عمران خان کا دورہ ایران اور درپیش چیلنج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان اور ایران دو برادر مسلمان اور ہمسایہ ملک ہیں اور گذشتہ سات عشروں سے زیادہ پر محیط دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں اگرچہ نشیب و فراز آتے رہے لیکن دونوں ملکوں کے عوام ہمیشہ ایک دوسرے کے بہت قریب رہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی، سماجی، ادبی، لسانی اور ہمسائیگی کی تاریخ بہت قدیم ہے اور اگر بیرونی مداخلت اثرانداز نہ ہو تو دونوں ملکوں کے عوام اور حکومتیں خطے میں نہایت موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ سفارتی دنیا میں ایک جملہ بولا جاتا ہے کہ دوست بدلتے رہتے ہیں لیکن ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے۔ ایران اور پاکستان ہمسایہ ملک ہیں لہذا انہیں علاقائی، عالمی اور داخلی مشکلات و مسائل کے باوجود مل جل کر ہی زندگی گزارنی ہے تاکہ دونوں ممالک ہمسائے ہونے کا حق بھی ادا کرتے رہیں اور دونوں ممالک ترقی و پیشرفت کے سفر کو بھی جاری و ساری رکھ سکیں۔

پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان ایسے عالم میں ایران کا دورہ کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کو باہمی روابط کو مستحکم اور پائیدار بنانے کے لیے کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔

سب سے بڑا اور بنیادی چیلنج یہ ہے کہ بعض عالمی اور علاقائی طاقتیں پاک ایران تعلقات کو مضبوط و مستحکم نہیں ہونے دیتیں کیونکہ اس سے اُن کے عالمی اور علاقائی مقادات متائثر ہوتے ہیں دوسرا بڑا چیلنج پاکستان میں خارجہ پالیسی میں ایران کے حوالے سے سوچ کو صرف اور صرف ہند ایران تعلقات کے تناظر میں پرکھا اور دیکھا جاتا ہے حالانکہ ہند سعودی عرب تعلقات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پاکستان اگر ہند سعودی گہرے تعلقات کے باوجود سعودی عرب سے مثالی تعلقات رکھ سکتا ہے تو ایران ہند تعلقات کو بہانہ بنانا مناسب نہیں۔

دوسرا مسئلہ ماضی میں طالبان اور افغانستان کا تھا جو پاک ایران تعلقات میں تنازعے کا باعث بنتا تھا جو کافی حد تک حل ہو چکا ہے اور اس میں پاک ایران تعلقات کی نوعیت پہلے کیطرح نظر نہیں آرہی۔

ایک اور بڑا چیلنج جو پاک ایران تعلقات کو درپیش ہے وہ بارڈر سیکوریٹی کا مسئلہ ہے اس میں بھی تیسری قوت کی مداخلت روز روشن کی طرح واضح ہے البتہ پاکستان کی سیکوریٹی فورسز اس پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطالق ایٹمی طاقت کا حامل ملک جس کے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے وہ پاک ایران سرحد پر مٹھی بھر دہشت گردوں پر قابو پا سکتا ہے صرف ترجیحات اہم ہیں۔

ایک اور چیلنج جو اس وقت چیلنج ضرور ہے لیکن اگر پاکستان سنجیدگی سے میدان میں وارد ہو تو اسے ایک بہترین موقع میں بدلا جا سکتا ہے وہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ ہے۔

اس منصوبے کو امن پائپ لائن کا نام دیا گیا تھا ایران نے اپنے حصے کا کام مکمل کرلیا ہے اگر پاکستان اس منصوبے کو سنجیدگی سے لے کر اس پر عمل درآمد شروع کر دے تو نہ صرف پاکستان کا توانائی کا بحران حل ہو سکتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو ایک نئی قوت و طاقت میسر آسکتی ہے۔

پاک ایران تعلقات میں ایک اور موضوع ایران اور پاکستان کے درمیان بنکاری کے نظام کا فقدان ہے۔ پاکستان میں امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کوبہانہ بنایا جاتا ہے حالانکہ ہندوستان سمیت کئی دوسرے ممالک اگر امریکہ سے ایران سے تیل لینے کے لئے اگر خصوصی چھوٹ لے سکتے ہیں تو پاکستان اس طرف قدم کیوں نہیں اٹھاتا۔ ایران ایک کنزیومر سوسائٹی ہے پاکستان اس سے بھرپور استفادہ کر سکتا ہے اور اپنی گرتی اقتصادی صورت حال کو ایران سے تجارتی لین دین میں اضافہ کر کے کافی حد تک سنبھال سکتا ہے۔ ایران اس وقت ترکی، عراق اور قطر جیسے ہمسایہ ممالک سے اپنے تجارتی تعلقات تیزی سے استوار کر رہا ہے پاکستان کو یہ موقع ہاتھ سے نہیں دینا چاہیے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ایسے عالم میں ایران کے دورے پر آرہے ہیں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوئے ٹریک کی بہتری اور وسعت پر بھی اتفاق نظر پایا جاتا ہے۔ ایران نے جن شعبوں میں ترقی کی ہے ایران اُسے اسلامی ممالک کی امانت گردانتا ہے اُس سے پاکستان کو فائدہ اٹھانا چاہیے اسی طرح پاکستان جن شعبوں میں ترقی کر چکا ہے ایران کو اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔

عمران خان ایک نئے ویژن اور تبدیلی کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں ملک کے ساتھ بیرون ملک بھی اُن سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں وہ دورہ ایران کو ایک تاریخی اور یادگار دورہ بنا کر پاک ایران تعلقات کی ایک نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اگر پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے، ریلوے ٹریک کی بہتری اور وسعت، دونوں ممالک کے لیے تجارتی آسانیاں، سیاحت کے شعبے میں سہولیات، سرحدی سلامتی، علاقائی مسائل پر ہم آہنگی، مسلمان ممالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے فروغ اور دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل جیسے موضوعات کو کسی منطقی نتیجے پر پہنچا سکتے ہیں تو ان کو یہ دورہ تاریخی دورہ ثابت ہو سکتا ہے ورنہ اس سے پہلے بھی پاکستان کے سابقہ حکمران درجنوں سمجھوتوں اور متعدد منصوبوں پر زبانی و کلامی جمع خرچ کر کے تاریخ کے سمندر میں گم ہو چکے ہیں اور ان کے منصوبے اور سمجھوتے فائلوں کی نذر ہو چکے ہیں خدانہ کرے یہ دورہ بھی میڈیا میں چند دن نظرآنے کے بعد قصہ پارینہ نہ بن جائے۔

عمران خان سے جسطرح پاکستانیوں کو امیدیں وابستہ ہیں پاک ایران تعلقات کے حوالے سے بھی وہ ایک بریک تھرو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ البتہ اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ پاکستان اور ایران کے مشترکہ دشمن ان تعلقات کے فروغ میں رکاوٹیں کھڑی کریں گے جس کی حالیہ مثال پاکستان کے حالیہ دہشتگردانہ واقعات ہیں اسی لئے تو اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ہم وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ ایران سے پہلے جو نہایت تاریخی دورہ ہے، پاکستان میں دہشتگردوں کی حالیہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد، انتہاپسند اور ان کے حامی اسلامی ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات سے ڈرتے ہیں۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران پاکستانی قوم اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر راشد نقوی کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر راشد نقوی کی دیگر تحریریں