انڈین انتخابات: شمال سے جنوب تک سیاسی جماعتوں میں خواتین کا کلیدی کردار

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کولکتہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نصرت جہاں

BBC
نصرت جہاں ترنمول کانگریس کے حامیوں کے ہمراہ

انڈیا میں ہندو قوم پرست نظریات کے عروج کے ساتھ ملک کی سیاست ایک اور غیر معمولی تغیر سے گزر رہی ہے۔ ملک کی سیاست میں ہر سطح پر خواتین کی شرکت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

28 سالہ نصرت جہاں بنگال میں غالباً سب سے کم عمر امیدوار ہونے کے ساتھ ساتھ بنگالی فلموں کی ایک مقبول اداکارہ بھی ہیں۔ اُن کی رائے میں سیاست میں آنا ان کے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کیونکہ اب وہ لوگوں کی نمائندگی کر سکیں گی۔

نصرت کی طرح ایک اور کم عمر اداکارہ می می مکھرجی بھی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ وہ جادوپور حلقے میں حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کی امیدوار ہیں۔

می می کے مطابق سیاست میں عورت کا کردار بہت مثبت اور اہم ہے۔ ’ماں، بیٹی، بہن، بیوی، انسان، عورت ہر حیثیت میں ایک ساتھ کئی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کا تجربہ وسیع ہوتا ہے۔ وہ زندگی کی حقیقتوں کو بہت بہتر طریقے سے سمجھتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا انتخابات: کیا مودی کو پریشان ہونا چاہیے؟

انڈیا: انتخابات کا دوسرا مرحلہ تصاویر میں

انڈین الیکشن: واٹس ایپ ’جعلی خبروں کا بلیک ہول’

می می مکھرجی

BBC
می می مکھرجی

ترنمول کانگریس نے پارلیمانی انتخابات میں بنگال میں 41 فیصد ٹکٹ خاتون امیدواروں کو دیے ہیں۔ اس کے علاوہ بائیں محاذ، کانگریس اور بی جے پی نے بھی متعدد خاتون امیدواروں کو انتخاب میں کھڑا کیا ہے۔

ہوگلی سے بی جے پی کی امیدوار لاکٹ چٹرجی کہتی ہیں ‘عورت درگا ماں ( طاقت کی دیوی ) کی علامت ہے۔ خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت سے ملک کی سیاست پر بہت مثبت اثر پڑے گا۔’

ملک کی پارلیمان، اسمبلیوں اور تمام منتخب اداروں میں خواتین کو 33 فیصد کوٹہ دینے کا ایک بل پارلیمان میں زیر التوا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو وہ اسے قانون کی شکل دے گی۔

ملک کی بیشتر ریاستوں میں قائم پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں میں خواتین کو ریزرویشن دیے جانے سے مقامی سیاست میں لاکھوں خواتین جوش و خروش سے حصہ لے رہی ہیں۔

نندنی مکھرجی

BBC

تجزیہ کار اروندھتی مکھرجی کہتی ہیں کہ ‘پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھنے سے انڈین جمہوریت مضبوط ہوگی۔ وہ خواتین کے مسائل، تعلیم، صحت اور بچوں سے متعلق معاملات کو زیادہ موثر طریقے سے اٹھا سکیں گی۔’

سرکردہ تجزیہ نگار پروفیسر مرۃ النہار کا خیال ہے کہ ‘اگر خواتین کی شرکت صرف علامتی ہے اور انھیں حقیقی کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تو اس شرکت سے بہت زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔البتہ اگر انھیں کام کرنے کا موقع ملا تو اس سے ملک کی سیاست پر انتہائی دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔‘

ملک پارلیمانی انتخابات کے وسط میں ہے اور شمال سے جنوب تک سبھی سیاسی جماعتوں میں خواتین کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

معروف ماہر سیاسیات درّاب سپاری والا نے اپنی حالیہ کتاب ’دا ورڈکٹ‘ میں لکھا ہے ‘انڈیا کی جمہوریت خواتین کے ایک خاموش انقلاب سے گزر رہی ہے۔‘

انڈیا کی انتخابی سیاست میں شاید یہ پہلا موقع ہو جب ووٹ دینے والوں میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10817 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp