آدھا سچ اور یونیورسٹی اساتذہ کے انتخابات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا ظفر علی خاں نے کہا تھا ؎
نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
فقیہ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا
لیکن جناب گوہر ایوب خان نے یہ سچی بات ایک ٹی وی انٹرویو میں بقائمیٔ ہوش و حواس کہی کہ اگر 1965ء کا صدارتی انتخاب بالغ رائے دہی (Audult frenchise) کی بنیاد پر ہوتا تو ان کے والد محترم فیلڈ مارشل ایوب خان کی بجائے، قائد اعظم کی ہمشیرہ، مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ جیت جاتیں۔ مگر یہ آدھا سچ تھا، پورا سچ یہ ہے کہ 80 ہزار بلدیاتی ارکان کے ووٹوں سے ہونے والا یہ انتخاب بھی اگر آزادانہ و منصفانہ ہوتا تو مادرِ ملت اس میں بھی جیت جاتیں۔
بانیٔ پاکستان نے لیاقت علی خاں کی وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ نوزائیدہ مملکت کی جس اوّلین کابینہ سے حلف لیا، وہ پارلیمانی نظام کی کابینہ تھی۔
گورنر جنرل کے طور پر اختیارات انگریز کے اس قانون کے مطابق تھے، جس کے تحت 14 اگست کو انتقالِ اقتدار ہوا تھا۔ نئے آئین میں صدر پاکستان کے اختیارات کا فیصلہ آئین ساز اسمبلی کو کرنا تھا اور ظاہر ہے یہ اختیارات وہی ہوتے جو معروف وفاقی پارلیمانی نظام میں وفاق کی علامت کے طور پر صدر کو حاصل ہوتے ہیں‘ جس میں منتخب پارلیمان بالا دست ہوتی ہے اور وزیر اعظم چیف ایگزیکٹو کے طور پر با اختیار۔
پارلیمانی نظام کے تقاضوں کے تحت ہی قائد اعظم مسلم لیگ کی صدارت سے مستعفی ہو گئے۔ قیام پاکستان کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کا آخری اجلاس گورنر جنرل ہائوس کی بجائے کراچی کے خالق دینا ہال میں ہوا تھا، جس میں آل انڈیا مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہوئی۔
انڈین مسلم لیگ کے سربراہ نواب محمد اسماعیل خان بنے اور پاکستان مسلم لیگ کی کنوینرشپ چودھری خلیق الزماں کے سپرد ہوئی۔ وفاقی کابینہ کے کسی اجلاس کی صدارت بھی قائد اعظم نے خود کابینہ کی خواہش (بلکہ اصرار) پر کی۔ بانیٔ پاکستان کے رفقا بھی پارلیمانی نظام ہی میں یقین رکھتے تھے؛ چنانچہ 1954ء کا آئینی مسودہ اور اس کے بعد 1956ء کا آئین بھی پارلیمانی ہی تھا (جسے مشرقی پاکستان کے منتخب نمائندوں کی توثیق بھی حاصل تھی۔
مشرقی پاکستان کے مقبول ترین لیڈر حسین شہید سہروردی اسی آئین کا حلف اٹھا کر وزیر اعظم بنے (سہروردی اِدھر مغربی پاکستان میں بھی کم مقبول نہیں تھے) اس آئین کے تحت فروری 1959ء میں ملک کے پہلے عام انتخابات ہونا تھے کہ اکتوبر 1958ء میں یہ آئین جنرل سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کی ہوس اقتدار کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایوب خاں نے چار سالہ مارشل لا کے بعد، ملک کو جو خود ساختہ آئین دیا، وہ صدارتی تھا، جس میں صدر اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کا انتخاب بالغ رائے دہی کی بجائے بنیادی جمہوریتوں کے ارکان کے ذریعے ہوتا۔
تب بھی پاکستان کے عام آدمی پر یہی ”الزام‘‘ تھا کہ وہ جاہل ہے، بے شعور ہے، بریانی کی پلیٹ پر بِک جاتا ہے۔ ابھی اسے اتنا سا حق دیا جا سکتا ہے کہ اپنے علاقے (وارڈ) سے اپنے بی ڈی ممبر کا انتخاب کرے اور یہ بی ڈی ممبر، (ملک کے دونوں حصوں میں جن کی تعداد چالیس، چالیس ہزار تھی) صدارتی نظام کے آل پاور فل صدر اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کا انتخاب کریں۔
کروڑوں ووٹروں کی بجائے 80 ہزار ارکان کو خوف اور لالچ کے مختلف حربوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعے ”راہِ راست‘‘ پر لانا آسان تھا؛ چنانچہ مادرِِ ملت کو ہرا دیا گیا، حالانکہ مشرقی اور مغربی پاکستان، دونوں جگہ ان کے جلسوں، جلوسوں نے طوفان اٹھا دیا تھا‘ اور ڈکٹیٹر کی شکست، دیوار پر موٹے موٹے الفاظ کے ساتھ، اندھوں کو بھی نظر آ رہی تھی۔
3 جنوری کو ایک اخبار کی ہیڈ لائن میں اندر کی ساری حقیقت سمٹ آئی تھی، ”الیکشن کمیشن نے ایوب خان کی کامیابی کا اعلان کر دیا‘‘۔ جس میں ایوب خان کے 49,951 اور مادرِ ملت کے 28,691 ووٹ بتائے گئے تھے۔ بد ترین دھونس، دھاندلی کے باوجود مادرِ ملت کو ڈھاکہ، کراچی، حیدر آباد اور سکھر میں شکست نہ دی جا سکی۔
گوہر ایوب خاں کی زیر قیادت جشنِ فتح کا جلوس، کراچی کے لیاقت آباد میں کتنے ہی افراد کو لہو میں نہلا گیا، کراچی میں پختون اور غیر پختون کی تقسیم مزید گہری ہو گئی تھی۔
انتخاب کی بات چھڑی ہے تو لاہور میں گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک اور انتخاب کی بات بھی ہو جائے۔ ملک کی عظیم اور قدیم مادر علمی میں ہونے والے انتخاب کی کہانی۔ یونیورسٹیوں (اور کالجوں) میں سٹوڈنٹس یونینز کے انتخابات تو خواب، خیال ہو گئے۔ یہ انتخابات نئی نسل کی سیاسی و جمہوری تربیت کا ذریعہ ہوتے تھے۔
منتخب سٹوڈنٹس یونینز اپنے سال بھر کے Tenure میں ایسی سرگرمیاں ترتیب دیتیں، جو نئی نسل کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ بنتیں۔ سٹوڈنٹس یونینز قومی تحریکوں میں بھی پیش پیش ہوتیں۔ الیکشن میں طلبہ تنظیمیں اپنے بہترین امیدواروں کو میدان میں لاتیں، جو شاندار تعلیمی کیریئر کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی بہترین ریکارڈ کے حامل ہوتے۔
ہر سال نئی لیڈرشپ، ہوا کا تازہ جھونکا ہوتی۔ ان میں سے بعض قومی سیاست میں بھی نمایاں ہو جاتے اور یوں متوسط اور نچلے متوسط طبقے کی قیادت کو سامنے آنے کا موقع ملتا۔ چالیس چالیس سالہ ”سٹوڈنٹ لیڈر‘‘ اور ان کی وارداتیں، سٹوڈنٹس یونینز پر پابندیوں کا نتیجہ تھیں۔
غالباً 1984ء تھا، جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں سٹوڈنٹس یونینز کے انتخابات ممنوع قرار پائے (بے نظیر صاحبہ کے پہلے دور میں صرف ایک سال یہ پابندی ختم ہوئی) لیکن معاشرے کے بعض طبقات ایسے ہیں سول اور فوجی آمریتوں کے ادوار میں بھی جن کی پروفیشنل تنظیمیں اپنے منتخب نمائندوں کی قیادت میں برسرِ کار رہیں۔ بار ایسوسی ایشننز، پریس کلب اور اساتذہ کی تنظیمیں۔
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
اس ہفتے پنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات ہوئے۔ یونیورسٹی میں اس وقت تقریباً 47 ہزار طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں، جن کے لیے مستقل اساتذہ (خواتین و حضرات) کی تعداد 920 کے لگ بھگ ہے (گوجرانوالہ کیمپس میں اڑھائی ہزار طلبہ اور 35 اساتذہ، جہلم کیمپس میں 600 طلبہ اور 6 اساتذہ) 920 اساتذہ میں سے 726 نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا (باقی حضرات و خواتین بیرون ملک سکالرشپ، سمیت بعض ناگزیر مصروفیات کے باعث چھٹی پر ہیں)۔
کہنے کو یہ معمول کی سالانہ ایکسرسائز تھی، لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ کئی برسوں کے بعد، یہ پہلا موقع تھا جب ان انتخابات میں یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامیہ کی کوئی مداخلت، اور کوئی پسند، ناپسند نہ تھی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر ان کے رفقا مکمل طور پر غیر جانبدار تھے۔
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اصل مقابلہ دو گرپوں کے درمیان تھا۔دونوں گرپوں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی‘ لیکن شائستگی کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیا اور ڈاکٹر ممتاز انور چودھری کی زیر قیادت ٹیچرز الائنس کا پورا پینل (ایک ایگزیکٹو ممبر کے سوا) واضح اکثریت سے جیت گیا۔ ڈاکٹر ممتاز انور کو 460 ووٹوں کے ساتھ اپنے حریف پر 213 کی برتری حاصل تھی۔
ممتاز انور برطانیہ سے اکنامکس میں ماسٹرز کے بعد، جرمنی سے ڈاکٹریٹ اور امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کے بعد کینیڈا کی ایک اہم یونیورسٹی میں استاد ہو گئے۔ وطن واپس آ کر گزشتہ پنجاب حکومت کے اقتصادی پالیسی ساز ادارے پنجاب اکنامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔
اب یونیورسٹی میں اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں، وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد کی خواہش پر انہوں نے معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر اکمل حسین کی معاونت سے حکومت پاکستان کے لیے اکنامک روڈمیپ بھی تیار کیا ہے۔ ڈاکٹر ممتاز انور خوش قسمت ہیں کہ انہیں پروفیسر جاوید سمیع (سیکرٹری) اور ڈاکٹر امان اللہ ملک (جوائنٹ سیکرٹری) جیسے رفقا کی معاونت حاصل ہے۔
سپیس سائنس کے ایکسپرٹ کے طور پر جاوید سمیع بیرون ملک بھی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ یونیورسٹی لا کالج کے امان اللہ ملک، لندن سے جیوڈیشل ایکٹوازم میں ڈاکٹریٹ کے بعد، دہلی کی سارک یونیورسٹی میں پروفیسر کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔
ایک برہمن نے عشاق کے لیے سال اچھا ہونے کی نوید دی تھی، یونیورسٹی کے معاملات پر نظر رکھنے والوں کو امید ہے کہ وی سی ڈاکٹر نیاز احمد اور ممتاز انور کی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کا مشترکہ وژن اور اس کے لیے سنجیدہ مساعی، جنوبی ایشیا کی قدیم یونیورسٹی کا گم گشتہ وقار اور مقام واپس لانے کا باعث بن سکتی ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •