اسد عمر: شاہ محمود قریشی اور جہانگیرترین میں رسہ کشی کا پہلا شکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی کچھ روز قبل ہی ملتان میں کی گئی ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیے گئے جہانگیر ترین کی وفاقی کابینہ کے اجلاسوں اور مختلف حکومتی اجلاسوں میں شرکت پر یہ کہہ کر اعتراض اٹھایا تھا کہ اس سے سیاسی مخالفین کو تحریک انصاف پر تنقید کرنے کا موقع ملتا ہے، مگر پریس کانفرنس سے اگلے ہی لمحے نہ صرف جہانگیر ترین کا میڈیا سیل متحرک ہوا، ترین گروپ کے حامی ممبران تحریک انصاف کے وفاقی وصوبائی وزراء اور ممبران اسمبلی سے جہانگیر ترین کی حمایت میں سوشل و الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بیان دلائے گئے بلکہ وزیراعظم عمران خان بھی کھل کر جہانگیر ترین کی حمایت میں آگے آئے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سرخ لکیر کراس نہ کرنے کا پیغام بھی دے دیا گیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہی وہ لمحہ تھا جب جہانگیر ترین کیمپ تحریک انصاف پر حاوی ہوگیا اور یہیں سے تحریک انصاف میں اندرونی گروہ بندی بھی شدت اختیار کرگئی، یہ بات شروع دن سے ہی عیاں ہے کہ چاہے جہانگیر ترین ہوں یا شاہ محمود قریشی دونوں ہی میں جنوبی پنجاب میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی خواہش ہی ان کے آپسی اختلافات کی جڑ ہے اور تحریک انصاف میں دونوں جتنا بھی ایک دوسرے کے ساتھ پیار ظاہر کوشش کرنے کی کوشش کیوں نہ کرلیں ان کے ایک ہی پارٹی میں رہتے ہوئے اختلافات ختم ہونا فی الحال تو ناممکن ہی نظر آتا ہے ”ملتان کی سیاست ہو یا جنوبی پنجاب کے کسی بھی ضلع کی، قریشی اور ترین گروپس کی اندرونی سیاست انتخابات میں تحریک انصاف کے لیے بطور پارٹی مسائل پیدا ہی کرتی رہتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ کے جہانگیر ترین سے متعلق نا اہلی کے فیصلے کے بعد پارٹی میں شاہ محمود قریشی کا پلڑا وقتی طور پر بھاری ہوگیا تھا اور سپریم کورٹ کے فیصلے نے جہانگیر ترین کی تحریک انصاف میں اہمیت بتدریج کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ”ایسے میں جہاں شاہ محمود قریشی اور ان کے کیمپ کے لوگ نہ صرف پہلے سے زیادہ پراعتماد ہوگئے تھے بلکہ پارٹی میں اپنے اثرورسوخ کو مزید مستحکم اور عمران خان کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کو بھی نئی جلا ملی تھی۔

مگر دوسری جانب تحریک انصاف میں بدلتی ہوئی اس سیاسی صورتحال سے جہانگیر ترین کیمپ بھی نالاں تھا۔ اس نئی صورتحال سے نبردآزما ہونے اور پارٹی میں فعالیت کے لیے ابھی کچھ عرصہ قبل جہانگیر ترین نے پنجاب اور خیبرپختونخواہ سے تعلق والے صوبائی وزراء اور ممبران اسمبلی سے ملاقاتوں کا نیا سلسلہ شروع کیا تھا جس پر وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی کچھ خفا سے ہو گئے۔ پارٹی پر بتدریج حاصل کی گئی گرفت کمزور پڑتی نظر آرہی تھی تو اس دوران جہانگیر ترین کی پارٹی میں فعالیت کے لیے اٹھائے اقدامات بھی کارگر ثابت ہونا شروع ہوگئے، عمران خان نے کابینہ اجلاسوں میں جہانگیر ترین کو زراعت کے ماہر کے طور پر بلانے کا سلسلہ شروع کیا اور شاہ محمود قریشی کیمپ پر برتری کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے حکومتی اجلاس میں شامل ہونا شروع کیا تو اس عمل نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ترین کے اقدام سے مشتعل ہوئے تو ملتان سرکٹ ہاؤس میں جہانگیر ترین کے خلاف پریس کانفرنس کرڈالی، اس کے بعد پارٹی کے بڑوں کی جانب سے آنے والے شدید طرز کے ردعمل سے یہ بات تو صاف ظاہر ہوگئی تھی کہ تحریک انصاف پر اب جہانگیرترین کیمپ ہی حاوی رہے گا۔ ایسے میں شاہ محمود قریشی نے بھی اپنی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے وزارت خارجہ کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں نسبتاً کم کرکے ملتان میں موجودگی اور آمدورفت کا سلسلہ بڑھا دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس کے دوران جہانگیرترین کے حوالے سے اٹھائے گئے شاہ محمود قریشی کے اعتراضات سے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر بھی نہ صرف متفق تھے بلکہ انھیں بھی شاہ محمود قریشی کا حامی سمجھا جاتا تھا، ایسے میں کچھ عرصہ قبل بگڑتی معیشت کے حوالے سے جہانگیرترین کے وزارت خزانہ اور وزیر خزانہ کے خلاف دیے گئے بیان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ”حالیہ دنوں میں جہانگیرترین کی وزیراعظم عمران خان سے تواتر سے ملاقاتیں اور بعدازاں عمران خان کی جانب سے اپنے پرانے اسد عمر کو وزارت خزانہ چھوڑنے کا مشورہ اور وزارت پٹرولیم سنبھالنے کی ہدایت اور اس کے نتیجے میں اسد عمر کا وزیر خزانہ کی حیثیت سے استعفیٰ ظاہر کرتا ہے کہ تحریک انصاف میں اندرونی گروہ بندی شدت اختیار کرگئی ہے جس کا پہلا شکار اسد عمر بن گئے ہیں۔

قریشی الیون کی پہلی وکٹ گرانے کے بعد ظاہری طور پر نظر آتا ہے کہ اب جہانگیرترین سپریم کورٹ کے نا اہلی کے فیصلے کے بعد پارٹی اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور آنے والے دن سیاسی لحاظ سے شاہ محمود قریشی کے لیے کڑے ثابت ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب وہ جہانگیر ترین کی اس پراثر سیاسی چال کا کس حد تک مقابلہ کرسکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عدنان مجتبیٰ بھٹہ کی دیگر تحریریں
عدنان مجتبیٰ بھٹہ کی دیگر تحریریں