’اسلاموفوبک دادگیری‘ نے سکول ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طعنوں سے شروع ہونے والی بات گہری چوٹوں تک کیسے پہنچی۔ برطانیہ میں مسلمانوں سے نفرت کے رویے کا شکار ہونے والی مالک کی کہانی خود ان کی زبانی۔

’پلیز آج گھر سے باہر نہ جانا جب تک کہ اس کے علاہ کوئی چارہ نہ ہو۔‘

میرے والد مجھے کام سے فون کر کے محفوظ رہنے کو کہہ رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی دو مساجد پر جمعے کی نماز کے دوران فائرنگ کے بعد سے وہ ایسی ہی کالز کر رہے ہیں۔

مارچ کے اس بھیانک دن میں نوٹنگھم میں واقع اپنے گھر میں بیٹھی، سوشل میڈیا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھتی دیکھ کر اپنے آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔

شاید آپ کو ایسا لگے کے میرے والد کچھ زیادہ ہی میری فکر کرتے ہیں۔ آخر میں 23 سال کی ہوں۔ لیکن انھیں معلوم ہے کہ ایسے خوفناک حملوں کے بعد میری جیسی ایک حجاب پہننے والی نوجوان لڑکی کو تشدد اور اس سے بھی برا سلوک سہنا پڑ سکتا ہے۔

سنہ 2017 کے موسم ِ گرما میں فنزبری مسجد پر ہوئے حملے کے بعد بھی انھوں نے مجھے ایسی ہی کال کی تھی اور اسی گرمیوں کے موسم میں دوبارہ، ویسٹ منسٹر اور لندن برج پر ہوئے دو دہشت گرد حملوں کے بعد بھی۔

افسوس ہے کہ اس بات سے فرق نھیں پڑتا کہ مسلمان متاثرین میں سے ہیں یا مجرموں میں سے۔ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم آسان ہدف ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ میں اسلاموفوبیا عروج پر؟

برطانیہ میں مساجد پر حملوں کی نئی لہر

نیوزی لینڈ: دو مساجد پر حملوں میں 49 ہلاک، متعدد زخمی

نیوزی لینڈ میں ہوئے حملوں کے بعد بھی ایسا ہی ہوا۔ کرائسٹ چرچ شوٹنگ کے بعد والے ہفتے، ٹیل ماما کو، جو ایک ایسا گروپ ہے جو مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کا ریکارڈ رکھتا ہے، ایک ہفتے میں اوسطاً نفرت انگیز حملوں کی جتنی اطلاعات ملتی ہیں، گارڈیئن کو دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق، ان کی تعداد دوگنی ہو گئی۔

بالکل ایسا ہی سنہ 2017 میں ویسٹ منسٹر اور لندن برج حملوں کے بعد بھی ہوا اور گریٹر مانچیسٹر میں اسی سال آریانہ گرینڈے کے کانسرٹ پر ہوئے حملے جس میں خاص کر عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا تھا کے بعد بھی۔ پولیس کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، آن لائن نفرت انگیز جرائم کو ملا کر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز حملوں کی اطلاعات 500 فیصد سے زیادہ بڑھی ہیں۔

اگرچہ ان حملوں کے بعد ایسے واقعات کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ مجموعی طور پر ایسا لگتا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران اسلاموفوبیا بدترین ہو گیا ہے۔ صرف سنہ 2018 میں ہی سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، برطانیہ میں مذہب کی بنیاد پر کی جانے والی نفرت 40 فیصد تک بڑھ گئی، جس میں سے آدھے سے زیادہ کا نشانہ مسلمان تھے۔

اگر میں یہ کہوں کہ ان اعدادو شمار کو سن کر مجھے ڈر محسوس نہیں ہوتا تو میں جھوٹ بول رہی ہوں گی، لیکن ان دنوں میں نے چھپ کر رہنے سے انکار کر دیا ہے۔ میرے لیے مسلمان ہونے کا مطلب ثقافتی شناخت سے زیادہ نفرت کے سامنے بہادری دکھانا ہے۔

اسی لیے اس بار میں نے اپنے والد سے کچھ سفید جھوٹ بولے اور اپنی زندگی عام انداز میں گزارتی رہی۔ کلاسز لیتی رہی، طلبا سیاست میں حصہ لیتی رہی (میں اپنی سٹوڈنٹ یونین کی بی ایم ای آفیسر ہوں) اور دوستوں کے ساتھ کافی کے لیے باہر جاتی رہی۔

حملہ کے بعد آنے والے دنوں میں، میں نے نوٹنگھم میں 60 افراد کے لیے شمعیں جلانے کا اہتمام کیا۔ میں مسلمانوں کو ایک ایسی جگہ فراہم کرنا چاہتی تھی جہاں بچ جانے والوں کے احساس کے طور پر ہم ایک دوسرے سے جڑ سکیں، مرنے والوں کا افسوس کر سکیں اور ہمارے اندر موجود اس خوف سے نمٹ سکیں کہ شاید اگلی مسجد ہماری ہو۔ اگلا حملہ ہمارے خاندان پر ہو اور ہم اسے روکنے میں بےبس ہیں۔

خوف کے ساتھ نمٹنا میرے لیے نیا نہیں۔ میں مشرقی لندن میں پلی بڑھی ہوں۔ ایسا علاقہ جہاں رہنے والوں کی زیادہ تعداد کام کرنے والے مسلمان اور ایشیائی طبقے کی ہے۔ وہاں پر بےشمار مساجد ہیں اور سُپر مارکیٹ میں حلال کھانا ملتا ہے لیکن اس سب کے باوجود میں نے اپنا بچپن اور نوجوانی کے سال مسلمانوں کے خلاف تشدد کے سائے میں گزارے۔

جب 9/11 کا حملہ ہوا اسی وقت میں نے پرائمری سکول جانا شروع کیا تھا۔ میری عمر صرف پانچ سال تھی لیکن مجھے یاد ہے کہ کیسے کھیل کے میدان میں مجھے طعنے دیے جاتے تھے اور اچانک میں نے خود کو بہت غیر محفوظ محسوس کرنے لگی تھی۔

چار سال بعد لندن میں 7/7 کا حملہ ہوا۔ مجھے یاد ہے میں کتنا ڈر رہی تھی کہ میرے اتنا نزدیک اس طرح کا کچھ ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد سب کچھ بدل گیا۔

داداگیری کرنے والوں نے مجھے ’بن لادن‘ اور ’دہشت گرد` بلانا شروع کر دیا تھا اور ان کے حملے صرف گالم گلوچ تک محدود نہیں رہے۔ اکثر اوقات مجھے ایسی حالت میں چھوڑا جاتا کہ میں جب والدین کے پاس گھر جاتی تو میرے جسم پر زخموں کے نشان صاف دکھائی دے رہے ہوتے تھے۔

کچھ مواقع پر یہ حملے اتنے شدید ہو گئے کہ مجھے ہسپتال لے جانا پڑا۔ میں سوچتی رہتی کہ اگر میں انھیں نظرانداز کر دوں تو یہ میرا پیچھا چھوڑ دیں گے اور یہ سب دوبارہ نھیں ہو گا لیکن ایسا کچھ نھیں ہوا۔

اس سب کے اثرات آج تک میرے ساتھ ہیں۔ اگر میرے ساتھ بدسلوکی کی جائے تو میرا پہلا ردِعمل یہ ہوتا ہے کہ ’میں نے اس کی مستحق ہونے کے لیے ایسا کیا کیا ہے؟ میں نے کیا کیا ہے؟ میری ہی غلطی ہو گی۔‘

جب تک میں سیکنڈری سکول پہنچی اور میری عمر 11 سال تھی، مجھے ایٹنگ ڈس آڈر (خوراک سے متعلق مرض ) تھا۔ میں آج بھی ڈپریشن اور ذہنی صحت سے متعلق دیگر مسائل کا شکار ہوں۔ دادگیری نے سکول کو ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا۔ مجھے دوست بنانے میں مشکل پیش آئی اور میں کلاسوں کے دوران خاموش رہتی۔ اپنی رائے یا کچھ بھی بتانے سے ڈرتی تھی۔

اُس وقت میں صرف یہ چاہتی تھی کہ مجھے ایک برطانوی کے طور پر دیکھا جائے اور مجھ سے بھی ویسا ہی سلوک کیا جائے جو میری کلاس میں موجود تمام دوسرے غیر مسلمان بچوں سے کیا جاتا ہے لیکن مجھے اس سے محروم کر دیا گیا۔ مجھے بار بار یہ بتایا گیا کہ میں ’برطانوںی نہیں ہوں‘ اور ایک ’دہشت گرد‘ اور اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوں۔

شاید کسی طرح ان انتہا پسند قاتلوں کے اعمال کے لیے مجھے ذمہ دار سمجھا گیا، جن کا اور میرا بس مذہب ایک تھا۔

مشرقی لندن میں ایشیائی افراد کے درمیان پل بڑھ کر نوٹنگھم یونیورسٹی میں جانا میرے لیے ثقافتی طور پر ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ اکثر اوقات پوری کلاس میں صرف میں ہی اکلوتی مسلمان یا اکلوتی ایشیائی ہوتی ہوں۔

جس علاقے سے میں آئی ہوں وہاں پر ایک مسلمان کا حجاب پہننا ایک عام سی بات ہے۔ میں یونیورسٹی میں دیہی علاقوں سے آنے والے ایسے افراد سے ملی ہوں جنھوں نے کسی کو حجاب پہنے صرف ٹی وی یا اخبار میں دیکھا ہے۔

مجھے یاد نھیں کہ کتنی بار مجھے اس بات کی وضاحت دینی پڑی ہے کہ میں اپنی مرضی سے حجاب پہنتی ہوں اور نھیں میں مظلوم نھیں ہوں۔

میں خوش قسمت ہوں کہ حجاب پہننے کے لیے کیمپس میں میرے اوپر حملہ نھیں کیا گیا لیکن میں ایسی لڑکیوں کو جانتی ہوں جن کا حجاب کھینچ لیا گیا۔

جب میں نے یونیورسٹی شروع کی میں داداگیری کرنے والوں اور طعنے دینے والوں سے دور اپنی زندگی کا نیا باب شروع کرنا چاہتی تھی اور اس ڈر سے آزادی محسوس کرنا چاہتی تھی کہ میں دوسروں سے مختلف ہوں۔ اسی لیے کچھ سال تک میں نے اپنے حجاب کو پگڑی کی طرح پہنا۔ تاکہ یہ اتنا واضح نہ ہو اور ایک فیشن کی چیز زیادہ لگے۔

ابتدا میں مجھے یہ پریشانی تھی کہ شاید گھر سے اتنا دور میرا دل نہ لگے اور غیر محفوظ ہونے اور جگہ سے تعلق نہ جڑنے کا احساس دوبارہ سر اٹھا لے گا۔ شکر ہے کہ میں نے اب ایک مضبوط ساتھ اور دوستی کا نیٹ ورک بنا لیا ہے۔

میں نے چھ مہینے کے لیے ملک سے باہر ملائیشیا میں رہ کر پڑھنے کا تجربہ بھی کیا ہے، ایک ایسا تجربہ جو کم عمری میں کرنا شاید میرے لیے خوفناک ہوتا۔

آج مجھے خود پر زیادہ اعتماد ہے اور سٹوڈنٹ پولیٹیکس کے ذریعے مجھے میری آواز مل گئی ہے۔ مجھے آج بھی ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔ جس صدمے سے میں اتنی چھوٹی عمر میں گزری، وہ میرا پیچھا کبھی نھیں چھوڑے گا۔

حال ہی میں، میں نے اپنے حجاب کو روایتی انداز میں پہننا شروع کیا ہے۔ اسی طرح جیسے میں سکول میں پہنتی تھی۔

میرے لیے یہ ایک مسلمان کے طور پر اپنی شناخت کا نشان واپس لینا ہے اور آج کل میں اسے فخر سے پہنتی ہوں۔ حتیٰ کہ نفرت کے سامنے بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10738 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp