بدزبانی ہے زباں میری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاؤں سے ٹیسیں اُٹھ رہی ہیں کہ دو ہفتے پہلے ایک ناہموار جگہ سے گزرتے ہوئے جھٹکا لگا۔ صبح اُٹھا، تو وہ پورا سوجا ہوا تھا اور تکلیف کی شدت سے پاؤں زمین پر رکھا نہیں جا رہا تھا۔ ہمارے بچپنے میں چوٹ لگتی تو ہلدی کی لپائی کی جاتی، گرم نمک سے سکھائی کا سلسلہ شروع ہو جاتا اور اِس عمل سے آرام بھی آجاتا۔ اب اہلِ دنیا کے رویوں کے ساتھ ساتھ نئی تحقیق میں بھی بڑا تغیر آگیا ہے۔ اُس کے مطابق چوٹ کے اثرات پر قابو پانے کے لئے برف سے سکھائی کی جاتی ہے، چنانچہ ہمارے معالج آئے اور اُنہوں نے خشوع و خضوع سے برف سے سکھائی شروع کر دی۔

ایک ہفتہ اِسی مشق میں گزر گیا لیکن آرام نہیں آیا۔ تب اسپتال جانے کا فیصلہ ہوا، وہاں جناب ڈاکٹر فہد نذیر سے ملاقات ہوئی۔ بڑی محبت سے پیش آئے اور ایکسرے کرانے کے لئے کہا۔ ایکسرے میں آیا کہ ہڈی میں دو جگہ کریک آئے ہیں، تب فرشتہ سیرت ڈاکٹر صاحب نے خود پلستر لگایا اور چار ہفتے آرام کرنے کا مشورہ دیا۔ اب پہلے کے مقابلے میں درد میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن گاہے گاہے ٹیسیں اُٹھ رہی ہیں، جن سے پورا جسم سخت بےچینی محسوس کر رہا ہے۔

میں لکھتے وقت سوچ رہا ہوں کہ ایک ذرا سی چوٹ نے میرا پورا نظامِ زندگی تلپٹ کر دیا ہے تو میری قوم جس کا پورا وجود زخم زخم ہے، وہ کس قدر اذیت میں ہو گی اور اُس کے معاملات کس قدر بگڑ چکے ہوں گے۔ میں اُن لوگوں میں سے نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اُس کی نعمتوں کا کفران کئے جاتے ہیں کہ آزادی نے ہمیں کیا دیا اور جو اکہتر سال گزرے ہیں، اُن سے ہمیں غربت، عدم تحفظ اور پس ماندگی کے سوا اور کیا ملا ہے۔

میں نے غلامی کے دس بارہ سال ہوش و حواس میں گزارے ہیں اور میری آنکھوں سے وہ روح فرسا مناظر غائب نہیں ہوتے جو میں نے مسلمانوں کی بدحالی اور ذلت و خواری کے دیکھے تھے۔ میرے پاؤں سے اُٹھتی ہوئی ٹیسوں نے اِس کرب میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، جس میں میری قوم ایک صدی مبتلا رہی۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور اُن کے رفقائے کار کی شبانہ روز کوششوں اور اُن کی غیرمعمولی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت ہم ایک آزاد وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد پچاس کے لگ بھگ آزاد مسلم ریاستیں وجود میں آئیں اور یوں حضرت علامہ اقبال کا مسلم اُمہ کا خواب حقیقت میں ڈھل گیا تھا۔

میرے ربِ کریم نے پاکستان پر اپنی عنایات کی بارش جاری رکھی۔ اُس پر تسلسل کے ساتھ رحمتوں کا نزول ہوتا رہا۔ عام شہریوں کی زندگی میں عظیم انقلاب آتا میں نے گزشتہ ستر برسوں میں دیکھا ہے۔ آج اُنہیں جو سہولتیں اور آسائشیں دستیاب ہیں، اُن کا آزادی سے پہلے دُور دُور تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آج ہمارے نوجوانوں نے امریکہ اور یورپ میں اپنی مہارتوں اور قابلیتوں کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ اُن کے افکار و کردار سے متاثر ہو کر وہاں کے باشندے، بڑے بڑے مصنف، سائنسدان اور سیاست کے امام اسلام قبول کر رہے ہیں۔ یہ اِس لئے ہے کہ مسلمان جس دین کے ماننے والے ہیں، اُس میں اخوت کی جہاں بانی اور محبت کی حکمرانی ہے۔

