اسدعمرکے فیصلے پرنظرثانی کی جائے

کسی بھی عمارت کو اگر توڑنے کے بعد نیا بنانا ہو تو اس معمار کو کس طرح ہوشمند کہا جاسکتا ہے جو پرانے ملبے کو تعمیر میں استعمال کرے۔ پرانا سارا سامان اپنی مدت گزار چکا ہوتا ہے۔ کیا گارا، کیا اینٹیں، کیا بجری، کیا دروازے، کیا کھڑکیاں اور کیا سریا۔ کوئی ایک شے بھی اس قابل نہیں رہتی جس کو دوبارہ استعمال کرکے اس بات کا اطمنان کر لیا جائے کہ تعمیر پختہ اور عالی شان کہلائے جانے کی مستحق ہوگی۔ البتہ کچھ ملبہ اس قابل ضرور ہوتا ہے جس کو بھرائی میں استعمال کیا جا سکتا ہو۔ اس سے زیادہ ملبے کو استعمال میں لانا عمارت کے حسن و جمال اور اس کی پختگی کے لئے کبھی سود مند ثابت نہیں ہو سکتا۔

پاکستان کے عوام ملک میں ایک خوشگوار تبدیلی دیکھنا چاہتے تھے۔ ہر انتخابات کے نتیجے میں وہی پرانے چہرے دیکھ دیکھ کر اور دو سیاسی پارٹیوں کے باریاں لگانے نے سے تنگ آکر، تبدیلی دیکھنے کے خواہش مند موجودہ حکومت کی صورت میں اس خوش فہمی کا شکار ہوگئے تھے کہ شاید موجودہ حکمران پارٹی ان کی امنگوں پر پورا اترتے ہوئے ملک میں کوئی خوشگوار تبدیلی لانے میں کامیاب ہوجائے گی، جو وعدے اس نے کیے ہیں ان کو پورا کرکے ان کی مشکلات میں کمی کا سبب بنے گی، وہ کم از کم آج چند وزرا کی تبدیلی دیکھ کر کسی حد تک مایوسی کا شکار ضرور نظر آرہے ہوں گے اور یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہوں گے کہ جو کچھ وہ سوچ رہے تھے وہ سراسر غلط تھا اور جو خواب انھوں نے اپنی آنکھوں میں سجا رکھے تھے وہ محض خواب ہی تھے۔

مایوسی تو اسی وقت سے شروع ہوگئی تھی جب انھوں نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ موجودہ حکومت کے پاس نیا کچھ بھی نہیں ہے۔ جس حکومت کی وسعت نظر مرغیوں، انڈوں اور کٹوں تک محدود ہو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایک سلطنت کے امورکو چلاسکتی ہے، اسے بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ بات یہیں تک محدود ہوتی تب بھی قابل قبول ہو سکتی تھی لیکن حکومت سازی کے وقت اپنی کابینہ کے چناؤ میں جن جن افراد کو شامل کیا گیا وہ سارے پٹے ہوئے مہرے تھے اور ہر دور میں اپنی قیمت لگاتے رہے تھے۔

ملک کو لوٹنے اور معیشت کی تباہی میں وہ سارے کے سارے بربر کے شریک تھے۔ ان کی شمولیت پر مخالفین کی جانب سے بڑے بڑے سوالات اٹھائے گئے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے پارٹی سے گہری وابستگی رکھنے والے یقیناً مایوس ہوئے ہوں گے لیکن پھر بھی انھوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور اپنے آپ کو یہی سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر کپتان کرپٹ نہ ہو، دیانتدار اور ایماندار ہو تو ہر قسم کی کرپشن اور خیانت کو روکا جاسکتا ہے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ صرف کپتان کا اچھا ہونا ہی سب کچھ نہیں ہوتا بلکہ جب تک پوری ٹیم اچھی، نیک، صالح اور قابل نہ ہو اس وقت تک کسی بھی میچ کا جیتنا ممکن نہیں۔

آج وہ تمام افراد جو کپتان کے کیے گئے ہر فیصلے کو سرآنکھوں پر رکھتے آئے تھے، ہر فیصلے کا دفاع کیا کرتے تھے اور ہر کیے گئے فیصلے پر ایک مثبت رائے رکھتے تھے، ان کو صدمہ تو ضرور ہوا ہوگا۔ یہ بات طے ہے کہ وہ اب بھی مایوسی کا اظہار تو نہیں کریں گے اور پورے خلوص کے ساتھ کپتان کے فیصلوں پر اب بھی جو رائے دیں گے وہ مثبت اور حمایت میں ہی ہوگی لیکن لگتا یوں کہ کابینہ میں یہ رد و بدل ان وزرا کو جن سے استعفا طلب کیا جارہا ہے یا ان کو وزارت سے فارغ کیا جارہا ہے، وہ شاید پارٹی ہی بدل لیں۔ اسد عمر کے رویے سے جو کچھ آج ظاہر ہوا وہ مستقبل کے لئے کوئی اچھی کہانی نہیں سنا رہا اس لئے خطرہ اس بات کا ہے کہ پارٹی میں کوئی بڑی دراڑ نہ پڑجائے اور پھر ساجھے کی ہانڈی کو لوگ بیچ چوراہے پر پھوٹتا دیکھیں۔

جو بھی صورت حال ہے وہ پارٹی کے لئے تو ہے ہی بہت مشکل لیکن خود ریاست کے لئے بھی کوئی اچھی نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ایک آدھ ماہ بعد بجٹ پیش کیا جانا ہے۔ بجٹ کی تیاری کے لئے چند ہفتے بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ اس کی تیاری مہینوں مانگتی ہے۔ یہ کوئی ایک گھر کا معاملہ نہیں ہوتا کروڑوں انسانوں کے مستقبل کا معاملہ ہوتا ہے جس میں لاکھوں شعبوں کو دیکھنا ہوتا ہے۔ ملک کے ایک ایک ادارے کی ضرورت کو مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔

ملک کے اندر ہی نہیں ملک سے باہر کے حالات کا جائزہ بھی لینا ہوتا ہے۔ ذرائع آمدن پر بھی نظر رکھنا ہوتی ہے تب کہیں جاکر ملک و قوم کے لئے کوئی منصوبہ سازی ہو پاتی ہے۔ اسی لئے اسد عمر کا نام الیکشن سے کہیں پہلے بطور وزیر مالیات طے کر لیا گیا تھا اور جونہی کابینہ کی تشکیل عمل میں آئی تھی، اسد عمر کو کسی بھی لیت و لعل کے بغیر وزیر بنا دیا گیا تھا۔ پھر اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ آئی ایم ایف سے بات چیت جوکہ آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی وہ بھی اسد عمر کی سربراہی میں ہی انجام پائی تھی۔

ایسے وقت میں ان کو ہٹایا جانا یا ان کا از خود ہٹ جانا بہت ہی غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ اب جو بھی نیا وزیر خزانہ بنایا جائے گا اس کو ایک عرصہ تو ان تمام معاملات کو دیکھنے اور جائزہ لینے میں لگ جائے گا جو اسد عمر کے نے آٹھ ماہ کے دوران کیے ہیں جس میں اہم ترین وہ قرضہ جات ہیں جن کو اس دوران پاکستان مختلف ممالک سے حاصل کر چکا ہے اور پھر آئی ایم ایف سے ہونے والی بات چیت بھی کوئی معمولی معاملہ تو نہیں، اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ جو بھی اس عہدے پر فائز کیا جائے گا اس کو بڑی دشواریوں کا سامنا رہے گا جو کسی بھی لحاظ سے پاکستان کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ بہتر یہی تھا کہ بجٹ تک اسد عمر کو برقرار رکھا جاتا اور بجٹ کے بعد وزارت کا جائزہ لے کر جو بھی فیصلہ ہوتا کر لیا جاتا۔

یہ سارے امور بہت غور طلب ہیں اور کسی مشکل میں پڑے بغیر اگر ان امور کا نئے سرے سے جائزہ لے کر فیصلے پر نظر ثانی کر لی جائے تو راقم کے نزدیک زیادہ مناسب بات ہوگی۔ عمران خان کو بھی یہ بات ضرور سوچنی چاہیے کہ کرکٹ ٹیم بنانے اور ملک کے لئے مخلص، دیانتدار اور محنتی کابینہ بنانے میں بہرحال ایک واضح فرق ہوتا ہے۔ ٹیم ہارجائے تو صرف کپ ہاتھ سے جاتا ہے لیکن کابینہ نالائقوں اور پٹے ہوئے مہروں پر مشتمل ہو تو ریاست داؤ پر لگ جاتی ہے۔