پاکستان، سیاحت اور کینیڈین خاتون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارک وینز (Mark Wienes) ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ فوڈ بلاگرہیں۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک کے سفر کرتے اوروہاں کے مقامی کھانے کھاتے ہیں۔ یوٹیوب کے ذریعے کروڑوں لوگ ان کے ان سفروں اورکھانوں کو دیکھتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں سفرکرنے کے لئے ان کے پروگرام دیکھ کروہاں کے اچھے کھابوں اور ریسٹورنٹس سے بخوبی تعار ف ہو جاتا ہے۔ ان ویڈیوز کوگائیڈ کے طورپراستعمال کیا جاتا ہے۔ پچھلے سال میں نے بھی اپنے استنبول کے سفرمیں ان کی ان ویڈیوزسے استفادہ کیا۔ چند ماہ پہلے وہ پاکستان آئے اور پاکستان کے بڑے شہروں اور شمالی علاقہ جا ت میں کئی پروگرام ریکارڈکرائے۔ ان کے یہ پروگرام ساری دنیامیں کروڑوں لوگوں نے دیکھے۔ مارک کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کے کھانوں سے بھی زیادہ یہاں کی خوبصورتی اوراس سے بھی بڑھ کرپاکستانیوں کی مہمان نوازی سے متاثرہوا ہوں۔

پاکستان ٹریول مارٹ کے علی کے تعاون سے کیا گیا ان کا یہ پروگرام ہوا کا خوشگوار جھونکا ثابت ہوا۔ ان کے پروگراموں کی وجہ سے بڑی تعدادمیں لوگ پاکستان کی طر ف متوجہ ہوئے۔ یوٹیوب پرموجود ان کے پاکستان میں فلمائے گئے پروگراموں پر لوگوں کے تبصرے حیران کن تھے۔ امریکہ، یورپ کے ممالک، برازیل، چلی، مصر، بنگلہ دیش، فلپائن، افریقی ممالک اور حیرت انگیز طور پر انڈیا سے تعلق رکھنے والے بیشمار لوگوں نے پاکستان کی ثقافت اور کھانوں کونہ صر ف سراہا بلکہ پاکستان آنے کی شدید خواہش ظاہرکی۔ اسی طر ح اپنے اپنے میڈیا کو بھی کوسا کہ پاکستان کا مثبت پہلو اجاگرکرنے کی بجائے ہمیشہ منفی پہلوہی دکھاتا رہا۔

ان پروگراموں کے بعد کچھ اور بین الاقومی شہر ت رکھنے والے بلاگرز نے بھی پاکستان کارخ کیا۔ مار ک وینز کو بھی مشروبات کی ایک بین الاقومی کمپنی نے سپانسر کرکے دوبارہ پاکستان بلوایا۔ پاکستان کی داغدارشہرت (جس میں بین الاقومی میڈیا کے ساتھ ہمارا اپنا بھی بہت قصورہے ) کے مقابل پر پہلی دفعہ دنیا بھر کے لوگوں کے لئے ایک مثبت پیغام گیا۔ اورلوگوں کو پتہ چلا کہ پاکستان میں بھی عام انسان ہی بستے اورعام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے، ہنستے بولتے اور امن پسند ھیں۔

اس بات کودہرانے میں حرج نہیں کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے، تین بڑے پہاڑی سلسلوں میں شاہ گوری (کے ٹو) سمیت دنیاکے بلند ترین پہاڑ، جھیلیں، سمندر، گرم و سرد ریگستان، دنیاکی قدیم ترین تہذیبیں، موجود ثقافتوں کی رنگارنگی، مذہبی مقدس مقامات، زبانیں، قسم قسم کے کھانے غرض قدرت نے کیا کچھ پوری فیاضی کے ساتھ عطا نہیں کر رکھا۔ ہاں یہ ہماری ازلی نالائقی ہے کہ ابھی تک مناسب سہولتیں فراہم نہیں کرسکے کہ لوگ ان سے خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکیں اور اپنا ملک بھی فائدہ اٹھائے۔

کسی بھی ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے ویزاکی آسانی، سیاحوں کا تحفظ، بہترین ٹورسٹ پلاننگ اور انفارمیشن کے ذرائع، مواصلات کا بہتر اور مربوط نظام، کھانے پینے میں صفائی ستھرائی، ماحول کی صفائی وغیرہ بنیادی اہمیت رکھتی ہیں جوبدقسمتی سے ہمارے ہاں عنقا رہی ہیں۔ پہلی حکومتوں کے بالمقابل سیاحت عمران خان صاحب کی ترجیحات میں شامل رہی ہے اورحکومت اعلانات کی حد تک ہی سہی کچھ نہ کچھ پیش رفت کر رہی ہے، گو رفتارانتہائی سست اور پلاننگ میں ربط کی کمی دکھائی دیتی ہے۔

لیکن حکومت کی ذمہ داری کے ساتھ بہت بڑی ذمہ داری عوام الناس پر بھی عائد ہوتی ہے۔ سیاحت، خصوصاً تیسری دنیا کے ممالک میں بڑاحساس شعبہ ہے۔ جس میں ایک چھوٹا سا واقعہ، ایک چھوٹی سی خبر، ایک چھوٹا سا معاملہ پوری سیاحتی انڈسٹری کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سیاح عموماً اپنے روزمرہ زندگی کی روٹین سے پیچھا چھڑانے کے لئے، اپنے سکون کے خاطر دوسرے ممالک کارخ کرتا ہے۔ اور ری چارج ہو کر باقی سال کے لئے اپنے کاموں کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ و ہ کبھی بھی بدسکونی اوربے اطمینانی کے لئے اپنا پیسہ برباد نہیں کرتا۔

پچھلے چندماہ سے سیاحت میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس میں ان بلاگرز کے ساتھ مختلف حکومتی اقدامات کا بھی ہاتھ ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے آپ کو اور بہتر کرتے، صفائی (hygiene) کی طرف توجہ دیں، سہولتوں میں اضافہ کریں۔ لیکن بدقسمتی کہ گذشتہ کل اسلام آباد جیسے شہرمیں ایک کینیڈین سیاح خاتون کا پیچھا اور جنسی ہراسگی کا واقعہ پیش آ گیا۔ گو یہ واقعہ انوکھا نہیں لیکن جیسے عرض کی کہ جہاں ہم اپنی ساکھ بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں معمولی واقعہ بھی بڑا ہے۔ بظاہر پڑھے لکھے اسلام آباد والے ابھی تک مقامی خواتین کو بھی اس ندیدے پن سے گھورتے ہیں کہ الامان الحفیظ اور مذکورہ خاتون تو پھرانگریز تھی۔ انگریز خواتین کے بارے میں تو ان لنڈے کے شاہ رخ خانوں میں یہ واہیات تصورعام ہے کہ شاید چوبیس گھنٹے انہیں ایک ہی کام ہے اورذراسی سیٹی بجائی اوروہ ان کی گود میں۔

سیاحت کے فروغ سے نہ صرف مقامی انڈسٹری کو بے پناہ فائدہ ہوسکتا ہے بلکہ کثیر زرمبادلہ بھی آسکتا ہے۔ جو کام حکومت کو زیبا ہیں اس میں بھی سنجیدگی کے ساتھ عمل ہونا چاہیے لیکن عام عوام اور اس طرح کے جنسی مریضوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہ ان کی ایک گھٹیا حرکت سے ملک کا نام بہت دور تک بدنام ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •