دوحہ میں ہونے والی بین الافغان کانفرنس منسوخ

خدائے نور ناصر - بی بی سی، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغان طالبان

Getty Images
قیام امن کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے ایک بانی رہنما ملا عبدالغنی برادر کی قطر میں پہلی ملاقات ہوئی تھی

کابل میں افغان صدارتی محل سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 20 اور 21 اپریل کو قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والی بین الافغانی کانفرنس قطر حکومت کی جانب سے منسوخ کردی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر حکومت کی جانب سے کانفرنس کے شرکا کے بارے میں افغان حکومتی فہرست کے علاوہ کوئی اور فہرست بھیجی گئی تھی، جو اُنھیں قابل قبول نہیں۔

یہ بھی پڑھیے!

افغان حکومت، طالبان مذاکرات دوحہ میں ہوں گے: خلیل زاد

’زلمے خلیل زاد کا افغان امن مشن مشکل ہوتا جا رہا ہے‘

طالبان افغانستان میں جہاں چاہیں دفتر کھولیں: اشرف غنی

طالبان سے مذاکرات کے لیے کمیشن کا اعلان

’طالبان کے ساتھ جولائی سے پہلے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں‘

طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے مسودے پر ’اتفاق‘

زلمے خلیل زاد کے دورے کے موقع پر طالبان رہنما کی ’گرفتاری‘

’طالبان پورے افغانستان پر قبضے کے خواہاں نہیں ہیں’تاہم دوسری جانب افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمئے خلیل زاد نے اپنے ٹیوٹر پیغام میں کہا ہے، کہ یہ کانفرنس منسوخ نہیں، ملتوی ہوئی ہے۔

https://twitter.com/US4AfghanPeace/status/1118995794399498240

جمعرات کو افغان حکومت کے ایک وفد نے خصوصی طیارے کے ذریعے کابل سے قطر کے دارالحکومت دوحہ جانا تھا، لیکن وفد میں شامل ارکان کو ہوائی اڈے پہنچنے کے بعد سفر ملتوی ہونے کا پیغام ملا۔ افغان حکومت نے اس کانفرنس کے لئے 250 رکنی وفد کا اعلان کیا تھا۔

تاہم جمعرات کو افغان میڈیا میں ایک اور فہرست شائع ہوئی تھی، جس میں 243 ارکان شامل تھے، لیکن اس فہرست میں افعان حکومت کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں سے صرف 61 لوگ شامل تھے۔

17 اپریل کو جاری کی گئ ایک پریس ریلیز میں افغان طالبان نے افغان حکومت کے اس وفد پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کوئی شادی کی تقریب نہیں، جس میں اتنا بڑا وفد شرکت کررہا ہے۔

طالبان

Getty Images

’افغان حکومت ایسے اقدامات سے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، کیونکہ وہ اس مذاکرات میں پیش رفت سے ڈرتے ہیں۔‘ افغان طالبان کے مطابق وہ افغان حکومت کی فہرست میں شامل صرف اُن اشخاص سے ملیں گے، جن کے نام اجلاس کے منتظمین کی لسٹ میں شامل ہیں۔

افغان طالبان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں کوئی بھی شخص افعان حکومت کی نمائندگی نہیں کرے گا اور حکومتی ارکان بھی ذاتی حیثیت سے کانفرنس میں شریک ہوں گے۔اُدھر افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے بھی بدھ کو کابل میں افغان حکومت کی جانب سے بنائے گئے وفد کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے اُن کو افغان حکومت اور افغان عوام کا نمائندہ وفد قرار دیا تھا۔

’آپ لوگ قطر میں اسلامی جمہوریہ افغانستان اور افغان عوام کی نمائندگی کرنے جارہے ہیں۔ آپ ہر افغان بچے، ہر عورت، ہر معذور، شہدا کے خاندان اور ہر فرد کے حقوق کی نمائندگی کرتے ہیں، ایسے حقوق جو افغانستان کے آئین میں درج ہیں۔‘

ڈاکٹر اشرف غنی

AFP

افغان صدر نے وفد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر متفق کریں کیونکہ افغان حکومت سے مذاکرات کے علاوہ اُن کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ ’طالبان کو مذاکرات کے لئے تیار کرلیں، اُن سے کہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لئے بات چیت کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

تاہم حزب مخالف کے سیاستدان عطا محمد نور نے اس کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کرتے ہوئے افغان حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

طالبان

Getty Images
افغان طالبان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں کوئی بھی شخص افعان حکومت کی نمائندگی نہیں کرے گا

اس سے قبل رواں سال فروری میں انٹرا افغان کانفرنس روس کے شہر ماسکو میں ہوئی تھی، جس میں افغان سیاستدانوں نے شرکت کی تھی، لیکن اُس کانفرنس میں افغان حکومت کا کوئی وفد شامل نہیں تھا۔

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے پانچ دور ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک امریکہ ان مذاکرات میں افغان طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے آمادہ نہیں کرسکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10742 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp