دیپ جلتے رہے (آٹھواں حصہ)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب پر جب سے یہ خود نوشت شائع ہو ہی ہے، بیان کردہ حقائق جاننے والے حیرت میں ہیں۔ یہ سب لکھنا آسان نہیں، پوچھتے ہیں اتنی ہمت کیسے آئی؟ نوید بھا ئی کو علم ہے؟

پہلی بات تو یہ کہ انہیں نہ صرف علم ہے بلکہ چھپنے کے بعد انہیں سنا تی بھی ہوں۔ پھر ان کے دوست احباب بھی انہیں خبر دیتے ہیں، اور اگر کبھی ان کی عدم دستیابی کی بنا پر انہیں سنا نہیں پاتی تو وہ انہیں سنا دیتے ہیں۔ میں یہ سب لکھنا چا ہتی تھی، مگر احمد نوید کی طرف سے واضح اجازت کی منتظر تھی۔ پھر ایک دن نا صرف انہوں نے مجھے اجازت دی بلکہ اس خود نوشت کا نام بھی تجویز کیا۔ ایسا بڑا آدمی، جسے اپنے قد کا اندازہ، کام پر یقین، محبت پر ایمان اور ساتھی پر بھروسا ہوتو ماضی سے جڑی ایک اعصابی تھکن کو کاغذ پر اتار پھینکنے کی اجازت دینے میں کوئی سبکی محسوس نہیں ہو تی۔

بے شک یہ بیماری ہے۔ اور بیمار سے زیادہ اس کے پیاروں کے لیے اعصاب شکن ہے، لیکن اسے بیان کرنے میں شرم کیسی۔ پھر یہ بیماری نہ تو لا علاج ہے نہ اس کے اثرات دیر پا ہو تے ہیں۔ بس ذرا سا صبر، تھوڑی سی برداشت، دلی ہمدردی اور بہت سا پیار مریض کو اسی دنیا میں واپس لے آتا ہے جہاں ہم اور آپ رہتے ہیں اور اور اپنے اپنے طریقے سے دنیا وی امور انجام دیتے ہیں۔

محبت کرنے والے سامعین کی داد ان الفاظ میں ملتی ہے کہ بڑے حوصلے سے یہ سب جھیلا اور بڑی ہمت سے یہ لکھ رہی ہیں۔ ساری بات یہ ہے کہ جو چیز ہمیں زیر کرے اسی کو طاقت بنا لیا جا ئے تو حوصلہ آپ ہی آجا تا ہے۔ اگر ہم نہ لکھتے تو ہمارے بعد کوئی تو لکھتا۔ اگر احمد نوید کی شخصیت، پیار اور انسان دوستی میں کھو ٹ ہو تا، تو ممکن نہیں تھا کہ میں ان کے کڑے وقت اور اعصابی تناؤ میں ان کی ساتھی بنی رہتی۔ احمد نوید کی اخلاقی خوبیاں، ان کے غیر متزلزل خیالات و افکار، شاعرانہ بلندی، بچوں، جانوروں سے محبت اور انسان دوستی کے جذبات نے مجھے حوصلہ دیا کہ ان کے شدید ڈیپریشن کو اپنے ناتواں کندھوں کی طاقت بنا ؤں۔ اور یہ ہی ایک چیز تھی جس نے مجھے پہچان دی میرے قلم کو تاثیر بخشی۔ دیکھ لیجیے جو چیز مجھے ڈبو سکتی تھی اسی کو تھام کر میں کنارے لگی۔

اے رشکِ جنوں، رشکِ خرد، رشکِ رہِ طور
لو تم ہی اٹھاؤ جو اٹھے غم مرے دل کا

عاشق ہوں مرے تن سے جھلکتا ہے وہ معشوق
یوں ہی تو دوانہ نہیں عالم مرے دل کا
احمد نویدؔ

محبت میں جنوں کے آثار سب سے زیادہ ہشیاروں کو کھٹکتے ہیں، بچوں کے ہاتھ میں سنگ تھما کر دروازے کی جھری سے تماشا دیکھنے والوں کا علاج کسی نفسیاتی معالج کے پاس نہیں۔ سو بے دھڑک پاک بازی کی تسبیح تھامے، راست بازی کا چولا پہن کر عالمانہ شان سے عقل و خرد کی بے فیض علمیت بھگارا کرتے ہیں۔

نفسیاتی بیماری کا علاج تو ممکن ہے لیکن حسد کا علاج ممکن نہیں۔ اس بیماری کے عارضے میں مبتلا لو گ دوسرے کی حسد میں اپنی صلاحیتوں، مزاج اور شگفتگی کو تو نقصان پہنچاتے ہیں لیکن ان کے حسد کی آگ انہیں بھی بھسم کر دیتی ہے جن تک وہ اس کی تپش پہنچانا چا ہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس خود نوشت میں حسنین بھا ئی کا تذکرہ نہ چاہتے ہوئے بھی کرنا پڑا۔

ہم خالہ کا مکان چھوڑ کر ایک ا یسے مکان میں شفٹ ہو گئے جو جنوں والا مشہور تھا۔ اس مکان میں جن رہتے تھے۔ اس بارے میں ہمیں اس دن پتہ چلا جس دن ہم فریدہ باجی کے مکان میں شفٹ ہوئے۔ اگر ہمیں پہلے پتہ ہوتا تو ہم وہ گھر کبھی نہ چھوڑتے۔ کیوں کہ ہماری غیر موجودگی میں بچوں کی دیکھ بھال ہی ہو جا تی، مگر شاید کچھ انسانوں کی طرح، جنوں نے بھی اتنے قریب رہتے ہوئے ہمیں اپنے ساتھ ہونے کا حساس دلانا پسند نہیں کیا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو ہمیں دو سال کے رشی کو خیر پور نہ چھوڑنا پڑتا۔ رشی کی ٹانگوں کی درستی کے لیے ساری کارروائیاں کامیابی سے طے پا گئی تھیں۔ اس کے قدم زمین پر اور ہماری سانسیں سینے میں نارمل انداز سے چلنا شروع ہوئیں تو زندگی میں سکون تو آیا، لیکن بچوں کے قد بڑے کرنے کے لیے بہتر غذا درکار تھی۔ اور بہتر غذا کے لیے ہمارا جاب کرنا ضروری تھا۔

ہمارے علاقے میں ایک کمیونٹی کے بہترین اسکول میں ہم نے پڑھانا شروع کر دیا۔ رشی دو سال کا اور رامش چھ ماہ کا تھا۔ احمد رات بھر دوستوں میں رہتے اور صبح گھرآکر سو جاتے۔ ہمارا گھر، اسکول اور باجی کے گھر کے درمیان تھا، پہلے بچوں کو باجی کے پاس چھوڑنے جاتے پھر گھر آکر اپنا بیگ اور اسکول کی ضروری چیزیں اٹھاتے اور اسکول روانہ ہو ہو جاتے۔ اسکول دو شفٹوں والا تھا۔ ساڑھے بارہ بجے چھٹی ہو جاتی تھی۔

بچوں کی پسند کی تمام چیزیں، حلوا، پاپڑ، میٹھا پراٹھا وغیرہ ہم مختلف تھیلوں میں ڈال کر باجی کے حوالے کردیتے، تاکہ انہیں ان کی غذا کے حوالے سے کو ئی پریشانی نہ ہو۔ اس زمانے میں ان کا گھر بن رہا تھا۔ ان کے لیے رشی کو خاص طور پر سنبھا لنا بہت مشکل ہو رہا تھا،

چنا نچہ فیصلہ کیا گیا کہ رشی کو خیر پور چھوڑ دیا جا ئے۔ میرا بھا ئی کراچی آیا ہوا تھا، اس کے ساتھ دوسال کے رشی کو بھیج دیا گیا۔ رشی نانی اور ٹرین کا نام سن کر خوشی خوشی ماموں کی گود میں سوار ہو گیا۔ اور رکشے میں بیٹھ کر دور تک ہمیں دیکھ کر ہاتھ ہلاتا رہا۔

مگر نامعلوم آٹھ گھنٹے کا سفر اس نے کیسے گزارا ہو گا۔ پھر جب پہلی رات اسے ہمارے بغیر گزارنے پڑی ہو گی تو اس نے جلدی سے آنکھیں بند کر لی ہوں گی۔ کچھ بھی ہو کیسی بھی پریشانی ہو، کیسا بھی کٹھن وقت ہو، کسی ہوتے سوتے کی یاد کتنا ہی تڑپائے، پر نیند کی دیوی بچوں پر ہمیشہ ہی مہربان رہا کرتی ہے۔ صبح اٹھ کر اس نے جدا ماحول دیکھا ہو گا تو خیال کیا ہو گا اس کے ہوتے سوتے جلد ہی اسے لے جائیں گے۔

ہماری امی نے بتا یا تھاکہ دروازے پر کسی گاڑی کے ہارن، یا رکشے کی آواز پر وہ دوڑ کر ’امی آگئیں ”کہتا ہوا دروازے پر جاتا تھا اور واپس آکر دوبارہ گملے میں سے مٹی نکال کر اس میں سے جانے کیا تلاش کرتا رہتا اور پھر ساری مٹی دوباری گملے میں ڈال کر اسے دبانا شروع کر دیتا تھا۔

پر میرے پاس گملا تھا، نہ نیند کی دیوی تھی ا ور نہ رونے کو موقع تھا۔ وہ الگ بات کہ اس خود نوشت کے بہانے آنکھوں نے سارے حساب چکتا کر دیے۔

میری تینوں بہنیں رشی کا بہت خیال رکھتیں خاص طور پر چھوٹی بہن ندا، رشی کو اپنے پاس سلاتی، ماں کی طرح اس کی ایک ایک بات کا خیال رکھتی۔ تین ماہ بعد گرمیوں کی، اسکول کی چھٹیاں ہوئیں تو طبیعت میں ایسی بے چینی ہوئی، جی چاہا اڑا کر رشی کے پاس پہنچ جاؤں۔ بڑی مشکل سے ٹرین کا سفر کٹا۔ اور گھر پہنچی تو رشی دیر تک شکوہ بھری نظروں سے مجھے دیکھتا رہا اور پھرلپٹ کرخوب رویا۔

چھٹیاں گزریں، رشی کو اپنے ساتھ لے آئے، سوچا تھاکہ اپنے اسکول میں اسے داخل کر دیں گے۔ پر وہ ایک کمیونٹی کا اسکول تھا۔ کمیونٹی کے بچوں کو خاص رعایت پرپڑھایا جا تا تھا۔ پر خاص رعایت ان بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ کے بچوں کو حاصل نہ تھی۔ پچیس ہزار ایڈمیشن فیس اور چھ ہزار روپے ماہانہ فیس میں کوئی رعایت نہ ہونے کے سبب ہم نے رشی کو اپنے اسکول کے سامنے ایک اسکول میں داخل کرا دیا۔

پہلے رامش کو باجی کے پاس چھوڑتے، واپسی پر رشی کو لے کر اسے اس کے اسکول میں چھوڑتے ہوئے اپنے اسکول چلے جاتے۔ شروع میں رشی نے ہمارے ساتھ ہمارے اسکول جانے پر اصرار کیا، لیکن پھرخودہی سمجھ گیا کہ اس کے اسکول کے سامنے والی شاندار بلڈنگ میں اس کی ماں پڑھا توسکتی ہے پراسے یہ بات سمجھانہیں سکتی کہ وہ اس اسکول میں کیوں نہیں پڑھ سکتا۔ اس حساس بچے نے پھر مجھے تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ لیکن ایک روز اس نے ضد باندھ لی کہ وہ اسکول نہیں جائے گا۔

بہت پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اسے ٹو کا ٹیبل یا د نہیں ہوتا اس لیے کالی مس اس کے سر پر پینسل مارتی ہے۔ ڈھائی سال کے بچے کو دو کا پہاڑہ یاد نہ ہونے پر منے سے بچے کو مارنے والی کالی مس کی شکایت لے کر جب ہم ہیڈ مسٹریس کے پاس پہنچے تو صاف کہہ دیاگیا کہ اگر ہما رے بچے اتنے ہی نازوں کے پلے ہیں تو ہمیں ان کو پنے اسکول میں پڑھانا چا ہیے۔

خیر ہم نے کسی آیت کی طرح بچے کو ٹو کا ٹیبل بھی کسی طرح رٹواہی دیا۔ لیکن اب رشی نے دوبارہ ہمارے اسکول جانے کے لیے مچلنا شروع کر دیا تھا۔ ہم نے اپنی ہیڈ مسٹریس سے مسئلہ بیان کیا تو فرمایا کہ اس اسکول میں کمیونٹی کے مخیر خضرات کی طرف سے صدقہ خیرات کے پیسے جمع کیے جاتے ہیں جن بچوں کے والدین استطاعت نہیں رکھتے۔ ان پیسوں میں سے ان کی فیس ادا کر دی جا تی ہے۔ آپ کے بچے کو بھی ہم آدھی فیس پر ایڈمیشن دے سکتے ہیں۔

احمد کی نازک مزاجی، حساس طبیعت اور مزاج میں تنوع اور شعرا ء اور منتظمین کی گٹھ جوڑ کے باعث انہیں اب ادبی نشستوں اور مشاعروں میں مدعو نہیں کیا جا تا تھا، دوست احباب بھی ان کے مزج میں برہمی کی وجہ سے ان سے کترانے لگے تھے۔ اس جبری گوشہ نشینی نے انہیں حد سے زیادہ چڑ چڑا کر دیا تھا۔ اسی دوران، ان کے ایک نیم حکیم دوست نے خود ہی ان کا علاج شروع کر دیا اور ان کے ذہن میں بٹھا دیا کہ ان کی تمام بیماریاں اس ایک دوا سے ٹھیک ہو جا ئیں گی۔ انہوں نے ضد پکڑ لی کہ اب انجکشن نہیں لگوائیں گے۔ اور ہمیں بھی قائل کر لیا کہ اس دوا کے اثرات کا انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

دل قصہء مجنوں سے، جب اٹھنے لگے ہوں گے
پھر لے کے جنوں کوئی، مثال آ گیا ہو گا

یا طعنہ زناں، سنگ زناں، تھک گئے ہوں گے
یا تیرے جنوں میں ہی، سنبھال آ گیا ہو گا
احمد نویدؔ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •