مردانہ کمزوری کیسے دور کی جائے؟

ہمارے معاشرے میں 90 فیصد مرد مردانہ کمزوری کا شکار ہے۔ یہ وہ مردانہ کمزوری نہیں ہے جو آج کل کے لوگ سمجھتے ہیں۔ آج کل کے لوگوں کے نزدیک اگر مرد مردانہ قوت نہیں رکھتا یا وہ اپنے جیسا انسان پیدا کرنے سے قاصر ہو یا جسمانی طور پہ کمزور ہو تو اسے مردانہ کمزوری سمجھا جا تا ہے۔ لیکن اصل میں مردانہ کمزوری ایک بیماری ہے جس کی بہت سی اقسام ہیں۔ یہاں مردانہ کمزوری سے مراد ایک مرد کی وہ کمزوریاں ہیں جو معاشرے میں برائی پھیلاتی ہے اور مرد انھیں تسلیم نہیں کرتا۔

مرد کی ایک کمزوری اپنے غصے پر قابو نہ پانا ہے۔ آج کے معاشرے میں غصہ کرنے والے چینخ و پکار کرنے والے کو ہی اصل مرد سمجھا جاتا ہے جبکہ ایسا مرد اصل میں مردانہ کمزوری کا شکار ہے۔ اس میں برداشت کا مادہ نہیں پایا جاتا اور اپنے غصے کی آگ میں وہ خود کو تو جلاتا ہی ہے ساتھ ہی اپنے خاندان اور معاشرے میں بھی تباہی پھیلاتا ہے۔ مرد اپنی اس کمزوری کو کم ہی تسلیم کرتے ہیں۔

مرد کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ عورت کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ اس کی آنکھیں عورت کو گوشت کے ٹکڑے کی سی حثیت سے دیکھتی ہیں جیسے کسی قصاب کی دکان کے باہر بھوکے کتے گوشت کو حسرت بھری اور کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ مرد اپنے گھرانے مین مجود عورت (ماں، بیوی، بہن، بیٹی) کی عزت بھی نہیں کرتا۔ غیرت کے نام پہ قتل کر رہا ہے تو کہیں تشدد کر رہا ہے۔ کہیں عورت کو قیدی بنا رہا ہے تو کہیں عورت کو جلا رہا ہے۔ اس پہ تیزاب پھینکا جا رہا ہے۔ اس کو جسمانی اور ذہنی ہر لحاظ سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ چند پیسوں کے عوض اور اپنی عیاشیوں کے لیے کہیں عورت کو بیچا جارہا ہے تو کہیں اسے خریدا جا رہا ہے۔ عورت کو گالی دے کر خود کو طاقت ور سمجھنا انسانیت نہیں ہے بلکہ یہ کام تو ایسے وحشی کرتے ہیں جو مردانہ کمزوری جیسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔

آج کل کے مردوں کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ محبت تو کرنا چاہتا ہے لیکن نکاح نہیں۔ وہ اپنی ہوس پوری کرنا چاہتا ہے اپنا گھر بسانا نہیں چاہتا کیونکہ وہ ذمہ داریوں سے بھاگتا ہے اور یہ بھی مردانہ کمزوری ہے۔ کچھ تو ایسے ہوتے ہے کہ انھیں لڑکی ہر لحاظ سے پرفیکٹ چاہیے جو خوبصورت ہو پڑھی لکھی ہو اور ساتھ کماتی بھی ہو اور اگر یہی عورت کل کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے تو اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے کبھی بد کرداری اور بد چلنی کا الزام لگا کر یا کہیں غیرت کے نام پہ قتل کر کے۔

سگریٹ، جوا، مار کٹائی، چوری، زنا، دھوکہ بازی، لڑائی جھگڑا اور اس جیسی بہت سی حرکات کرنا مردانہ کمزوری کی علامتیں ہیں۔ یہ تمام کمزوریاں دراصل مرد کے اندر کی ہے، اس کے اخلاق کی ہے۔ مرد شاید اپنی ان کمزوریوں سے واقف ہی نہیں اور اگر واقف ہے بھی تو وہ انھیں اپنی کمزوریاں نہیں مانتا۔ یہ اخلاق کی کمی کے باعث پیدا ہونے والی بیماری ہے۔ اگر مرد اپنی ان کمزوریوں پہ پردہ نہ ڈالے اور انھیں قبول کر کے خود کو ٹھیک کر لے اور ان کمزوریوں کا خاتمہ کر دے تو وہ ایک اچھا انسان بن سکتا ہے اور اپنے معاشرے میں ایک اچھا نام پیدا کر سکتا ہے، جس سے معاشرے میں مثبت سوچ جنم لے گی جو کہ آج کے دور میں بہت ضروری ہے۔

ایسا کرنے سے ایک اضافی فائدہ یہ ہو گا کہ ہمارے شہروں کی دیواریں نام نہاد مردانہ کمزوری کے فریب کاری پر مبنی اشتہارات سے پاک ہو سکیں گی۔ ان اشتہارات سے کراہت نہ کھانا بذات خود ایک طرح کی اخلاقی اور ذہنی کمزوری ہے جو مردانہ کمزوری سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے۔