سری لنکا حملے: ’میں سمجھتا تھا سری لنکا نے یہ تشدد پیچھے چھوڑ دیا ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینٹ انتھونی

Reuters
کولمبو میں سینٹ انتھونی مزار کے گرد سیکیورٹی گارڈز، یہاں بھی ایک دھماکا کیا گیا تھا

سری لنکا میں اتوار کو مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر ہونے والے دھماکوں سے متاثر ہونے والے افراد نے بی بی سی سے اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔

کولمبو اور نیگمبو کے مغربی ساحل اور اور بٹّی کالؤا کے مشرق میں ہوٹلوں اور چرچوں کو یکے بعد دیگرے متعدد بم دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ دھماکے اس وقت کیے گئے جب سری لنکا کی پُرامن مسیحی اقلیت، ایسٹر کے تہوار کے موقع پر چرچ کی تقریبات میں شرکت کر رہی تھی یا وہاں جانے کی تیاری کر رہی تھی۔

جولین ایمینول

ڈاکٹر ایمینول ایک 48 سالہ معالج ہیں۔ وہ سری لنکا میں پیدا ہوئے اور آج کل برطانیہ کے شہر سرے میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

اس ہفتے وہ کولمبو میں رہنے والے اپنے چند رشتہ داروں سے ملنے کے لیے گئے ہوئے تھے۔ جس وقت پہلا بم پھٹا وہ کولمبو کے سینامن گرانڈ ہوٹل میں موجود اپنے کمرے میں سو رہے تھے۔

وہ بتاتے ہیں ’ہم اپنے بیڈ روم میں تھے جب ہم نے پہلا بڑا دھماکہ سنا جس نے ہمارے کمرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ میرا خیال ہے اس وقت صبح کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔ پھر ہمیں ہوٹل کے لاؤنج میں لے گئے، جہاں ہمیں کہا گیا کہ پیچھے کے راستے باہر نکل جائیں۔ اور اس جگہ ہم نے دھماکے کے متاثرین کو ہسپتال لے جاتے دیکھا۔ ہم نے ہوٹل کو پہنچنے والا کچھ نقصان بھی دیکھا۔‘

اس بارے میں مزید

’حملے بین الاقوامی نیٹورک کی مدد سے ہوئے‘

سری لنکا میں ہونے والے حملوں کی تصویری جھلکیاں

سری لنکا

AFP
یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب سری لنکا کی پُرامن مسیحی اقلیت، ایسٹر کے تہوار کے موقع پر چرچ کی تقریبات میں شرکت کر رہی تھی

’ہم آج میری والدہ اور بھتیجے کے ساتھ چرچ جا رہے تھے لیکن تمام چرچوں کی سروسز منسوخ کر دی گئی ہیں۔ آج صبح جو کچھ ہوا اس کے بعد ملک بھر میں اب کوئی چرچ سروس نہیں ہوگی۔‘

وہ کہتے ہیں ’میں نے اپنی زندگی کے پہلے 18 سال سری لنکا میں گزارے ہیں اور میں نے بہت نسلی کشیدگی دیکھی ہے۔ سنھالہ اور تامل نسلی گروہوں کے درمیان دہائیوں تک جاری رہنے والے تنازعات نے سری لنکا کو تباہ کر دیا تھا۔ لیکن سنہ 2009 کے بعد سے یہاں کافی حد تک امن قائم رہا۔ میرے بچے جن کی عمریں 11 اور سات سال ہیں، انھوں نے کبھی جنگ جیسا کچھ نہیں دیکھا اور نہ ہی میری بیوی نے۔ ان کے لیے یہ سب کافی مشکل ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’یہ بہت افسوس ناک ہے۔ میں سمجھتا تھا سری لنکا نے یہ سب تشدد پیچھے چھوڑ دیا تھا لیکن اب اسے واپس دیکھنا افسوس ناک ہے۔‘

عثمان علی

علی کولمبو میں رہتے ہیں۔ پہلی بار انھوں نے تب نوٹس کیا کہ کچھ غلط ہے جب ان کے گھر کے نزدیک رومن کیتھولک چرچ سے لوگوں کو جلدی جلدی باہر نکالا جا رہا تھا۔

جس سڑک پر ان کا گھر ہے وہ شہر کے مرکزی ہسپتال کو جاتی ہے۔ جلد ہی وہ پوری سڑک ایمبولینسز سے بھر گئی۔ انھوں نے ہیش ٹیگ LKA # دیکھا اور تب انھیں معلوم ہوا کہ کیا ہوا ہے۔

خوفناک فٹیج اور تصاویر کے درمیان انھوں نے ملک بھر کے بلڈ سینٹروں سے متاثرین کے لیے خون دینے کی اپیلیں دیکھیں۔

علی نیشنل بلڈ سینٹر پہنچے اور دیکھا کہ وہ لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔

وہ بتاتے ہیں ’سڑکوں پر بے پناہ ہجوم تھا اور سڑکیں لوگوں سے بھری ہوئی تھیں۔ بلڈ سینٹر میں جانے کے لیے جس کو جہاں جگہ ملی اس سے وہیں گاڑی پارک کر دی۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں ’فی الحال وہ (ہسپتال والے) خون عطیہ کرنے والے لوگوں سے ان کا نام، بلڈ گروپ اور رابطہ نمبر لے رہے ہیں اور انھیں اسی صورت میں واپس آنے کا کہہ رہے ہیں اگر نیشنل بلڈ سینٹر کے نمائندے کی طرف سے ان سے رابطہ کیا جائے۔‘

علی کہتے ہیں ’بہت لمبی لمبی قطاریں بنا کر لوگ داخل ہونے والے راستے کی طرف جا رہے تھے۔‘

اندر داخل ہونے پر ایک مضبوط کمیونٹی سپرٹ نظر آتی تھی۔

علی بتاتے ہیں ’مذہب کی تقسیم سے بالاتر ہو کر، ہر شخص کا صرف ایک ہی ارادہ تھا اور وہ تھا دھماکوں کے متاثرین کی مدد کرنا۔ سب لوگ تفصیلات والا فارم پُر کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے۔‘

’میں حیرت میں ہوں کہ یہ دھماکے کہاں سے آئے۔ خدا ہمیں محفوظ رکھے۔‘

کیرن ارآسارتنم

کیرن ارآسارتنم ، ایمپیریل کالج لندن بزنس سکول میں ایک پروفیسر ہیں۔ وہ دی شینگریلا ہوٹل میں رہ رہے تھے جس کی دوسری منزل پر موجود ریستوران مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

ارآسارتنم، ایک سری لنکن ہیں۔ 30 سال پہلے وہ ایک سوشل اینٹرپرائز کے لانچ کے لیے جب برطانیہ کا دورہ کر رہے تھے تو اسی وقت پناہ گزین کے طور پر وہاں منتقل ہو گئے۔ وہ اپنے کمرے میں تھے جب انھوں نے زور دار آواز سنی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ خوفناک مناظر کے بیچوں بیچ آٹھارویں منزل سے گراؤنڈ تک، انھوں نے اپنی زندگی کے لیے دوڑنا شروع کر دیا۔

وہ کہتے ہیں ’سب لوگ گھبرا گئے تھے، افراتفری کا عالم تھا۔ میں نے اپنی دائیں جانب کمرے میں دیکھا اور ہر طرف خون ہی خون تھا۔

’ہر کوئی دوڑ رہا تھا اور بہت سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ لوگوں کی شرٹس پر خون لگا ہوا تھا اور کوئی ایک بچی کو ایمبولینس کی طرف لے جا رہا تھا۔ دیورایں اور فرش خون سے اٹے ہوئے تھے۔‘

41 سالہ ارآسارتنم کا کہنا ہے کہ اگر انھوں نے ناشتہ کرنے میں دیر نہ کر دی ہوتی تو شاید وہ بھی دھماکے کی زد میں آجاتے۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنے کمرے سے تقریباً صبح کے پونے نو بجے نکلے، اسی وقت بہت سے مقامات کے ہوٹلوں اور چرچوں سے دھماکوں کی خبریں آرہی تھیں۔

وہ مزید بتاتے ہیں ’کسی چیز نے مجھے پریشان کیا اور میں اپنا ڈیبٹ کارڈ لینے واپس کمرے میں گیا، پردہ کھولا اور دوبارہ ’ڈونٹ ڈسٹرب‘ سائن لگا دیا۔۔۔ اور ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس وقت وہ ایک ایمرجنسی شیلٹر میں ہیں جہاں وہ ’ہر طرف خون کی بو سونگھ‘ سکتے ہیں۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کو علاج کی ضرورت ہے اور لوگ اپنے گمشدہ خاندان والوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔

’بچوں کو خون میں لت پت دیکھنا ہولناک تھا۔ میں نے 30 سال قبل پناہ گزین کے طور پر سری لنکا چھوڑا تھا اور یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ سب دوبارہ دیکھوں گا۔‘

سائمن وٹمارش

سائمن وٹمارش، ایک 55 سالہ ریٹائرڈ ڈاکٹر ہیں جو ویلز سے سری لنکا چھٹی پر آئے ہیں۔ وہ بٹی کالوا شہر کے نزدیک سائکلنگ کر رہے تھے جب انھوں نے ’زوردار دھماکے‘ کی آواز سنی اور جب وہ آدھا میل دور تھے تو انھوں نے ’دھواں آسمان کی جانب جاتے دیکھا۔‘

ایک دھماکے نے شہر میں موجود چرچ کی عمارت کو اس وقت اڑا دیا جب لوگ وہاں عبادت کے لیے جمع ہو رہے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’پھر ہم نے ایمبولینسز دیکھیں، لوگوں کو روتے دیکھا اور ہمیں اس علاقے سے نکل جانے کو کہا گیا۔‘

مسٹر وٹمارش کہتے ہیں کہ ایک سابقہ معالج کے طور پر انھوں نے متاثرین کی مدد کرنا ضروری سمجھا اور اسی لیے ایک مقامی ہسپتال میں جاکر اپنی رضاکارآنہ خدمات پیش کیں۔

سری لنکا

Getty Images
سری لنکا کی سکیورٹی فورسز نے کولمبو میں سینٹ انتھونی شرائن کے اردگرد کنٹرول سنبھال لیا

وہ کہتے ہیں ’اس وقت تک انھوں نے ایمرجینسی پروٹوکولز ایکٹیویٹ کر دیے تھے۔ ہسپتال سخت فوجی پہرے میں تھا اور وہ لوگوں کو اندر داخل ہونے سے روک رہے تھے۔

’آس پاس کی تمام سڑکیں بند کر دی گئیں تھیں۔ سب کچھ بہت منظم لگ رہا تھا۔ میں نے جاکر ایک سینئر کو ڈھونڈا اور دیکھا کہ میں کچھ مدد کر سکتا ہوں یا نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ دھماکوں کے بعد سری لنکن حکومت کی طرف سے لگائے گئے کرفیو نے وہ تمام سڑکیں اور گلیاں ویران کر دی ہیں جو چند گھنٹے قبل ہی رش سے بھری ہوئی تھیں۔

وہ بتاتے ہیں ’اب کرفیو لگا ہے، یہاں کچھ نہیں ہے۔ کوئی گاڑی نہیں، پیدل چلتے لوگ نہیں، کچھ نہیں۔ پیغام یہ ہے کہ گھروں کے اندر بند رہیں۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں ’لندن سے آئے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ واپس جانا چاہتے ہیں لیکن جب تک کرفیو ہٹ نہیں جاتا، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10787 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp