لال کبوتر کی اداکارہ منشا پاشا کی ’مخصوص صنفی کرداروں‘ کی مخالفت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی ماڈل اور اداکارہ منشا پاشا کا کہنا ہے کہ وہ فلموں اور ڈراموں میں عورتوں اور مردوں کو ایک خاص پیرائے میں دکھائے جانے کے خلاف ہیں اور عورت ہو یا مرد انسان کو اپنے لیے ہر چیز خود ہی کرنی ہوتی ہے۔

فلم لال کبوتر میں اہم کردار ادا کرنے والی منشا پاشا اپنی فلم کی ریلیز کے بعد آنے والے ردعمل پر بہت خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے اس فلم کو اپنی زندگی کا تقریباً ڈیڑھ سال دیا ہے تو مجھے سب سے زیادہ اس بات کی خوشی ہے کہ نہ صرف میرے یا احمد کے بارے میں بات ہوئی ہے لیکن راشد صاحب کے بارے میں بات ہوئی ہے، سلیم معراج کے بارے میں بات ہوئی ہے، موسیقی کے بارے میں بات ہوئی۔‘

’ان سب چیزوں پر دھیان دیا گیا جو کہ بہت ضروری ہوتا ہے ایک انڈسٹری کو آگے بڑھانے کے لیے کہ آپ صرف ایک قسم کا کام نہ دیکھتے رہیں بلکہ آپ الگ الگ قسم کی چیزیں دیکھیں۔ یہ فلم ایک الگ فلم ہے، اس میں کوئی اس قسم کا ناچ گانا نہیں ہے۔ اس میں مواد پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

فلم ‘چلے تھے ساتھ’ ایک ڈاکیوڈراما

’لال کبوتر‘ چھوٹے بجٹ کی معیاری فلم

’زندگی صرف ساس بہو کے مسائل کے گرد نہیں گھومتی‘

منشا کہتی ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں کہ انھیں ناچ گانا پسند نہیں۔

’مجھے ناچ گانا تو بہت پسند ہیں۔ مجھے خود ناچنا بھی بہت پسند ہے، لیکن مجھے ڈراؤنی فلمیں بھی پسند ہیں۔‘

کیا پاکستانی یا انڈین فلموں میں ہیروئین کو رقص آنا چاہیے؟

اس بارے میں منشا کا کہنا تھا ’مجھے لگتا ہے کہ ایک اداکار کو ہر چیز آنی چاہیے۔ اگر آپ کے کردار کی ضرورت ہے کہ وہ کوئی آلۂ موسیقی بجائے تو آپ کو سیکھنا پڑتا ہے۔ یہ سب چیزیں اداکار کسی کردار میں ڈھلنے کے لیے سیکھتے ہیں، ان پر کام کرتے ہیں۔ بطور اداکار آپ کو سیکھنے سے مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تو آپ ہر قسم کی فلم کریں۔۔۔‘

بی بی سی کی فیفی ہارون نے ان کے نام سے متعلق ایک ٹی وی شو پر کیے جانے والے مذاق کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ سب کہتے ہیں ایک لڑکی ہے اور منشا نام ہے؟ آپ نے کبھی اپنے والدین سے پوچھا کہ میرا نام منشا کیوں رکھا؟

اس پر منشا نے بتایا: ’میں تین بہنوں میں سب سے چھوٹی ہوں۔ میری پیدائش کے وقت میرے والدین توقع کر رہے تھے کہ لڑکا ہو گا اور جب میں پیدا ہوئی تو لڑکی نکلی اور منشا کا مطلب ہے (اللہ کی) ‘مرضی’ تو میری دادی نے نام رکھا منشا کہ یہ خدا کی مرضی ہے۔‘

’ہم چار بہنیں تھیں اور گھر میں کوئی لڑکا نہیں تھا تو ہمیں یہی سکھایا گیا کہ انسان کو اپنے لیے ہر چیز خود ہی کرنی ہوتی ہے۔‘

تاہم منشا کہتی ہیں کہ وہ کرداروں کو ایک مخصوص انداز سے پیش کرنے کی مخالف ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’اگر مجھے لگتا ہے کہ مجھے جس کردار کی پیشکش کی گئی ہے وہ بہت ہی منفی اور دقیانوسی طرح سے عورت کو دکھا رہا ہے کہ جیسے وہ ماڈرن ہے تو بری ہے تو وہ میں نہیں کرتی۔‘

منشا فلم لال کبوتر صرف ایک تھرلر نہیں ہے، سیاسی مسئلوں پر تفسیر بھی ہے۔ پاکستان میں اس قسم کی فلم کرنے کا مطلب ایک بیانیہ دینا ہے کہ میں اس قسم کی فنکار ہوں۔ کیا ایسا ہے؟

منشا پاشا کا جواب تھا ’لال کبوتر‘ ہدایت کار کا نظریہ ہے، وہ ان کی سیاسی، سماجی تفہیم ہے جو وہ بیان کرنا چاہ رہے ہیں نہ کہ اداکاروں کی کیونکہ باقی اداکار اپنے اپنے حصے پر توجہ دے رہے ہیں جیسے کہ میں اپنے کردار پر توجہ دے رہی ہوں۔

’فلم میں میرا جو کردار ہے اس کے بہت زیادہ ڈائیلاگز نہیں تھے، کافی طرح سے بہت اکیلی عورت تھی۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9141 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp