لکس ایوارڈز 2019: ایوارڈ وصول کرنا بہت آسان ہے مگر بائیکاٹ کرنا بہت مشکل‘

سعد سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سب سے بڑے ایوارڈز تصور کیے جانے والے لکس سٹائل ایوارڈز فنکاروں اور برانڈز کے بائیکاٹ کے بعد اس سال متنازعہ ہوگئے ہیں۔

مبصرین کی رائے میں یہ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر فنکاروں نے اس ایوارڈ شو میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سال کے لکس سٹائل ایوارڈز میں تنازعہ نے تب جنم لیا جب منتظمین نے دیگر ایوارڈ کیٹیگریز کے لیے فنکاروں کو نامزد کر کے ایک فہرست شائع کی۔ بغص فنکاروں کے بقول نامزد فنکاروں میں ایسے نام بھی سامنے آئے جن پر خواتین کو مبینہ طور پرجنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

دیگر فنکاروں میں ایمان سلیمان، ہدایت کار جامی، میوزک گروپ ’دی سکیچز‘ اور میک اپ آرٹسٹ فاطمہ ناثر سمیت کپڑوں کے برانڈ جینیریشن نے بھی ایوارڈ شو میں شرکت نہ کرنے اعلان کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لکس ایوارڈز: ایکٹر ان لا اور اڈاری سب سے آگے

مردانہ ہدایت نامہ برائے عورت مارچ

خواتین کا عالمی دن: مختلف شہروں میں عورت مارچ ختم

ماڈل ایمان سلیمان وہ پہلی فنکارہ تھیں جنھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی نامزدگی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں اس انڈسٹری میں ہوں اور مجھے پتہ ہے کیا ہوتا ہے اور لوگ کیا باتیں کرتے ہیں، مگر بہت مایوسی ہوئی جب ان لوگوں کو نامزد کیا گیا جن پر ہراسگی کے الزامات ہیں، جب میں نے دیکھا کہ کچھ نہیں ہورہا تو میں نے سوچا کہ سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کروں۔‘

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہدایت کار جامی نے ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ وہ اپنے ماضی میں حاصل کردہ ایوارڈز کو بھی سڑک پر رکھ رہے ہیں اور وہ خواتین کے ساتھ اس معاملے پر متحد ہیں۔

https://twitter.com/jamiazaad/status/1120916449697193985

بائیکاٹ کے فیصلے کے پیچھے سوچ کیا تھی؟

خدیجہ رحٰمن

BBC
خدیجہ رحٰمن کہتی ہیں کہ لوگ جینیریشن کو ایک ایسا برانڈ سمجھتے ہیں جو خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے

جینیریشن نامی برانڈ کی ڈائریکٹر خدیجہ رحٰمن نے اپنے برانڈ اور کمپنی سے متعلق بتایا کہ گذشتہ دو برسوں سے ان کی مارکیٹنگ اسی معاملے کے گرد گھومتی رہی کہ خواتین کو بااختیار بنانا چاہیے اور ایسی مہم بھی متعدد بار چلائی گئی جس میں خوددار خواتین کی تشہیر کی گئی۔

وہ کہتی ہیں ’لوگ ہمیں اب ایک ایسا برانڈ سمجھتے ہیں جو خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے اور اس لیے اگر ہم اس سے متعلق کوئی فیصلہ نہ کرتے تو لوگوں کو یہی لگتا کہ ماضی کی ساری مارکیٹنگ جھوٹ تھا۔‘

ان کا کہنا تھا ’یہ ایوارڈز تو دکھاوے کے لیے ہوتے ہیں مگر بہت سے فنکار جو پدرشاہی نظام یا دیگر اداروں کے خلاف بولتے ہیں انہیں بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے اور بس دیکھنے میں ایوارڈ مل رہا ہے مگر روز مرہ کی زندگی میں تو خواتین کو بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں ہیں۔‘

ماڈل ایمان سلیمان

BBC
ماڈل ایمان سلیمان کے مطابق اس اقدام کے ذریعے وہ پدر شاہی سوچ کے حامی افراد اور اداروں کا احتساب کرنا چاہتی ہیں

ماڈل ایمان سلیمان کے مطابق ’مجھے امید یہی تھی کہ اور لوگوں میں بھی یہ ہمت آئے گی اور وہ میری پیروی کریں گے اور آپ نے دیکھا کیسے لوگوں نے اس حوالے سے آواز اٹھائی بھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ قدم اس لیے اٹھایا کہ ہم ایسی (پدر شاہی) سوچ کے حامی افراد اور اداروں کا احتساب کرسکیں۔ یہ بہت دلیری والا اقدام تھا جو ہم نے اٹھایا کیونکہ ایوارڈ شو پر جانا اور ایوارڈ وصول کرنا بہت آسان ہے مگر یہ کرنا بہت مشکل‘۔

’تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو اسی پلیٹ فارم کو استعمال کریں‘

متعدد فنکاروں اور برانڈز کی جانب سے ایوارڈ شو بائیکاٹ کرنے کے فیصلے پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ سماجی امور پر تبصرہ کرنے والی مہوش اعجاز نے لکس سٹائل ایوارڈ شو سے متعلق بی بی سی کو بتایا کہ ’کوئی بھی ایوارڈ شو اگر تسلسل سے ہوتا رہے تبھی اس کی ساکھ بنتی ہے اور اس وقت پاکستان میں اسی ایوارڈ شو کی ساکھ ہے۔‘

ہالی ووڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تمام فنکاروں نے ایوارڈ شو کا بائیکاٹ نہیں کیا تھا بلکہ اظہارِ یکجہتی کے لیے سیاہ پٹیاں باندھی تھیں۔ ’ظاہر ہے میں لکس سٹائل ایوارڈ کا آسکرز سے موازنہ نہیں کر رہی، مگر مجھے پچھلے ایک سال میں یہ احساس ہوا ہے کہ بائیکاٹ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

’ایک ذہنی سکون تو شاید مل جائے اس سے، مگر اگر آپ درحقیقت تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو اسی پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے ایوارڈ شو میں اس حوالے سے آگاہی پھیلائیں۔‘

تاہم خدیجہ رحٰمن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں جب ہمارے جیسے برانڈز اور دیگر فنکاروں نے ایوارڈ شو میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس سے لوگوں کا حوصلہ بڑھا۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی بنی کہ اب ایوارڈ کیٹگری میں ایک حریف کم ہونے سے مدمقابل کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ ان کو ملنے والے ایوارڈ کی وہ اہمیت نہیں رہے گی اور اس بنیاد پر بھی لوگوں نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

’میں نے یہ پہلی مرتبہ دیکھا ہے کہ اتنے سارے جانے پہچانے فنکاروں نے پاکستان کے سب سے بڑے ایوارڈ شو کا بائیکاٹ کیا ہے اور میرے خیال میں اور بھی لوگ اس کی پیروی کریں گے۔‘

’اب بھی بے شمار لوگ لکس سائل ایوارڈز میں شرکت کریں گے‘

اداکارہ میرا ہاشمی لکس سٹائل ایوارڈز کی جیوری میں شامل تھیں اور جیوری کی ٹیم میں موجود واحد خاتون ممبر ہیں۔ انھوں نے فیصلہ سازی کے مرحلے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کیونکہ ان کے بقول وہ اس کو خفیہ رکھنے کی پابند ہیں۔

تاہم میرا ہاشمی نے بتایا کہ ہر ممبر نے ’اپنے پسند کردہ نامزد فنکاروں کی فہرست جمع کرانی تھی جس کے بعد ہی فیصلہ کیا جانا تھا۔‘ اپنی فہرست سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میری فہرست میں ایسا کوئی شخص شامل نہیں تھا جس پر جنسی ہراس کا الزام ہو۔‘

میرا ہاشمی نے کہا کہ ’بائیکاٹ کرنا ایک بہت مؤثر قدم ہے اور یہ یقیناً ان کا حق ہے کہ وہ جس مرضی انداز سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔‘

’میرے خیال میں ایمان سلیمان نے اپنی نامزدگی ہی قبول نہیں کی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس موضوع کے بارے میں کتنی حساس ہیں اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے، وہ غالباً ایمان اور ان جیسے کئی لوگوں کے احساسات کو مجروح کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر کسی کی اپنی مرضی ہے کہ وہ شرکت کریں یا نہ کریں۔

’ہم دیکھیں گے کہ اب بھی بے شمار لوگ لکس سٹائل ایوارڈز میں ضرور شرکت کریں گے۔ اس لیے جو چند لوگ نہیں کر رہے ان کو یہ قدم اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10834 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp