سِکسٹی سیکنڈز فلم فیسٹیول: ’اب فلمیں نہ بنانے کا کوئی جواز نہیں ہونا چاہیے‘

ثمرہ فاطمہ - بی بی سی اردو، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹیکنالوجی میں اضافہ اور سوشل پلیٹ فارمز کی وجہ سے فلمیں بنانے کے خواہشمند افراد کے لیے نئے مواقع سامنے آئے ہیں۔

اور ان ہی مواقعوں کو نوجوانوں تک پہنچانے کے لیے پاکستان کا ’سِکسٹی سیکنڈ فلم فیسٹیول‘ گزشتہ آٹھ برسوں سے جاری ہے۔

پاکستان میں سنہ 2012 میں شروع ہونے والے سِکسٹی سیکنڈ فلم فیسٹیول میں اس بار آٹھ سو سے زیادہ فلمیں شامل ہوئیں۔ ان میں سے ساٹھ فلموں کی سکریننگ اس بار لندن میں بھی ہوئی۔ اس فیسٹیول میں ہر برس دنیا بھر سے فلم ساز ساٹھ سیکنڈ لمبی فلمیں بھیجتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

‘عید پر فلموں کو دو ہفتے مل جاتے تو پیسے پورے ہو جاتے’

پاکستانی اداکاروں والی فلمیں نہ دکھانے کا فیصلہ

پروجیکٹ کے بانی اور خود ایک دستاویزی فلم ساز ابرار الحسن نے بی بی سی کو بتایا ‘میں جب اپنی ڈاکیومینٹری فلمیں بنانے پاکستان کے دیہی علاقوں میں جاتا تھا تو محسوس کرتا تھا کہ بہت سی ایسی کہانیاں ہیں جنہیں کہنے کی ضرورت ہے۔ ان کہانیوں کو باہر لانے کے لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں وہاں کے نوجوانوں کو موبائل فون پر فلمیں شوٹ کرنا اور فلمیں بنانا سکھاؤں۔ لیکن بعد میں جب انہوں نے فلمیں بنا لیں تو میں نے محسوس کیا کہ ان فلموں کو دکھانے کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے۔ اور اس طرح سکسٹی سیکنڈ فلم فیسٹیول کا آغاز ہوا۔’

اپنے اس سفر کے دوران ابرار تربت، خاران، مہحمند ایجنسی جیسے علاقوں میں نوجوانوں کو فلم بنانے کی تربیت دیتے رہے ہیں۔

اس فیسٹیول میں ساٹھ سیکنڈز یعنی ایک منٹ لمبی فلمیں شامل کی جاتی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اس فیسٹیول میں اپنی فلمیں بھیجنے کے لیے آپ کا کوئی نامور فلمساز ہونا ضروری نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کلچر کلیش ، مردانگی اور پاکستانی سنیما کی نئی ہِٹ

فلم فیئر ایوارڈز کے لیے چار پاکستانی فنکار نامزد

لندن میں ہونے والی سکریننگ میں ساٹھ سیکنڈ کی ساٹھ فلمیں دکھائی گئیں جن میں پاکستان، انڈیا، برطانیہ، امریکہ، جرمنی، ترکی، نیپال اور ایران سمیت ستر ممالک سے آنے والی فلمیں شامل تھیں۔

چھوٹے آغاز سے بلند پرواز

فیسٹیول میں موجود پاکستانی سکرپٹ رائٹر حیدر جناح نے کہا کہ اگر کسی شخص میں فلمیں بنانے یا کہانی کہنے کی ذرا بھی خواہش ہے تو اب اس کے پاس فلمیں نہ بنانے کا کوئی جواز موجود نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’ایک منٹ میں کہانی کہنے کے لیے نہ تو آپ کو بہت بڑی ٹیم کی ضرورت ہے اور نہ زیادہ فنڈنگ کی۔ ایک منٹ کی فلم بنانے کے لیے آپ خود ہی مصنف بن سکتے ہیں، پروڈیوسر اور اداکار بھی بن سکتے ہیں۔ آپ کے پاس تجربہ کرنے کا زیادہ موقع ہوتا ہے۔ اگر فلم بنانے کے بعد آپ کو اچھی نہیں لگی تو آپ اس کی جگہ نئی فلم بنا سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اچھی فلم بنانے میں ٹائم لگے لیکن ساتویں آٹھویں فلم تک آپ وہاں ضرور پہنچ سکتے ہیں جہاں آپ پہنچنا چاہتے ہیں‘۔

جناح نے بتایا کہ ‘سہیل جاوید، آمنہ خان، احسن رحیم جیسے فلم سازوں سے اس وقت کامیاب فیچر فلمیں بنانے کی توقع کی جاتی ہے۔ لیکن ان سبھی نے آغاز چھوٹے پلیٹ فارمز سے کیا تھا۔‘

پاکستانی ناظرین کو کیا پسند ہے؟

انہوں نے کہا ’پاکستان میں ابھی اس معیار کی فلمیں بنانے میں وقت لگ سکتا ہے جنہیں واقعی زبردست فلمیں کہا جائے، لیکن ایسا تو ہر جگہ ہی ہوتا ہے۔ امریکہ اور انڈیا میں بھی بننے والی ہر فلم اچھی نہیں ہوتی ہے۔’

حیدر جناح کے بقول اسے صرف ایک ساٹھ سیکنڈ کی فلموں والے فیسٹیول کی طرح دیکھنے کے بجائے ایک آغاز کی طرح دیکھنا چاہیے۔

کہانی کہنے کے انداز کے بارے میں بات کرتے ہوئے حیدر جناح نے کہا کہ ‘پاکستان بہت منفرد ہے۔ کہیں دنیا میں ڈرامے کی تیرہ قسطیں نہیں بنا کرتی تھیں۔ لیکن وہ ہم نے کیا، اور کامیابی کے ساتھ کیا۔’

حیدر جناح کا خیال ہے کہ ‘پاکستانی آڈیئنس کی پسند عمدہ اور پختہ ہے۔ جب جب کسی فلم ساز نے کوئی مسالہ فلم یا بالی وڈ کے سٹائل کے فارمولا سے فلم بنانے کی کوشش کی ہے، انہیں پاکستان میں پسند نہیں کیا گیا ہے۔ وہ فلمیں زیادہ کامیاب نہیں رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکسانی ایک پختہ آئیڈیا والی زبردست فلم دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں انڈین سٹائل میں بننے والی پاکستانی فلم دیکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔’

حیدر جناح نے کہا کہ ‘پاکستان کے موجودہ نوجوان سکرپٹ رائٹرز اور فلم سازوں کے پاس بہت عمدہ کہانیاں اور انہیں کہنے کا انداز ہے۔ لیکن انہیں پختہ ہونے میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔ اور میں بالکل جلد بازی میں نہیں ہوں۔ یہ ایک پودے کی طرح ہے جو خود آہستہ آہستہ بڑھے گا۔’

سوال کیے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا

ابرار الحسن کہتے ہیں کہ ان کا مقصد لوگوں کو فلمیں بنانا سکھانا نہیں بلکہ سوچنا سکھانا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ یہ سمجھیں کہ ان کے ارد گرد کے مسائل کیا ہیں اور ان کے بارے میں بات کرنا کتنا ضروری ہے۔

ابرار نے بتایا کہ گذشتہ سات برسوں میں ان کی ٹیم پاکستان بھر میں تقریباً آٹھ سو سے زیادہ ورکشاپ کروا چکی ہے اور ان کے اس پروجیکٹ کے ساتھ اب تک پانچ ہزار سے زیادہ طالب علم رجسٹر ہو چکے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ لوگ مسائل کے بارے میں بات کریں اور سوال کریں۔ کیوں کہ پاکستان جیسے ممالک میں سوال کرنا نہیں سکھایا جاتا ہے۔ مسائل سے نمٹنے کے لیے پہلے ان کے بارے میں بات کرنا اور سوال کرنا ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10758 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp