میٹھی شتابی

کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہوا، سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ عورتوں کی تقریب تھی۔ میٹھی شتابی۔ بہت سی عورتیں تھیں بھی نہیں۔ صرف قریبی رشتہ داروں کو بلایا گیا تھا۔ تقریب ابھی جاری تھی کہ یکایک شور اٹھا اور کسی لڑکی کی زور سے بین کرنے کی آواز آئی، ”مرگئی مرگئی جل گئی جل گئی۔ مرگئی مرگئی جل گئی جل گئی۔ مار دیا، میں نے اسے، مار دیا میں نے اسے، مولا مار دیا، اب کیا ہوگا؟ سیدنا اب کیا ہو گا؟ “ پھر وہ بے ہوش ہوگئی تھی۔

قریب سے ہی پانچ منٹ میں ڈاکٹر آگیا۔ اس نے آ کر اچھے طریقے سے دیکھا۔ وہ بے ہوش تھی مگر زندہ تھی۔ نارمل نبض، نارمل بلڈ پریشر مگر شکل سے لگ رہا تھا جیسے تھک گئی ہو کسی لمبے سفر سے لوٹ کر سوئی ہو کہ آسانی سے جاگے گی بھی نہیں۔ ڈاکٹر نے ایک انجکشن بھی لگایا، دوبارہ بلڈ پریشر دیکھا، نبض محسوس کی، دل کی دھڑکنوں کو اپنے آلے سے سمجھا۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔

کسی نے کہا بھی کہ آغا خان ہسپتال لے جائیں مگر ڈاکٹر نے کہا کہ ضرورت نہیں ہے تھوڑی دیر میں جاگ جائے گی۔ گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ اسے دوسرے کمرے میں لٹانے کے لیے اٹھا ہی رہے تھے کہ اس نے آنکھیں کھول دیں۔ مجھے کیا ہو گیا؟ اس نے پوچھا پھر اس پر خاموشی کا طویل دورہ پڑگیا تھا۔ پوری تقریب میں تھکی تھکی پھٹی پھٹی آنکھوں سے سب کو تکتی رہی پھر اپنی ساس کے ساتھ گھر واپس آگئی تھی۔

ایک ہفتے بعد زرینہ کانچ والا کو میرے پاس لایا گیا۔ اس کے ساتھ اس کا پریشان سا شوہر سلیم کانچ والا اور اس کی ساس بھی تھی۔ وہ لوگ خاموشی سے میرے کمرے میں آکر میرے سامنے بیٹھ گئے تھے۔

میں نے مسکراکر انہیں خوش آمدید کہا۔ میری توجہ ملتے ہی زرینہ کی ساس بول پڑی تھی، ”ڈاکٹر میری بہو کو ناجانے کیا ہوگیا ہے؟ “ اس کی ساس کی آنکھوں میں فکر اور پریشانی اس کے لہجئے میں عیاں تھی۔ ”نا بولتی ہے، نا پیتی ہے، نا کھاتی ہے، نا مانگتی ہے۔ بس خاموش بیٹھی نہ جانے کیا سوچتی رہتی ہے۔ کچھ کرو ڈاکٹر صاحب کتنی بھی مہنگی دوا ہوگی ہم لوگ خریدیں گے۔ پیسے کی فکر نہ کرنا۔ مجھ سے تو دیکھی نہیں جاتی ہے حالت اپنی بچی کی۔

میرا بیٹا بھی پریشان ہے، سارا گھر پریشان ہے۔ پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے اسے۔ دو بچے ہیں اس کے چھوٹے چھوٹے۔ اسے کچھ ہوگیا تو ان کا کیا ہوگا، ڈاکٹر وہ تو بڑے معصوم ہیں بڑے بھولے ہیں۔ یہ عجیب بیماری ہے کہ ماں کو بچوں کی محبت بھی نہیں جگاتی ہے۔ بچے بے چارے بھی کھوتے جارہے ہیں نہ جانے کس کا جادو چل گیا ہے ہمارے گھر پہ۔ “

میں نے زرینہ پر بھرپور نظر ڈالی۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے دوپٹے کو بار بار اپنی انگلیوں پر لپیٹ رہی تھی اور میرے پیچھے کھڑکیوں کی دوسری جانب دور آسمانوں میں نہ جانے کیا تلاش کر رہی تھی۔

اس کا شوہر سلیم شکل سے ہی پریشان لگ رہا تھا اس نے زرینہ کے ہاتھ کو چھو کر کہا، ”زرینہ! یہ ڈاکٹر صاحب ہیں۔ بہت اچھے ہیں۔ بات کرو ان سے۔ بتاؤ کیا تکلیف ہے تم کو۔ یہاں کے سب سے بڑے ڈاکٹر ہیں۔ زرینہ! بڑے ڈاکٹر ہیں، تمہارا علاج کریں گے۔ بات کرو ان سے، بولو کیا مسئلہ ہے؟ “

اس نے کوئی تکلیف نہیں بتائی مجھے۔ دبلی پتلی اسمارٹ سی لڑکی تھی وہ۔ خوبصورت چہرے پر گہری آنکھیں جن میں دور دور تک کچھ بھی نہیں دکھائی دیا مجھے۔ جیسے ہی میں نے اس کے چہرے پر نظر ڈالی دونوں آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی گالوں پر ابل گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ سلیم بڑی مشکل سے اپنے آنسوؤں کو چھپا رہا ہے۔ میں نے ٹشو بکس میں سے ٹشو پیپر نکال کر اسے دیا اور وہ ٹیبل پر سر رکھ کر زور زور سے رونے لگی۔

میں نے فوراً ہی فیصلہ کرلیا کہ زرینہ کانچ والا کو مجھے ہسپتال میں داخلہ کرنا پڑے گا۔ اسے آرام اور طویل المیعاد علاج کی ضرورت ہے۔ مجھے اس سے اکیلے میں کچھ باتیں کرنی ہوں گی۔ شوہر سے پوچھنا ہوگا۔ اس کے ماں باپ سے بات کرنی ہوگی۔ اس پورے واقعے کہ تہ تک پہنچنے کے لیے پتہ کرنا ہوگا کہ ماضی میں کیا ہوا ہے، اس پہ پہلے کیا گزر چکی ہے؟ تب ہی فیصلہ کرسکوں گا کہ زرینہ کو ہوا کیا ہے؟ اس کا علاج کیا ہے؟

شہر سے تھوڑا باہر پرسکون علاقے کے ایک پرائیوٹ ہسپتال میں، میں نے اسے داخل کردیا اور تاکید کی کہ اس کے شوہر کے علاوہ کوئی بھی اس سے نہ ملے۔ اگر وہ چاہے کہ اسے اپنے بچوں سے ملنا ہے تو بچے ضرور آکر ملیں۔ زبردستی اس کے بچوں کو اس کے پاس نہ لایا جائے۔

سلیم کا خاندان بڑا کاروباری خاندان تھا۔ روپوں پیسوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ سلیم نے اپنے باپ کا کام سنبھالا اور خوب سنبھالا۔ سلیم کے دادا نے شہر میں پہلی کانچ کی فیکٹری لگائی تھی، تب سے اس خاندان کا نام کانچ والا ہوگیا تھا۔ سلیم نے پرانے کاروبار کو جدید رنگ میں ڈھال دیا۔ کام بھی بڑھا، کاروبار میں ترقی ہوئی پھر دولت کی ریل پیل تو ہونی ہی تھی۔ سلیم نے خاندان کی ہی مرضی سے زرینہ سے شادی کی تھی۔ سلیم کی طرح اس کی بیوی نے بھی کوئی خاص تعلیم حاصل نہیں کی کیونکہ اس زمانے کے بوہری لوگوں میں پڑھنے لکھنے کا کوئی خاص رواج نہیں تھا۔

لڑکے گھر کا کاروبار سنبھالتے تھے۔ کاروبار سنبھالنے کے دوران ہی کاروباری تعلیم ان کو اس قدر مل جاتی تھی کہ کاروبار سنبھالنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی تھی۔ ذہین کاروباری خاندان کے بچے بعض دفعہ بغیر آگے پڑھے لکھے بھی کاروبارکو ایسے ہی چلاتے جیسے آج کل کے ایم بی اے اور بی بی اے چلاتے ہیں۔ کانچ والا خاندان بھی ایسا ہی خاندان تھا اور لڑکیاں تھوڑی بہت تعلیم کے بعد شادی کی تیاریوں میں لگ جاتی تھیں۔ زندگی بہت آسان تھی۔

لڑکیوں کی زندگی تو ویسے بھی مردوں کی رہیں منت تھی۔ ایک دفعہ شادی ہوگئی تو پھر زندگی گزر ہی جائے گی۔ کمیونٹی کے اندر ہی رشتے لگتے، شادیاں ہوتیں۔ لڑکیوں کا بنیادی مقصد مردوں کے لیے ایک ایسا گھر چلانا تھا جہاں سے وہ سکون کے ساتھ کاروبار چلا سکیں۔ بہت کم لڑکے تھے جو کاروبار کے علاوہ کچھ پڑھنے کا سوچتے۔ جو کچھ پڑھتے تو دینی تعلیم حاصل کرتے۔ جامعہ بوہرہ یونیورسٹی سے ملا کی سند حاصل کرتے اور دینی کاموں میں لگ جاتے۔ آج کل تو کچھ بوہری لڑکے لڑکیوں نے پڑھ بھی لیا ہے اور باتیں بھی ایسی کرتے ہیں جو مروجہ بوہری روایات کے خلاف ہیں مگر ان کا بھی انتظام ہے، سسٹم کچھ ایسا ہے جو ان کو خاموشی سے الگ کر دیتا ہے۔ کوئی حیثیت نہیں رہتی ہے ان کی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

دوسرے دن میں نے سلیم سے طویل ملاقات کی۔ سلیم ایک اچھا شوہر تھا، اچھے کاروبار کا مالک، اچھا کاروباری آدمی، کاروبار کی مصروفیت کے باوجود وہ کافی وقت اپنے بیوی بچوں کو دیتا۔ اس نے بتایا کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ ابھی کچھ مہینوں پہلے زرینہ کی کسی دوست کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد شروع میں وہ کافی پریشان رہی، اکثر اس کے بارے میں باتیں بھی کرتی مگر اب تو بالکل ہی عجیب صورت حال ہوگئی ہے۔ اس دن وہ بڑے شوق سے میٹھی شتابی کی تقریب میں گئی تھی مگر نہ جانے وہاں کیسے یکایک اس پر دورہ پڑا اور اس کے بعد سے اس کی یہ حالت ہوگئی۔ اسے تو اپنے بچوں کا بھی خیال نہیں رہتا ہے۔ ”ڈاکٹر صاحب یہ صحیح تو ہوجائے گی نا؟ “ اس نے لرزتی ہوئی آواز میں مجھ سے پوچھا تھا۔

سلیم سے ملنے کے بعد ہسپتال کے پرائیوٹ کمرے میں زرینہ کو دیکھنے گیا۔ وہ اچھے صاف ستھرے سے پرائیوٹ کمرے میں خاموش لیٹی ہوئی دیواروں کے پار نجانے کس کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھی۔ رات اسے میں نے سونے کی دوائیں اچھی خاصی مقدار میں دی تھیں۔ نرس نے بتایا کہ وہ رات کافی گہری نیند سوئی ہے۔

”کیسی طبیعت ہے؟ “ میں نے مسکراکر پوچھا۔ وہ خاموشی سے مجھے دیکھتی رہی تھی جیسے تول رہی ہے، کچھ تلاش کررہی ہے، کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

”مجھے کیا ہوا ہے، کچھ بھی تو نہیں۔ “ پھر اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔

میں نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر کہا، ”سب ٹھیک ہوجائے گا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ “

اس نے آنکھیں بند کرلیں میں اسے نرس کی نگہداشت میں چھوڑ کر واپس آگیا۔ دوپہر کو اس کے ماں باپ کو بلایا تھا میں نے۔ یہ لوگ بھی کاروباری لوگ تھے جن کی پلاسٹک کے کھلونے بنانے کی فیکٹری تھی۔ زرینہ کے ماں باپ نے دونوں شکل سے ہی پریشان لگ رہے تھے۔ زرینہ ان کی تیسری اور سب سے زیادہ چہتی بیٹی تھی۔ اس کے اس طرح سے یکایک بیمار ہو جانے کی وجہ سے ان کا پورا خاندان پریشان ہو گیا تھا۔ زرینہ کے دونوں بچے انہی کے پاس تھے۔

انہوں نے بتایا، زرینہ بچپن سے ہی ذمہ دار قسم کی لڑکی تھی۔ کالج میں بارہویں کلاس میں تھی کہ رشتہ ہو گیا اور اچھے نمبروں سے پاس ہونے کے باوجود سسرال والوں نے آگے پڑھانے سے منع کردیا تھا مگر وہ شادی سے ناخوش نہیں تھی۔ خاص طور پہ دو بچے ہونے کے بعد تو وہ ان میں ہی لگی رہتی تھی۔ عام طور پہ خوش و خرم رہنے والی لڑکی تھی وہ۔ اپنے شوہر اور اپنے سسرال میں ہر ایک سے اس کے اچھے تعلقات تھے۔ سلیم سے وہ شادی سے پہلے بھی ملی تھی اور دونوں نے ہی ایک دوسرے کو پسند کیا تھا۔ سلیم ایک اچھا آدمی ایک اچھا شوہر تھا اور زرینہ ہمیشہ اس کی تعریف کرتی۔ وہ اپنے بچوں سے بھی بے انتہا پیار کرتی تھی ان کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کو ہروقت تیار رہتی تھی۔ وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ انہیں پڑھائے گی اور یہ بچے پڑھ لکھ کر کاروبار کریں گے اور بیٹی تو ڈاکٹر بنے گی۔

میں نے اس کی دوست کے بارے میں پوچھا جس کی چند ماہ قبل موت واقع ہوئی تھی تو اس کی ماں نے مجھے مزید تفصیلات بتائیں۔ زینب اس کی بچپن کی دوست تھی۔ دونوں اسکول میں ساتھ تھے پھر کالج میں بھی ساتھ ساتھ۔ زینب نے انٹر کے بعد خاندان اور برادری کی مرضی کے خلاف یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے بی ایس سی کرکے کسی اسکول میں ٹیچر ہوگئی تھی پھر اس کی بھی شادی ہو گئی مگر دو بچوں کے بعد اس کے گھر پہ حادثہ ہوگیا اور وہ جل کر مر گئی تھی۔

اس کے مرنے کے بعد سے زرینہ بہت پریشان رہتی تھی۔ مجھے اس نے زیادہ نہیں بتایا مگر وہ علاقے کے عامل سے ملی تھی اور پتہ نہیں کن کن لوگوں سے ملتی رہی تھی۔ اکثر ڈرائیور کے ساتھ ہمارے گھر بچوں کو چھوڑ کر چلی جاتی اور واپس آ کر پریشان پریشان سی رہتی۔ اس کی ماں نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے پوچھا بھی کہ آخر وہ کہاں جاتی ہے، کیا کر رہی ہے تو اس نے بتایا کہ وہ زینب کی ماں سے ملنے گئی تھی۔ یا زینب کی بہن سے ملنے گئی تھی مجھے لگتا تھا کہ اسے اپنی دوست کی موت سے بہت دکھ ہوا ہے مگر وہ اس کے باوجود ٹھیک تھی، ایسی نہیں تھی جیسی اب ہے، اس نے بڑے دکھ سے کہا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

دوسرے دن میں نے سول ہپستال کے پلاسٹک سرجری کے ڈیپارٹمنٹ میں فون کرکے زینب کے بارے میں معلومات جمع کی تھیں۔ کچھ ماہ قبل زینب اسّی فیصد جلی ہوئی ہسپتال میں آئی تھی، ہوش میں تھی مگر اس نے کچھ بتایا نہیں تھا۔ مرنے سے پہلے اس نے صرف اپنی بہن سے بات کی تھی۔ ڈاکٹروں نے بڑی کوشش کی مگر جیسا کہ اس طرح کے کیس میں ہوتا ہے جہاں جلا ہوا جسم ٹھیک ہونا شروع ہوتا ہے تو ساتھ ہی انفکشن بھی ہوجاتا ہے جو بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اتنا بڑھتا ہے کہ ہر طرح کے اینٹی بایوٹک بھی اس انفکیشن پر قابو نہں پا سکتے ہیں۔ اس بے قابو انفیکشن کی وجہ سے مریض سپٹک شاک میں چلا جاتا ہے اور عام طور پر بچتا نہیں ہے۔ یہی کچھ زینب کے ساتھ بھی ہوا تھا۔

میں نے پوچھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسے مارا گیا ہو۔ فون کے دوسری طرف برن وارڈ کے ڈاکٹر کی زہریلی ہنسی میں نے سنی ساتھ ہی سانپ کی پھنکار کی سی آواز میرے کانوں میں آئی تھی، ”ڈاکٹر صاحب! یہ جوان لڑکیاں گیس سے جلنے والیاں، اسٹوؤ کے پھٹ جانے سے جل کر مرنے والیاں، یہ سب کہانیاں ہیں۔ یہ ساری کی ساری جلائی جاتی ہیں اور ثبوت کسی کا بھی نہیں ہوتا ہے۔ اتنا تو آپ کو سمجھنا چاہیے، اتنا تو ہر ڈاکٹر سمجھتا ہے، آپ تو سائیکیٹرسٹ ہیں ڈاکٹر صاحب۔

“ مجھے اچھا تو نہیں لگا مگر میں نے برا بھی نہیں مانا۔ لوگ جب اس قسم کے حالات میں کام کرتے ہیں تو ان کا انداز ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ہی سب کچھ پتہ ہے باقی سب لوگ جاہل ہیں، مسائل سمجھتے نہیں۔ ہم جو کر رہے ہیں بس ہم ہی کر رہے ہیں باقی لوگ پتہ نہیں کیا کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ میں خاموش رہا۔ یہ معلومات ہی شاید میرے لئے کافی تھیں۔ میں بہرحال برن وارڈ کے ڈاکٹر کا شکرگزار تھا۔

میرے ذہن میں کچھ خاکہ سا بن گیا تھا مگر میری سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر زرینہ اپنی دوست کی موت کے اتنے دنوں بعد اس قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کیوں کررہی تھی۔ اتنا دیر سے ردعمل عام طور پہ ہوتا نہیں ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

میں نے زرینہ کے ماں باپ کے گھر فون کرکے زینب کے گھر والوں کا پتہ کیا۔ میں زینب کی بہن سے بات کرنا چاہتا تھا۔

گھر کا فون نمبر تو مل گیا مگر مسئلہ سلجھنے کے بجائے کچھ زیادہ ہی الجھ گیا۔ زینب کی بہن کینیڈا میں رہتی تھی۔ وہ بہن کے جلنے کی خبر سن کر آئی اور مرنے کے تھوڑے دنوں کے بعد واپس چلی گئی۔ لہذا اس سے بات کرنے اور ملنے کا کوئی سلسلہ نہیں ہوسکتا تھا۔ مگر مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ زینب کے باپ نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے فون کی دوسری جانب الجھے ہوئے ٹیڑھے میڑھے تاروں کھمبوں کے سہارے گزرنے والی میلوں لمبی لائنوں، درختوں چھجوں سے الجھتی ہوئی دیواروں کے سوراخوں سے گزرتی ہوئی میری آواز نے اس بوڑھے جسم پر لرزہ طاری کردیا ہو۔ بڑی مشکل سے پھنسی پھنسی ہوئی آواز میں کسی بوڑھے نے کہا تھا، ”اب تو وہ مرگئی ہے اب کیا ہوسکتا ہے بھائی، کیوں پریشان کرتے ہو اب؟ مجھے مر جانے دو جیسا بھی ہوں ویسا ہی مرجانے دو۔ “ ساتھ ہی فون بند ہوگیا۔

میں نے اپنے سیکریٹری کو لاکر کہا کہ ذرا کراچی پولیس سٹیزن لیاژن کمیٹی کے آفس میں جاکر پتہ تو کرے کہ مئی کی سترہ کو سول ہسپتال میں جل کر مرنے والی کسی زینب کی موت کا کوئی ایف آئی آر وغیرہ کٹا تھا کہ نہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کوئی معلومات مل سکیں تو اچھا ہوگا۔

اس نے جلد ہی پتہ کرکے بتادیا کہ کوئی ایف آئی آر نہیں کٹا تھا۔ ساتھ ہی اس نے ایک اور عقل مندی کی تھی کہ اپنے کسی دوست کے ذریعے سے سول لائنز ایریا کے تھانے دار سے بھی پتہ کرلیا کہ وہاں پر اس موت پر کوئی رپورٹنگ کیوں نہیں ہوئی؟ تھانے دار سے میں خود ملنے چلا گیا تھا۔

تھانے دار شریف آدمی تھا اس نے بتایا کہ زینب کی بہن تھانے آئی تھی اور جل کرنے والی کے بارے میں تفصیل سے لکھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا، مگر ایف آئی آر نہیں کٹ سکی تھی۔ اس بے چاری نے بہت کوشش کی تھی کہ اس کیس کو رجسٹر کیا جائے مگر کہیں رجسٹریشن نہیں ہوسکی۔ وجہ بہت سادہ تھی، اوپر سے سخت پریشر تھا کہ کچے کاغذ پر جو چاہو لکھ لو ایف آئی آر کاٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نجانے کن کن لوگوں نے کس کس طریقے سے فون کرکے یہ بات سمجھائی تھی۔

بھائی میں شریف آدمی ہوں، بہت بہادر نہیں ہوں۔ خود چوری نہیں کرتا مگر افسروں کی بات بھی نہیں ٹال سکتا۔ وہ ایف آئی آر اور بہت سارے دوسرے ایف آئی آر کی طرف صرف اوپر والے کے پاس ہی کٹا ہے۔ وہی یہ سارے ایف آئی آر کاٹتا ہے اور وہی قیامت کے دن ان ایف آئی آر کی بنیاد پہ مقدمہ بنائے گا۔ اس کے پاس اس قسم کی ایف آئی آر کا انبار لگا ہوا ہے۔ ان سب کے ساتھ وہی فیصلہ کرے گا کہ کسے کیا سزا ملے گی۔ اسے نہ گواہوں کی ضرورت ہے نہ عدالتوں کی۔ اسے نہ وکیل چاہیئیں نہ ہی میڈیکل رپورٹ، اسے نہ پولیس والے درکار ہیں نہ ہی تحقیقات کرنے والے خفیہ ادارے۔ وہ خود ہی فیصلہ کردے گا۔ اس کی آواز میں شدید احساس شکست تھا اور شاید امید بھی۔

مجھے یہ بات واضح ہوگئی کہ زینب کو جلا کر مار دیا گیا۔ گھر میں ہی کسی نے یہ کام کیا تھا۔ ایسا روز ہوتا ہے نجانے کتنی عورتوں کو روز زبان کی کاٹ سے روح کے اندر تک دکھ دیا جاتا ہے نجانے کتنوں کے جسم پر ضرب لگا کر ان کی کھال ادھیڑی جاتی ہے اور نجانے کتنی زینب جیسی لڑکیوں کو جلا کر مار دیا جاتا ہے یا عزت کے نام پر قتل کرکے سرخرو ہوا جاتا ہے۔ زندگی کی گاڑی چلتی رہتی ہے، قومیں اپنے کاموں میں لگی رہتی ہیں ملک اسی طرح سے کاروبار زندگی چلاتے رہتے ہیں۔ اسمبلیاں، سینٹ، عدالت اور سیاسی لوگ ایسے قانون بناتے رہتے ہیں جن سے شاید بہت کچھ ہوتا ہوگا مگر زینب جیسی لڑکیاں نہیں بچ سکتی ہین۔ مرجاتی ہیں، سسک سسک کر، اپنی کالی جلی ہوئی ادھڑی ہوئی کھال کے ساتھ سرخ سرخ گوشت اور سفید سفید ہڈیوں کے ڈھانچے کے اندر۔ مجھے عجیب سا لگا تھا۔

دوسرے دن میں نے زرینہ کے دونوں بچوں کو بھی ہسپتال بلا لیا۔ دو خوب صورت چھوٹی چھوٹی بچیاں میرے کمرے میں سلیم کے ساتھ سہمی سہمی سی بیٹھی ہوئی تھیں۔ اداس باپ کی مسلسل دل جوئی کے باوجود ان کا پورا وجود چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ وہ بے چین ہیں اندر سے باہر تک۔ اوپر سے نیچے تک۔ جسم سے روح تک۔ بچوں کو کیا پتہ تھا کہ ان کی ماں کس عذاب سے گزر رہی ہے، مگر انہیں یہ تو پتہ تھا کہ وہ ان کے ساتھ نہیں ہے کسی ہسپتال میں داخل ہے، بیمار ہے ان سے دور نجانے کہاں؟

میں نے تھوڑی دیر ان سے بات کی پھر سلیم کو باہر لے جاکر بتایا کہ زرینہ کافی بہتر ہے۔ ابھی میں اس سے ملوں گا پھر فیصلہ کروں گا بچوں کو کب اس سے ملنا ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ اب شاید وقت آ گیا ہے کہ بچے اپنی ماں سے ملیں مگر سارا دارومدار اس بات پر تھا کہ زرینہ میری بات کو سمجھتی ہے کہ نہیں اور وہ میرے سوالوں کا کس طرح جواب دیتی ہے۔

میں اس کے کمرے میں گیا، وہ جاگ رہی تھی۔ ایسا لگا جیسے وہ کافی سوئی ہے۔ اس کی بھاری بھاری پلکوں کے پیچھے اداس سی آنکھوں اس کے چہرے پر سب سے زیادہ نمایاں تھی۔

وہ دیوار سے ٹیک لگا کر بستر پر نیم دراز بیٹھی ہوئی تھی۔ مجھے دیکھ کر ایسے مسکرائی جیسے مجھے جانتی ہے۔ مجھے احساس ہوگیا کہ وہ مجھ پہ اعتبار کرتی ہے۔

میں نے پوچھا، ”کیسی ہو زرینہ؟ نیند آئی تھی؟ “ اس نے دھیرے دھیرے سر کو بلاکر کہا تھا کہ ہاں۔

میں نے فوراً ہی پوچھا، ”زرینہ زینب کیسے مری تھی بتاؤ گی نہیں؟ “

اسے جیسے جھٹکا لگا اور وہ فوراً ہی سنبھل کر بیٹھ گئی اور بڑی کڑی نگاہوں سے اس نے مجھے دیکھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے اس کی آنکھیں میرے چہرے میں سوراخ کرتی ہوئی میرے سر کے پیچھے سے نکل کر نجانے کہاں پر کیا کچھ دیکھ رہی ہیں۔

میں نے آہستہ سے کہا، ”اگر تم نے میری بات نہیں سنی، مجھے کچھ نہیں بتایا تو کیا ہوگا، بہت ساری اور زینبتیں مرتی رہیں گی۔ اسی طرح سے جلتی رہیں گی۔ وقت گزرتا جائے گا اتنا گزر جائے گا اتنا گزر جائے گا کہ تمہاری اپنی دونوں بیٹیاں بھی جوان ہوکر جلنے کے قابل ہوجائیں گی۔ تم کب تک خاموش رہوگی۔ اس وقت تک خاموش رہوگی جب ان کی باری آئے گی۔ تم کو، مجھ کو، ہم سب کو کچھ کرنا ہوگا۔ ایک بار فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم لوگ یہ تماشا دیکھتے رہیں گے اور زینبتیں اسی طرح جلتی مرتی رہیں گی۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

اس کے چہرے پر جیسے کوئی روشنی سی آئی۔ اس کی آنکھیں جیسے جل اٹھیں، اس کا چہرہ جیسے چمک گیا تھا۔ ”یہ کبھی بھی نہیں ہو گا ڈاکٹر کبھی بھی نہیں ہوگا۔ اگر میں مرگئی تو بھی نہیں ہوگا۔ “ مجھے ایسا لگا کہ جیسے یہ آواز کنویں سے آ رہی ہے۔

اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرگئی تھیں۔ اس نے دھیرے دھیرے کہا کہ کیا وہ اپنی بچیوں سے مل سکتی ہے۔ ”سلیم میرا شوہر کہاں ہے؟ میری بچیاں، ڈاکٹر صاحب وہ ٹھیک تو ہیں نا۔ مجھے بہت پیار ہے ان سے۔ ان سے ملنے دو مجھے ڈاکٹر۔ “ اس کی آواز میں التجا تھی۔

میں نے کہا، ضرور۔

میں خود باہر گیا، سلیم اور دونوں بچیوں کو لے کر آیا۔ وہ دونوں بچیاں بے تحاشہ جھپٹ کر اپنی ماں کے گلے لگ گئیں۔ ان کے اور سلیم کے چہرے خوشی کے آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ وہ دونوں بچیوں کو چوم چوم کر رو رہی تھی۔ بار بار، بے تحاشا، خوشیاں جیسے اس کے جسم و جان پہ رقص کررہی تھیں۔

میں خاموشی سے کمرے سے باہر چلا گیا۔ باہر جاکر میں نے نرس سے کہا کہ چائے بسکٹ اور بچیوں کے لئے آئس کریم لے کر جائے اور جب تک میں نہ کہوں بچیوں کو وہاں سے ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔

بڑے اور مہنگے ہسپتال بھی کسی فائیو اسٹار ہوٹل کی طرح ہوتے ہیں جہاں ہر چیز مل جاتی ہے۔ غریب کے ہسپتال کسی جھگی نما کینٹین کی طرح ہوتے ہیں جہاں چائے کے علاوہ کچھ نہیں ملتا ہے۔ غربت بھی کیا لعنت ہے اور غریب کی بیماری تو پورے خاندان پہ ایک عذاب بن کر اترتی ہے اور آہستہ آہستہ پورا خاندان اس عذاب کی نذر ہوجاتا ہے۔ میں اوپر والے کے اس گورکھ دھندے کو کبھی بھی نہیں سمجھ پایا۔ میں اپنے کمرے میں کافی دیر یہی سب کچھ سوچتا رہا۔

میں کافی دیر بعد دوبارہ جب زرینہ کے کمرے میں گیا تو اس نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب مجھے گھر جانا ہے۔

میں اس بات پہ راضی نہیں ہوا، ”گھر ضرور بھیجوں گا لیکن کم از کم چوبیس گھنٹے کے بعد کل کسی وقت صبح دیکھنے کے بعد۔ “ میں نے نرس کو کہا، ”دو گھنٹے کے بعد سلیم اور بچیاں چلی جائیں گی ساری دوائیں بند کردینا۔ مریضہ کو اگر کل جانا ہے تو رات خود بغیر دوا کے سونا ہو گا۔ “

رات گیارہ بجے میں نے فون کیا تو پتہ لگا کہ زرینہ گہری نیند سو رہی ہے۔ مجھے بھی اچھی نیند آئی تھی۔

دوسرے دن زرینہ ہشاش بشاش تھی اور گھر جانے کے لیے تقریباً تیار۔

میں نے کہا کہ زرینہ گھر ضرور چلی جانا مگر مجھے ذرا یہ تو بتاؤ کہ تمہیں یاد ہے کہ تم کچھ دن پہلے بے ہوش ہوگی تھیں اور اس کے بعد سے تم یہاں داخل ہو۔

اس نے کہا کہ ہاں مجھے یاد ہے میں بے ہوش ہوگئی تھی میٹھی شتابی کی اس تقریب میں، مجھے اصل میں اس کے بارے میں آپ سے بات بھی کرنی ہے۔ ایک بوجھ ہے میرے دل پہ، ایک صدمہ ہے میرے اندر، ایک احساس جرم ہے جو مجھے کاٹے دے رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے اگر میں نے آپ سے اس کے بارے میں بات نہیں کی تو شاید یہی سب کچھ پھر ہوجائے گا میرے ساتھ۔ مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے اور مجھے یقین بھی ہے کہ آپ میری مدد کریں گے۔ مجھے زندہ رہنا ہے اپنی بچیوں کے لیے، ان کی بھلائی کے لیے، ان کی زندگی کے لیے مگر میں کیا کروں۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے۔

میں دل ہی دل میں خوش ہوا کہ علاج سے فائدہ ہوا ہے، وہ اپنے آپ میں واپس آگئی ہے، باتیں کرنے کو تیار ہے، دل کا بوجھ اتارنا چاہتی ہے۔

میں نے اسے تسلی بھری نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ مجھے پتہ ہے تم زینب کی موت سے پریشان ہو مگر صرف پریشان ہونے سے تو مسئلہ نہیں حل ہوگا۔ مجھے بتاؤ تمہارے ذہن میں کیا ہے، دل پر کون سا بوجھ ہے؟ میں تمہاری مدد کروں گا، تمہارے گھر والے تمہارے ماں باپ، ساس سسر اور سلیم یہ سب پیار کرنے والے ہیں۔ اس کے چہرے پر اعتماد کا وقار سا بحال ہوگیا۔ اس نے تھوڑی دیر کچھ سوچا پھر بولی:

”زینب اور میں گہرے دوست تھے۔ وہ لوگ غریب تھے ہم لوگ امیر، پھر بھی ہماری دوستی میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ اسکول میں ساتھ، کالج میں ساتھ اور چھٹیوں میں بھی ساتھ ساتھ۔ وہ اکثر میرے گھر پر آجاتی تھی مگر ہمارا ساتھ یکایک ختم ہوگیا۔ کالج ہی میں میرے گھر والوں نے میرا رشتہ کردیا اور میں اوپر والے کا جتنا بھی شکر کروں کم ہے مجھے ایسا شوہر اور ایسا گھر ملا کہ جیسے زندگی میں ہی جنت مل گئی ہے۔ سب کچھ تھا میرے پاس، محبت کرنے والا شوہر، کاروباری خاندان اور دولت کی فراوانی۔ ضرورت کی ہر چیز اور ہر خواہش کو پورا کرنے کے لئے تیار شوہر اور کیا چاہیے ہوتا ہے زندگی میں۔

زینب غریب خاندان کی تھی۔ اس کا باپ ایک بوہڑی سیٹھ کے پاس کام کرتا تھا۔ چھوٹی سی تنخواہ بڑا سا گھر۔ بڑی بہن بہت خوب صورت تھی فوراً ہی رشتہ ہوا اور پھر وہ اپنے شوہر کے ساتھ کینیڈا چلی گئی۔ دوسری بہن بہت دنوں تک بیٹھی رہی پھر بڑی عمر کے ایک آدمی سے شادی ہوئی تھی اور پہلے بچے کی پیدائش کے دوران ہی اس کی موت واقع ہوگئی۔ زینب نے مجھے بتایا کہ اس پر شدید دورے پڑے تھے، حمل کے ساتویں مہینے میں۔ پھر مرا ہوا بچہ بھی پیدا ہوا اور پھر وہ بھی مرگئی۔

زینب نے پڑھا لکھا اور پھر ایک اسکول میں ٹیچر بن کر گھر میں کمائی لانا شروع کی تو دو چھوٹے بھائی اسکول اور کالج جا سکے تھے۔ زندگی جیسے تیسے گزر رہی تھی کہ اس کی شادی کے لیے مراد کا رشتہ آیا۔ مراد کی دوسری شادی تھی۔ اس کی پہلی بیوی نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ وہ بڑے لوگ تھے۔ مراد کے والد شیخ تھے۔ ڈاکٹر صاحب! بوہریوں میں وہ لوگ شیخ کہلاتے ہیں جو سیدنا کے نام پر کمیونٹی کو دس لاکھ روپے کا نذارانہ دیتے ہیں۔ یہ سیدنا کے لیے سلام کہلاتا ہے جو لوگ اتنے روپے دیتے ہیں ان کی پہنچ بھی ہوتی ہے۔ کمیونٹی میں ان کی عزت بھی ہوتی ہے۔ ان کے فیصلے مانے بھی جاتے ہیں۔ میاں صاحب، عامل سب ہی اس کی بات سنتے ہیں۔ دنیا جب سے بنی ہے یہی ہو رہا ہے اور شاید جب تک دنیا رہے گی یہی ہوتا رہے گا۔

مراد کی پہلی بیوی کا تعلق امیر گھرانے سے تھا۔ اس نے مراد کے شیخ گھرانے کی زیادتیوں کو برداشت نہیں کیا اور طلاق لے کر الگ ہوگئی۔ ویسے بھی امیر کچھ بھی ہو بوہری ہو یا کوئی مذہب والا اس کے لیے دستور، قانون، اصول، فیصلے سب کچھ جدا ہوتے ہیں۔ زینب کے لیے کوئی چارہ نہیں تھا۔ کینیڈا سے اس کے بہنوئی نے یہ رشتہ لگوایا تھا۔ روپے پیسے والے لوگ تھے۔ علاقے کے عامل نے خود بھی زینب کے والد کو کہلوایا تھا۔ فوراً ہی بات طے ہوئی اور فوراً ہی شادی بھی کردی گئی تھی۔ ”

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

میں کرسی پر بیٹھ گیا اور بہت توجہ سے اس کی باتیں سننے لگا۔ اس کے چہرے کا رنگ، اس کی آواز کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ بدل رہا تھا، مجھے لگا جیسے وہ کچھ کہہ رہی ہے اس میں صرف سچائی ہے۔ وہ ایک حساس لڑکی تھی جس کا دل اس کی زبان سے بول رہا تھا۔ اس نے پھر بولنا شروع کیا:

زینب کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ خوب صورتی اور تعلیم کی دولت کے علاوہ۔ مراد کے خاندان والوں نے شادی صرف اس لیے کی تھی کہ مراد کو ایک عورت چاہیے تھی اپنی پہلی بیوی کے خاندان والوں کو چڑانے کے لیے۔ ایک خوب صورت عورت جو اس کی بیوی کہلا سکے۔ جو اس کے لیے بچے پیدا کرے۔ خاندان کا وارث، اس کی مردانگی کا ثبوت۔

زینب کی زندگی شروع دن سے ہی کٹھن تھی۔ ساس سسر کی صلواتیں اور شوہر کی جھاڑ سے اس کی شادی کا آغاز ہوا۔ پھر اس کا حمل ٹھہر گیا۔ وہ یہ سمجھتی تھی کہ حمل کی خبر سے مراد خوش ہوگا۔ زندگی میں بہتری آئے گی مگر اس خبر کے بعد مراد نے اسے مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ ڈاکٹر صاحب! زینب کی موت کے بعد میں بہت سی لڑکیوں سے ملی ہوں اور بہت سی لڑکیوں نے کہا ہے کہ نجانے بعض مرد حمل کے دوران جسمانی اذیت پہنچا کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

کیا ہوتا ہے ان کے دماغوں کے اندر، کون سا احساس ہوتا ہے جو انہیں مجبور کرتا ہے کہ ایک حاملہ عورت کو زدوکوب کیا جائے۔ باہر نجانے کتنی عورتیں ہیں جو اس عذاب کا شکار ہیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے سلیم ملا ورنہ شاید میرے ساتھ بھی یہی ہوتا۔ جسم کے ہر نازک حصے پر اس نے چوٹ کھائی تھی۔ کسی کو بتائے بغیر، مجھے بھی نہیں۔ اپنے ماں باپ کو بھی نہیں۔ مراد وحشیوں کی طرح اسے مارتا میں اور اس کے گھر والے سب کچھ دیکھنے کے باوجود کچھ نہ کہتے، کیا کہہ سکتے تھے۔ وہ پٹتی رہی، روتی رہی، سہتی رہی اور اپنے خاندان کی نام نہاد عزت کے لیے خاموشی سے حمل کے ضائع ہونے کی دعا مانگتی رہی۔ نہ وہ مری اور نہ ہی حمل ضائع ہوسکا۔ نویں مہینے کے شروع ہوتے ہی کم زور سی نازک سی زینب نے کمزور سی ایک بیٹی کو جنم دیا۔

مراد کے گھر والوں کو جلد ہی احساس ہوگیا کہ بہت غریب گھرانے میں ان کے بیٹے کی شادی ہو گئی ہے۔ تعلیم کوئی دولت نہیں، حسن کوئی اچھائی نہیں اور اچھی گھرداری کا فائدہ نہیں تھا۔ بچی کی پیدائش کے بعد سے حالات خراب سے خراب تر ہوتے تھے۔

ایک دن زینب کی ماں کو اندازہ ہوا کہ اس کی بیٹی جہنم میں زندگی گزار رہی ہے۔ ماں باپ اور دونوں چھوٹے بھائیوں نے مل کر مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی۔ مسجد کے ملّا صاحب سے بات کی، میاں صاحب کو حالات سے آگاہ کیا، درجہ بدرجہ عامل سے ملے مگر جو لوگ شیخ ہوں ان کے خلاف کوئی شنوائی نہیں ہے، بلکہ جب مراد کے خاندان والوں کوپتہ لگا کہ زینب کے گھر والے اس بات سے آگاہ ہوگئے ہیں تو گھر کا ماحول اوربھی زیادہ خراب ہوگیا۔ ایک دفعہ مراد کی بے تحاشا مار کے بعد جب زینب نے یہ کہا کہ وہ طلاق لے لے گی تو گھر والوں نے اسے غسل خانے میں بند کرکے بڑی پلاننگ کے ساتھ جلا کر ماردیا اور ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ گیزر میں آگ لگ گئی تھی جس کی وجہ سے کپڑوں میں آگ لگ گئی اور وہ مرگئی۔ زینب نے پتہ نہیں کیوں نائلون کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔

پڑوسیوں نے مل کر اسے باہر نکالا۔ ہسپتال پہنچایا تو مراد کی بہن نے ہسپتال میں اس سے کہا کہ اگر کسی کو بھی کچھ بتانے کی کوشش کی تو اس کی بیٹی کو بھی گھر میں جلا دیں گے۔ پانچ دن وہ ہسپتال میں تڑپتی رہی اور مرنے سے پہلے کینیڈا سے آنے والی بہن کے بہت اصرار پر بار بار سوال کرنے پہ وہ اس کے کان میں آہستہ آہستہ یہی کہہ سکی کہ اسے جلا کر مار دیا گیا ہے۔ جب تک اس کی بہن یہاں رہی ہم نے پوری کوشش کی کہ ایف آئی آر کٹواسکیں مگر ہماری ساری کوششیں کچھ کام نہ آسکیں اور اس کے جانے کا وقت ہوگیا۔

اس کے جانے کے بعد کراچی کے بڑے عامل نے زینب کے والد کو بلاکر کہہ دیا کہ اگر کوئی بھی بات ان لوگوں نے ایسی کی جس سے کمیونٹی بدنام ہوئی تو وہ کمیونٹی میں نہیں رہ سکیں گے۔ سب خاموش ہوگئے تھے۔ ”

یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی، غور سے مجھے دیکھتی رہی پھر آہستہ سے بولی، ”مجھ پر ذمہ داری ہے اس کی موت کی۔ میں کبھی بھی معاف نہیں کرسکوں گی اپنے آپ کو۔ “ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ دور بہت دور دیواروں کے بھی اس پار نجانے کیا دیکھنے کی کوشش کررہی تھی۔

میں کچھ کہنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ وہ پھر بولی ”ہم بوہریوں کے گھروں میں بہت ساری تقریبات ہوتی ہیں۔ خاص طور سے عورتوں کے لیے۔ پیدا ہونے کے بعد سے جوانی تک، لڑکپن میں ختنے سے لے کر میٹھی شتابی تک۔ مجھے یاد ہے، ایک خواب کی طرح جب میں چھ سات سال کی تھی تو گھر میں کچھ عورتیں جمع ہوئی تھیں۔ مجھے میری ماں نے بہت احتیاط سے مگر بہت زور سے پکڑا تھا۔ ننگا کرکے میرے ختنے کی تقریب انجام دی گئی تھی۔ میری ٹانگوں کو پکڑ کر، میرے سر کو اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر، میرے کولھوں کو اپنے پیروں میں پھنسا کر میری اپنی ماں نے وہی سب کچھ کیا جو اس ک ماں نے اس کے ساتھ کیا ہوگا۔

میں مکمل تھی مجھے نامکمل کردیا ان لوگوں نے۔ ایک عورت نے اپنے تیز چاقو سے، کسی تیز دھار استرے سے، کسی شیشے کی انی کی طرح چمکتے ہوئے بلیڈ سے جسم کاٹ دیا تھا میرا۔ ہم لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہیں سب سے پہلے عورت کے ہاتھوں سے ہی گھاؤ لگوایا جاتا ہے، ان مردوں کی فرماں برداری کرنے کے لئے جنہوں نے یہ قانون بنائے ہیں۔ مذہب اور انسانیت کے بنیادی قوانین کے خلاف یہ زخم میں کبھی بھی نہیں بھولی۔ کیونکہ کسی وجہ سے میری تقریب ختنہ بہت شروع کے دنوں میں نہیں ہو سکی تھی لیکن میں نے اس زخم، اس درد کے ساتھ رہنا سیکھ لیا تھا۔

لڑکیوں کے اس ختنے کی رسم کو ذہنی طور پہ قبول تو نہیں کیا لیکن ایک ضروری برائی سمجھ کر اپنے لیے قبول کرلیا۔ یہ سوچ کر کہ میرے بعد یہ رسم میری لڑکیوں کے ذریعے آگے نہیں بڑھے گی۔ میری کسی بیٹی کو، میری کسی بچی کو کوئی بھی اس طرح سے زخمی نہیں کرسکے گا۔ مکمل سے نامکمل نہیں بننے دوں گی نہ مذہب کے نام پر نہ روایت کے نام پر۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

مجھے میٹھی شتابی کی رسم پسند ہے۔ گھر میں بچپن میں پونے والی اس تقریب کو میں نے ہمیشہ پسند کیا۔ مجھے دعا کرتی ہوئی ماں بڑی اچھی لگتی تھی۔ میں میٹھی شتابی کے رومانس سے کبھی بھی نہیں نکل سکی ہوں۔ میٹھی شتابی کی تقریب میں صرف عورتیں ہوتی ہیں۔ یہ بڑی پاکیزہ سی تقریب ہے جو روح میں جیسے رچ بس جاتی ہے۔ خواتین جمع ہوتی ہیں آپ کو پتہ نہیں ہوا، آپ بوہری نہیں ہیں اس میں سب سے پہلے سید شہداء کی دعا پڑھتے ہیں پھر حضرت بی بی فاطمہ کی دعا پڑھی جاتی ہے، پھر نعت منقبت میٹھی آواز میں پڑھی جاتی ہے۔ مجھے یہ پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے۔ میں ہمیشہ سے اسے بڑے شوق سے پڑھتی ہوں، پھر سیدنا مولا کی مدح پڑھی جاتی ہے۔ پھر کچھ وظائف پڑھے جاتے ہیں۔ تقریب ختم ہوتی ہے۔ بڑے سے تھال میں کھانا لگایا جاتا ہے پہلے نمک پھر گڑ اور روٹی اور اس کے بعد کھانا کھایا جاتا ہے۔

پھر عورتوں کے سامنے پلیٹ میں کالج، پھول عطر، مہندی، خوشبو پیش کی جاتی ہے۔ پھر ہم سب کاجل اور عطر لگاتے ہیں (مہندی خوشبو سے آراستہ کرتے ہیں ) اور خاتون خانہ چھوٹے چھوٹے تحفے مہمانوں کو دیتی ہے۔ میں اپنے اس ختنے کے درد کو اس روحانی تقریب میں بھول جاتی ہوں۔ سکون سا ملتا ہے وہاں۔ ایک اچھا احساس۔ پاکیزگی جیسے نور بن کر جسم میں داخل ہوجاتی ہے۔ مگر زینب کی موت سے پہلے والی میٹھی شتابی میرے لیے جرم بن کر رہ گئی ہے۔

فاطمہ کے گھر پر میٹھی شتابی تھی، وہاں میں بھی تھی۔ زینب بھی سید شہدا کی دعا کے بعد نعت رسول منقبت کے بعد، سیدنا مولا کی مدح اور وظائف کے بعد کھانے سے پہے زینب مجھے دوسرے چھوٹے کمرے میں لے گئی۔ وہ پریشان تھی۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر آہستہ سے کہا۔ زرینہ وہ لوگ مجھے مار دیں گے، میری جان لے لیں گے۔ میں مرنا نہیں چاہتی ہوں میری چھوٹی بچی ہے مجھے بتاؤ میں کیا کروں؟ میری مدد کرو زرینہ۔ میری مدد کرو۔

مجھے اندازہ تو تھا کہ زینب کی زندگی مشکل میں ہے لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ حالات اتنے خراب ہیں۔ میں نے اس سے کہا کہ تقریب ختم ہونے دو، اس کے بعد بات کرتے ہیں۔

مگر بات نہیں ہو سکی۔ مجھے سلیم لینے آگئے اور جلدی جلدی گھر چلی آئی تھی۔ یہ بھول ہی گئی کہ زینب کو میری مدد کی ضرورت ہے۔ اس نے مجھ سے التجا کی تھی، مدد مانگی تھی۔ دوسرے دن دوپہر کو پتہ لگا کہ زینب جل گئی ہے۔ سول ہسپتال کے برن وارڈ میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس زندگی کی جنگ جس کے بچانے کے لیے اس نے فاطمہ کے گھر کی میٹھی شتابی کی تقریب میں مجھ سے مدد مانگی تھی اور میں نے اس کی التجا کو فراموش کردیا۔ یہ بوجھ میرے سینے کے اندر بہت اندر میرے دل کی گہرائیوں میں مجھے چرکے لگارہا ہے۔ میں بچا سکتی تھی اسے، ڈاکٹر صاحب بچا سکتی تھی۔ ”

یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو مچل رہے تھے۔ اس نے آنکھیں بند کرلی جیسے سید شہداء کی دعا پڑھ رہی ہے۔ منقبت پڑھ رہی ہے سیدنا ملا کی مدح پڑھ رہی ہے۔

میرے پیر سن ہوگئے، جسم شل اور ذہن ساکت۔ میں رو بھی نہیں سکتا تھا۔ میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔ میں کہنا چاہتا تھا مگر مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ وہ میری آنکھوں کے سامنے کھڑی تھی۔ زرینہ کے ہاتھ پکڑے ہوئے کہہ رہی تھی مجھے بچالو، بچالو، بچالو اور مجھے مار دیں گے، وہ مجھے مار دیں گے۔

”مگر مجھے زندہ رہنا ہوگا ڈاکٹر اسی احساسِ جرم کے ساتھ زینب کی بیٹی کے لیے، اپنی بیٹیوں کے لیے اور اپنی بہنوں کی ان بیٹیوں کے لیے جن کے جسم زخمی ہیں، نامکمل بنا دیے گئے ہیں مگر وہ زندہ ہیں، ان کی روحیں ان کے جسم و جان میں اتنی ہی بھرپور ہیں، جتنی بھرپور ہونا چاہئیں۔ مجھے لڑنا ہوگا اپنی طاقت کے ساتھ، سلیم جیسے مردوں کی مدد سے، ایک طویل لڑائی، ایک آخری جنگ۔ “

مجھے اس کی آواز آئی تھی۔ ٹھہری ٹھہری، ایک عزم کے لیے ہوئے، ایک ارادہ تھا اس میں۔ ایک ایسا نعرہ جو مجھے سننا تھا۔ میں نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اس کے سرخ و سفید چہرے پہ عزم کی بیکراں لہریں موجزن تھیں۔ مجھے یقین سا ہوگیا کہ صبح ضرور آئے گی۔ ایک ایسی میٹھی شتابی کے ساتھ جس کے اصول مختلف ہوں گے جس کی دعائیں مکمل ہوں گی جہاں ساری لڑکیاں اپنے مکمل جسموں کے ساتھ آزادی کا گیت گائیں گی بھرپور اور بے مثال۔