The Empire Strikes Back


بالآخر وہ مرحلہ آن پہنچا بلکہ پلک جھپکنے میں گزر بھی چکا جس کی پیش گوئی جولائی 2018 کے آخری ہفتے میں بھی کی جا سکتی تھی۔ 18 اپریل کو بارہ گھنٹے کے مختصر وقفے میں جو ہوا، اسے عملی طور پر تحریک انصاف حکومت کے قریب قریب فلمی سیٹ کا انہدام سمجھنا چاہیے۔ آج کے خلاف معمول انگریزی عنوان میں جارج لوکاس کی 1980 میں بننے والی سٹار وار سیریز کی فلم کا اشارہ تو بالکل واضح ہے، لیکن دراصل مجھے پاکستان میں زندہ و توانا صحافت کے استعارے خالد حسن کی کتاب یاد آئی تھی جو اسی عنوان سے 1988 میں شائع ہوئی۔ خالد حسن نے 29 مئی 1988 کے واقعات کو مقتدرہ کے جوابی حملے سے تعبیر کیا تھا۔

سچ پوچھیے تو سلطنت عظمیٰ نے ہماری درماندہ فصیل پر ان گنت حملے کئے۔ خالد حسن کی کتاب کا سرورق بھی میلا نہیں ہوا تھا کہ اگست 1990 میں لشکر جرار نے پھر یلغار کی۔ اپریل 1993 میں یہ مشق دہرائی گئی۔ اکتوبر 1996ءمیں بندگان عالی پھر چڑھ دوڑے۔ اکتوبر 1999ءمیں تو قہر بداماں توپخانے نے شہر پناہ کے پرخچے اڑا دیے۔ 2008 سے 2018 تک بظاہر امی جمی ہو رہی تھی لیکن دیکھنے والی آنکھ کو معلوم تھا کہ دمدموں میں دم نہیں۔ دائیں بائیں اور آگے پیچھے مسلسل جھڑپوں سے اہل شہر کے حوصلے پست ہوئے جاتے تھے۔ ہارے ہوئے لشکر کے شکستہ حال سپاہیوں کی ذہنی کیفیت مت پوچھیے۔ کہاں کہاں سے یاد کے ٹکڑے چلے آتے ہیں اور جسم و جاں کے استخوانی ڈھانچے میں جھنجھناتے ہیں۔ ابھی دیکھئے، خوشی محمد ناظر کو یاد کرنے کا ایسا کونسا موقع تھا مگر اردو ادب کی کلاسیک نظم ’جوگی‘ کا آدھا ادھورا مصرع حافظے کے گرد آلود کھنڈرات میں چھلاوے کی طرح جھلک دے گیا، ’چیلوں نے جھنڈے گاڑے تھے، پربت پہ چھاؤنی چھائی تھی‘….

عمران خان نے اپنی کابینہ میں وسیع ردوبدل کیا ہے۔ اسد عمر کو صرف یہ رعایت ملی کہ خود سے سبکدوشی کا اعلان کر سکیں۔ دوسروں کو تو تلوار کے بے اماں حملوں میں ہاتھوں سے پناہ کرنے کی مہلت بھی نہ مل سکی۔ ذرائع ابلاغ سے چشمک رکھنے والے فواد چوہدری کی خبر تو گویا ملبے تلے دب گئی۔ علی امین گنڈا پور بھی دکان بڑھا گئے۔ وزیر صحت عامر کیانی کی عافیت بھی معلوم نہیں ہو رہی۔ عثمان بزدار کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ اگر کسی کو وزارتی بندوبست میں ان تبدیلیوں سے اصلاح احوال کی امید ہے تو نئی فہرست پر ایک نظر ڈال لے۔ اطلاعات میں فردوس عاشق اعوان تشریف لائی ہیں۔ غلام سرور خان پیٹرولیم کے معاملات نہیں سنبھال سکے، اب پی آئی اے چلائیں گے۔ اعظم سواتی سے قلمدان واپس لیا تھا، اب لوٹا دیا ہے۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے مشرف آمریت اور پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت میں جوہر دکھائے تھے، اب پھر جلوہ افروز ہوئے ہیں۔ ہمایوں اختر کی بازیابی میں توارث کا پہلو ڈھونڈنا ستم ظریفی ہو گی۔ ایک بھائی کا بیٹا گیا، دوسرے کا چلا آیا۔ تخت خالی رہا نہیں کرتے۔ اگر کسی کو سلطنت عظمیٰ کے استقلال میں کوئی شک ہو تو اسے محمد میاں سومرو کا نسب عالی یاد دلائیے۔ شنید ہے کہ مونس الہٰی بھی مجمع وزارت میں درشن دیں گے۔ یہ ردوبدل تو گویا اشرف صبوحی کے لفظوں میں ’اس کوٹھری کے دھان اُس کوٹھری میں منتقل کئے ہیں۔‘پتے کی بات تو عارف نے بہت پہلے کہی تھی کہ مقتدرہ کے تناور ٹہنے پر اشتراک اقتدار کا پیوند لگانے سے جو بور آتا ہے اسے جھڑنے کے لئے آندھی کی ضرورت نہیں ہوتی، نسیم صبح کا جھونکا بھی کافی ہوتا ہے۔

عمران خان کا نئے پاکستان کا تجربہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت اپریل 2012 میں اس مرحلے سے گزری تھی۔ مسلم لیگ (نواز) پر یہ آرا جولائی 2017ءمیں چلا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے کمال کیا۔ آٹھ ہی مہینے میں ثمر آور ہو گئی۔ 18 اگست کو عمران خان نے حلف اٹھایا تھا، 18 اپریل کو تہی دست ہو گئے۔ آئینی میعاد کے باقی سوا چار برس کو شہر آرزو کی عزاداری میں شمار کیجئے۔ رکھنے والے نے عجب ڈھنگ سے رکھا ہے ہمیں / سبز ہوتے بھی نہیں، شاخ سے جھڑتے بھی نہیں…. معیشت کے بحران میں اس اتھل پتھل کا سرا غ مت تلاش کریں۔ معیشت کا بحران اسد عمر نے پیدا نہیں کیا اور حفیظ شیخ کوئی معجزہ نہیں دکھا پائیں گے۔

معیشت کی اصلاح العالمین کی لڑائی کی مانند اعصاب کا کھیل ہے۔ سینکڑوں میل پر پھیلے محاذ کے ایک ایک انچ پر جان لڑانا پڑتی ہے۔ اس میں وسائل، حوصلے اور صبر کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ ہمسایہ ملک چین نے ترقی کے موجودہ سفر کا آغاز 40 برس پہلے ڈینگ شیاؤ پنگ کی قیادت میں شروع کیا تھا۔ تیل سے محروم متحدہ عرب امارات کے صحراؤں کو تجارت کا گلزار بنانے میں نصف صدی صرف ہوئی ہے۔ چار دہائی قبل جاپان کی معیشت کا حجم دنیا میں امریکا اور سوویت یونین کے بعد تیسرے نمبر پر تھا۔ آج چین جاپان سے آگے نکل گیا ہے۔ جاپان کی طرح جرمنی بھی معدنی وسائل سے محروم ہے لیکن یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ آبادی یا رقبے کے حجم سے کسی قوم کی عظمت طے نہیں پاتی۔ معیشت کی توانائی انسانی سرمائے کے معیار سے متعین ہوتی ہے۔ محض رقبے کے بل پر قومی عظمت حاصل کی جا سکتی تو قزاخستان کو معاشی سپر پاور ہونا چاہیے تھا۔ اگر جوش اور جنون سے قومی کامیابی کی ضمانت مل سکتی تو ہٹلر کے جرمنی اور جنرل ٹوجو کے جاپان کو شکست نہ ہوتی۔

ہمیں اپنے ملک کے وسائل کا جائزہ لے کر معاشی ترجیحات متعین کرنی چاہیے۔ اپنے لوگوں پر اعتماد کرتے ہوئے معیشت، تمدن اور علم میں ہدف مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی ہی قوم کے سیاسی، تمدنی اور معاشی اثاثوں پر چاند ماری کرنے سے مثبت نتائج نہیں نکلتے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ان کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں۔ ایسی مشکل صورت حال سے دوچار ملک میں ایسا رہنما بذات خود ایک مسئلہ ہے جو بحران کی گمبھیرتا کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔

جون 1944ء میں نارمنڈی کے ساحلوں پر اتحادی فوجیں اتر آئیں۔ ابتدائی مزاحمت کا زور ٹوٹا تو جرمن صفوں میں انتشار پھیل گیا۔ عسکری رہنما جانتے تھے کہ اگر اتحادی فوج کو انگلش چینل پار کر کے براعظم یورپ پر قدم جمانے سے نہیں روکا جا سکا تو اب برلن کی طرف پیش قدمی روکنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔ ان دنوں میں جنرل گڈیرین سے کسی ماتحت نے پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ ٹینکوں کی لڑائی کے عظیم نظریہ دان نے مختصر جواب دیا، ’کرنا کیا ہے۔ جنگ بند کرو اور گھروں کو واپس جاؤ ‘۔

ہم نے بھی اپنی ہی قوم کے مقدر سے بے معنی کشمکش چھیڑ رکھی ہے۔ نتیجہ یہ کہ کسی کو ان چودہ ہم وطنوں کی موت پر ڈھنگ سے تعزیت کی توفیق بھی نہیں ہوئی جنہیں مکران کی ساحلی پٹی پر گاڑی سے اتار کے شہید کیا گیا ہے۔ اگر ہم اپنے ہم وطنوں کو جان کا تحفظ نہیں دے سکتے تو عکسی سیاست کے ان آزمائے ہوئے مہروں کو آگے پیچھے کرتے رہنے سے کیا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کی دہری آزمائش جھیل پائیں گے؟ اب سے کوئی پچاس برس پہلے چھپنے والا حنیف رامے کے اداریوں کا انتخاب یاد آ گیا، ’باز آؤ اور زندہ رہو‘۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).