مواخات کا عظیم ترین تجربہ ریاستِ مدینہ میں پہلی بار ہوا تھا اور سرورِ دو عالم حضرت محمد ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر پوری دنیا کے پہلے انسانی حقوق کے چارٹر کا اعلان فرمایا تھا، جس میں تمام انسان برابر تھے، اُن کی عزتیں محفوظ تھیں اور اُن کی عزتِ نفس کا خاص اہتمام کیا گیا تھا۔ اب ہوا یہ ہے کہ ریاستِ مدینہ کو اپنا ماڈل قرار دینے والے حکومت میں آ گئے ہیں، جن کے نزدیک بدزبانی کوئی بڑا جرم نہیں۔ غالباً اِس لئے ایک خلفشار سا برپا ہے اور معاشرے سے برکت اُٹھتی جا رہی ہے۔ ہمیں ایک بار پھر اپنے آپ کو خداوند کریم کی نعمتوں کا سزاوار بنانے کے لئے دِلوں میں دہکتے ہوئے آتش کدوں کو ٹھنڈا کرنا اور مہذب رویوں کو پروان چڑھانا ہو گا۔

ہمارے حالات بلاشبہ بڑے مخدوش اور متزلزل دکھائی دیتے ہیں۔ اُن میں ہمارے حریف ملکوں کی سازشوں کے علاوہ ہمارے اعمال کا بہت بڑا حصہ بھی ہے۔ وہ سیاست جس میں گالم گلوچ روزمرہ کا معمول بن جائے، اُس سے بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اب عالم یہ ہے کہ ’ڈاکو‘ اور ’چور‘ اِس کثرت سے استعمال ہو رہے ہیں کہ وہ سب سے ’مہذب القابات‘ محسوس ہونے لگے ہیں۔ بداعتمادی کا یہ عالم ہے کہ اپوزیشن اپنے ملک کے وزیرِاعظم کو اپنا منتخب وزیرِاعظم تسلیم کرنے پر تیار نہیں اور پارلیمان میں عوام کے حقیقی مسائل کا حل دریافت کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر نہایت غلط انداز میں حقارتوں کے میزائل داغے جا رہے ہیں۔

آج عوام کی حاکمیت ایک بھولے بسرے افسانے کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ ہمارے آئین کے مطابق اقتدار ایک مقدس امانت ہے اور ہر صاحبِ اقتدار سے آخرت میں اُس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ہر شخص اُن افراد کا راعی ہے جن کی کفالت اُس کے ذمہ ہے چنانچہ وہ اُن کی صحت مند نشوونما کےبارے میں جوابدہ ہوگا۔ ہمارے حاکموں، ہمارے سیاستدانوں اور ہمارے منصوبہ سازوں سے یقیناً پوچھا جائے گا کہ ہم نے تمہیں لاتعداد وسائل فراہم کئے اور تم نے اپنے عوام کی اعلیٰ تعلیم، معاشی اور معاشرتی تحفظ اور اُنہیں خیروشر کے تصورات سے آگاہ کرتے رہنے کا کیا بندوبست کیا۔

میری ربِ دوجہاں سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اندر ایسے بالغ نظر اور عالی ظرف انسان پیدا کرے جو ہمیں نفرتوں کے جہنم سے نکال کر باہمی عزت و احترام کی جنت کی طرف لے جاسکیں۔ کرپشن اور انتقام کے نام پر ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے اور گردنوں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے کرپشن کے خاتمے کا ایک سائنٹفک نظام قائم کرنا اور احتساب کے عمل کو شفاف بنانا ہوگا۔ یہ امر بھی غور طلب ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے کرتا دھرتا غیر ملکی ایجنسیوں سے پیسے لے کر افواجِ پاکستان کے خلاف زبان درازی کر رہے اور نسلی اور لسانی جذبات بھڑکا رہے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ اُن سے محبت کے بجائے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دراصل یہی اشتعال انگیزی ہمارے اجتماعی معاملات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اسی لئے پوری قوم کو گالم گلوچ اور کردار کشی کےتباہ کن کلچر کے خلاف متحد ہونا، سیاست کو سنجیدہ اور شائستہ ماحول مہیا کرنا اور معاشرتی عدل کا دامن تھامنا ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>