غلیل باز ضدی بچے کی کہانی: ناقابل اشاعت کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں قصے کہانیاں بہت پسند ہیں۔ بچپن دادی اور دادا سے جنوں اور پریوں کی کہانیاں سنتے گزرتا ہے، لڑکپن ٹارزن، عمروعیار اور عمران سیریز میں گم ہوجاتا ہے اور پھر نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہر کوئی نسیم حجازی کے ناولوں میں کھو جاتا ہے۔ سوچا کیوں نہ آج ایک دلچسپ کہانی کو کالم کا حصہ بنایاجائے۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے ملک کی جہاں بادشاہ گروں کو نت نئے تجربات کرنے کا شوق تھا۔ بادشاہ گروں کا محبوب مشغلہ یہ تھا کہ وہ کم سنی میں کسی بچے کو گود لیتے، اس کی پرورش کرتے اور پھر تاج وتخت اس کے سپرد کر دیتے۔

اس بندوبست کے پیچھے شاید یہ سوچ کارفرما تھی کہ بظاہر حکمران کوئی بھی ہو، اقتدار و اختیار ان کے پاس ہی رہے۔ لیکن یہ بچے باشعور ہوتے ہی اس کھیل کو سمجھ جاتے اور اپنے سرپرستوں کے اشاروں پر ناچنے سے انکار کردیتے۔ پہلے تو ان گستاخ بچوں کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی، پھر ڈرانے اوردھمکانے کی نوبت آتی لیکن جب کوئی ضدی اور نافرمان بچہ اپنی بات پر اڑ جاتا تو اسے نشان ِ عبرت بنا دیا جاتا تاکہ آئندہ کسی بچے کو حکم عدولی کی جرات نہ ہو۔

ایسے ہی ایک بچے کو نشان ِعبرت بنانے کے لئے پھانسی دیدی گئی۔ مگر یہ بچے بھی جانے کس مٹی سے بنے تھے، بغاوت سے باز ہی نہ آتے۔ ایسے ہی ایک ہٹ دھرم بچے نے یہ کہہ کر ہاتھ میں غلیل تھام لی کہ ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔ اس نافرمان بچے سے تاج و تخت چھین لیا گیا۔ بادشاہ گروں نے نئے حکمران کا انتخاب کرنے کے لئے ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا۔ انہوں نے منادی کروادی کہ اگلی صبح جو بچہ سب سے پہلے شہر میں داخل ہوگا، اسے بادشاہ بنا دیا جائے گا۔ سب سے پہلے شہر میں داخل ہونے کی اجازت دینا بھی انہی بادشاہ گروں کا استحقاق تھا اس لئے سب منتظر تھے کہ اس بار قرعہ فال کس کے نام نکلتا ہے۔ اسے محض اتفاق کہیں یا پھر حسن اتفاق کہ اگلی صبح ایک غریب سا بچہ درویشوں کا فقیرانہ چولا پہنے سب سے پہلے شہر میں داخل ہوا تو اسے بادشاہ بنا دیا گیا۔ بچے نے رسماً کہا تو کہ “ہم درویشوں کی شان تو فقر و فاقہ ہے، ہمیں تخت و تاج سے کیا واسطہ، ہم تو فقیری میں خوش رہتے ہیں”، لیکن تاج پہننے میں دیر نہ لگائی۔

فقیر بچے نے بادشاہت کا تاج سجانے کے بعد دربار لگایا تو وزیروں اور مشیروں نے پوچھا، ظل سبحانی! ریاست کی پالیسی کیا ہوگی؟ معیشت کا پہیہ کیسے چلے گا؟ بادشاہ نے ایک کشکول اُٹھایا اور بتایا کہ ملک کے ہر مسئلے کا حل اس کے کاسہ گدائی میں ہے۔ درباریوں کی حیرت بھانپتے ہوئے بادشاہ نے وضاحت کی کہ مانگنا اس کی خداداد صلاحیت ہے اور درویش تو اس گھر سے بھی نذرانہ لا سکتا ہے جس میں میت رکھی ہو۔ اپنے اس ہنر کو بروئے کار لاتے ہوئے، بادشاہ سلامت اپنے درباریوں کے ہمراہ نگر نگر گھومتے ہوئے صدائیں دیں گے، پیسہ جمع کریں گے، ملک چلائیں گے اور حلوہ کھائیں گے۔

یہ پالیسی بیان جاری کرتے ہی بادشاہ نے مجلس برخاست کرنے کا حکم دیتے ہوئے شاہی مطبخ کے وزیر کو حلوہ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ چند روزبعد ہی چندہ مہم شروع ہوگئی، لوگوں نے حسب استطاعت اس کارخیر میں حصہ تو ڈالا مگر وہ حیران تھے کہ چندے کے پیسے سے کوئی ملک کیسے چلایا جا سکتا ہے؟ فقیرانہ شان رکھنے والا بادشاہ اور بادشاہ گربہت مطمئن تھے، ان کا خیال تھا کہ وہ تبدیلی لائیں گے اور یونہی ملک چلا کر دکھائیں گے۔ اس دوران ملکی معیشت کی سانس اُکھڑنے لگی، لوگ بے روزگار ہونے لگے، کاروبار میں مندے کی کیفیت اُمڈآئی، مہنگائی میں اضافہ ہونے لگا اور لوگ پریشان ہونے لگے۔

کسی درباری نے ہمت مجتمع کرتے ہوئے بادشاہ سلامت کے سامنے لب کشائی کی جرات کی اور بتایا کہ معیشت تباہ و برباد ہو رہی ہے اور لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ بادشاہ سلامت نے کہا، فوری طور پر میری رعایا کے نام پیغام جاری کرو کہ گھبرانا نہیں، بہت جلد ملک کی تقدیر بدلنے والی ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر حلوہ پکانے کا فرمان جاری کردیا۔

جب چندہ مہم سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو قرض لے کر معاملات سدھارنے کی کوشش کی گئی۔ قرض دینے والے سنگدل ساہو کاروں نے کڑی شرائط عائد کردیں اورکہا کہ موتمن الدولہ (وزیر خزانہ) اور اس کی ساری ٹیم فارغ کرکے ہمارے لوگ تعینات کیے جائیں، ٹیکس لگانے اور محصولات جمع کرنے کا اختیار ہمیں دیا جائے، تب آپ کو قرض ملے گا۔ بادشاہ سلامت نے سوچے سمجھے بغیر یہ مطالبات مان لئے اور حکم صادر کیا کہ ان کی سب شرائط فوری طور پر پوری کرکے ہماری خدمت میں شاہی حلوہ پیش کیا جائے۔ ملک کے حالات بتدریج خراب ہوتے چلے گئے مگر فقیرانہ شان والا درویش بادشاہ چپ چاپ شاہی محل میں بیٹھ کر حلوہ کھاتا رہا۔

آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ وہ ضدی بچہ جسے بادشاہ گروں نے محض اپنی انا کی خاطر تاج و تخت سے محروم کیا تھا، اس کا انجام کیا ہوا؟ اس بچے کو جیل میں ڈال دیا گیا، سمجھانے بجھانے اور راہ راست پر لا نے کی بہت کوشش کی گئی مگر وہ اپنی ضد پہ اڑا رہا۔ اس کا چھوٹا بھائی بہت سمجھدار تھا، اس نے بھی بھائی صاحب کو حالات کی نزاکت کے پیش نظر لچک دکھانے کی درخواست کی۔ بھائی صاحب نے بادل نخواستہ رضامندی بھی ظاہر کردی۔

چھوٹے نے بادشاہ گروں کو بتایا کہ بھائی صاحب کو منا لیا گیا ہے اور اب وہ بغاوت کے بجائے مفاہمت کے راستے پر چلنے کو تیار ہیں۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ماہرین نفسیات کا ایک پینل تشکیل دیا گیا جس نے اس ضدی بچے کا انٹریو لینے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ تمہیں رہا کردیا جائے تو کیا کرو گے؟ اس نے کہا، میں بیرون ملک جاکر زمین خریدوں گا، وہاں درخت لگاؤں گا اور جنگل اگاؤں گا۔ ماہرین نفسیات نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر اثبات میں سرہلایا اور سوچا کہ اس کی سوچ تو واقعی بدل گئی ہے۔

مگر مزید تصدیق کے لئے انہوں نے ایک اور سوال کیا کہ اس جنگل کا کیا کرو گے؟ سفاری بناؤ گے؟ اس ضدی بچے نے کہا، نہیں جب یہ جنگل پورے جوبن پر ہوگا تو اس کے درخت کاٹ ڈالوں گا۔ انٹرویو لینے والے پینل میں شامل ایک شخص نے پوچھا، درخت کاٹ کر کیا کرو گے؟ کیا اس لکڑی سے فرنیچر بناؤ گے؟ ضدی بچہ طنزیہ انداز میں مسکرایا اور پھر بتایا، میں ان درختوں کو کاٹ کر ان کی غلیلیں بناؤں گا۔ یہ جواب سن کر پینل نے سفارش کی کہ غلیل باز بچے کے سدھرنے کا کوئی امکان نہیں، اسے پھر سے جیل میں ڈال دیا جائے۔

چھوٹا بیرون ملک بھاگ گیا، بھائی صاحب المعروف غلیل باز ضدی بچے کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ عوام کو تو گھبرانے کی اجازت نہیں مگر اب بادشاہ گر وں پر گھبراہٹ طاری ہے کیونکہ فقیرانہ شان والے درویش بادشاہ کا یہ دور ملک پر بہت بھاری ہے۔ ایک بار اس فقیرانہ شان والے بچے کو یاد دلانے کی کوشش کی گئی کہ اس کے نازک کندھوں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد کی گئی ہے، اس نے ملکی معیشت کو سنوارنا ہے، ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ فقیرانہ شان والے بچے نے کہا، میں تو یہاں حلوہ کھانے آیا تھا، اگر تم نے میرے بارے میں خوش فہمیاں پال رکھی ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ اور پھر میں خود تو یہاں نہیں آیا، مجھے لایا گیا ہے۔ کیا اس تلخ تجربے کے بعد بادشاہ گروں نے مزید تجربے کرنے سے توبہ کرلی؟ اس بارے میں راوی خاموش ہے کیونکہ غلیل باز ضدی بچے کی کہانی ابھی باقی ہے دوست۔

کالم نگار روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں، ان سے آفیشل فیس بک پیج پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

https://www.facebook.com/b.ghauri

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد بلال غوری

بشکریہ روز نامہ جنگ

muhammad-bilal-ghauri has 125 posts and counting.See all posts by muhammad-bilal-ghauri