرمایہ کاروں کی راہ تک رہا ہے۔ لوگ پیسہ لگاتے ہوئے ڈر رہے ہیں کہ اگلے دن ٹیکس والے یا نیب والے پہنچ کر ان کا احتساب شروع کر دیں گے۔

عام شہریوں تک یہ مہنگائی گیس اور بجلی وغیرہ کے بلوں کی صورت میں پہنچی اور پھر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے نے صورت حال مزید دگرگوں کر دی۔ جب گھر میں دانے نہ ہوں تو پھر کسی کو یہ تسلی نہیں دی جا سکتی کہ تیس برس نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو بھگتا ہے تو پانچ برس کپتان کے ملک کی کایا پلٹنے کا انتظار کر لو۔ ضرورت مند کے لئے پیسوں کے بغیر ایک ہفتہ کاٹنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ خراب معاشی صورت حال کی وجہ سے لوگوں کی ملازمتیں بھی جا رہی ہیں اور نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ احتساب کے شوق میں حکومت نے اپنے ابتدائی دنوں میں ہی تجاوزات کے خلاف جو کارروائیاں شروع کر دیں انہوں نے عوام کو معاشی طور پر مزید رلایا۔ باقی کسر کسانوں پر ٹوٹنے والی ارضی و سماوی آفات نے پوری کر دی۔ قصہ مختصر اس وقت چھوٹا بڑا کاروباری طبقہ بھی پریشان ہے، کسان بھی اور ملازمت پیشہ بھی۔

بعض افراد کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت چلی گئی تو سب اچھا ہو جائے گا۔ یہ ساری معاشی مشکلات دور ہو جائیں گی۔ معیشت کا جمود ٹوٹ جائے گا۔ سب ویسا ہی ہو جائے گا جیسے 2017 میں تھا یعنی اگلے برس معاشی ترقی کی شرح گھٹ کر 2.8 فیصد نہیں ہو گی بلکہ دوبارہ 5.7 فیصد پر پہنچ جائے گی۔

فرض کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت جون جولائی یا نومبر دسمبر تک گر جاتی ہے اور اس کی بجائے ان ہاؤس تبدیلی لاتے ہوئے تحریک انصاف سے متبادل قیادت یا نون لیگ یا پیپلز پارٹی وغیرہ کی حکومت آ جاتی ہے۔ فرض کیا کہ وہ ایسی بہت ہی اچھی معاشی پالیسیاں بھی دے دیتی ہے جنہیں دیکھتے ہوئے سرمایہ کار اپنا چھپایا ہوا پیسہ نکالنے کی طرف راغب ہو سکیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا سرمایہ کار اس حکومت پر اعتبار کرے گا؟ کیا اسے یقین ہو گا کہ اس حکومت کی زندگی تین چار سال کی ہے یا پھر اسے باسٹھ تریسٹھ یا کسی دوسرے حربے سے چند ماہ میں ہی گرا دیا جائے گا جس کے بعد اس کی پالیسیوں کی ویلیو کوڑے کرکٹ سے زیادہ نہیں ہو گی۔

سرمایہ کار کیوں اپنا پیسہ اتنی بے یقینی میں پھنسائے گا؟ وہ پاکستان کی بجائے بنگلہ دیش یا انڈیا کیوں نہیں چلا جائے گا جہاں سیاسی اور پالیسی کا استحکام ہے۔ بڑے سرمایہ کاروں کا کوئی ایک ملک نہیں ہوتا۔ ان کا پیسہ ان کے لئے ہر ملک کے دروازے کھول دیتا ہے اور وہ اس دروازے میں داخل ہوتے ہیں جو ان کے پیسے میں اضافہ کرے۔

گزشتہ دو برس میں معیشت کا نقصان بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ خواہ جو بھی حکومت آئے اگلے کئی سال تک اچھی خبر کی امید نہیں ہے۔ عوام اور معیشت پر خرچ کیا جانے والا ترقیاتی بجٹ کم کیا جاتا رہے گا اور نتیجے میں معیشت مزید خراب ہو گی۔ ہاں اگر تمام سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کے درمیان کوئی بڑا قومی سمجھوتہ ہو گیا اور یہ طے ہو گیا کہ اگلی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور خزانے، معیشت اور خارجہ امور کے معاملے میں با اختیار ہو گی تو پھر ہی بہتری کا کچھ امکان ہے۔ ورنہ سب لوگ مشکل میں زندہ رہنے کی مشق کریں اور اپنا لائف سٹائل پہلے سے آدھا کرنے کی تیاری پکڑ لیں۔