سائنس، سپر سائنس اور روحانیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے محبوب وزیراعظم جناب عمران خان نے سوہاوہ کے مقام پر پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین قدم اٹھاتے ہوئے سائنس کو سپر سائنس بذریعہ روحانیت بنانے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس پر بعض کم فہم مخالفین ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ دیکھیں ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ عمران خان الفاظ کے نہیں عمل کے آدمی ہیں۔ عملیات میں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں کیفیات کے بیان کے لئے۔

میں الفاظ کا آدمی ہونے کی وجہ سے سمجھ سکتا ہوں کہ ہمارے وزیراعظم کیا کہہ رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ روحانیت کو ویسے ہی پیرا سائنس بنا کر سائنس سے بالاتر کر دیں گے جیسے پیرا سائیکالوجی کو سائیکالوجی سے اور پیرا نارمل کو نارمل سے برتر سمجھا جاتا ہے۔ ان سے غلطی یہ ہوئی کہ بالا کا ترجمہ پیرا کی بجائے سپر کر بیٹھے۔ ورنہ وہ ٹھیک سوچ رہے ہیں۔

اس مقصد کے حصول کی خاطر انہوں نے ”ترقی کے پہاڑ“ سوہاوہ کا انتخاب کیا کیونکہ وہاں ستر سال پہلے بابا نور الدین نے چلہ کاٹا تھا۔ یونیورسٹی کا نام ”روحانیت کے سپہ سالار عبدالقادر جیلانی“ کے نام مبارک پر رکھا گیا ہے۔ جناب عمران خان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہیں محی الدین اس لئے کہا جاتا ہے ”کیونکہ انہوں نے اسلام کو زندہ کیا تھا۔ انہوں نے اسلام کے اندر تعلیمات، نبیؐ کی پھیلائی تھیں۔ لیکن انہوں نے ایک اور کام کیا تھا۔ انہوں نے یہ کیا تھا کہ انہوں نے سائنس، روحانیت اور اسلام کا تعلق جوڑا تھا۔ یہ بڑے کم لوگوں کو پتہ ہے کہ سائنس اور روحانیت کا انہوں نے تعلق جوڑا تھا اور تحقیقات شروع کروائی تھیں روحانیت کے اندر۔ “ ظاہر ہے کہ یونیورسٹی کا نام درست رکھا گیا ہے۔ ترقی کا یہ پہاڑ روحانی تجلیات کے مرکز گوجر خان کے نواح میں چوبیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

اب روحانیت کے سپر سائنس بننے کے بعد ہمارا معاشرہ ایک توہمات میں گھرے کالے سفید عملیات پر یقین رکھنے والے معاشرے سے یک دم بدل کر سپر سائنس پر یقین رکھنے والا معاشرہ بن جائے گا۔ اس کے حیرت انگیز نتائج نکلیں گے۔ جب بچہ بچہ اس یونیورسٹی کا فارغ التحصیل ہو کر سپر روحانی سائنس کا ماہر بن جائے گا تو انسانی عقل سپر سائنسی معجزات دیکھ کر دم بخود رہ جائے گی۔

وزیراعظم نے بتایا تھا کہ سنہ 2022 میں پاکستان خلا میں پہلا پاکستانی بھیج دے گا۔ ہماری رائے میں اس سلسلے میں القادر روحانی یونیورسٹی کا قیام ایک اہم سنگ میل ہے جو روحانیت کو سپر سائنس بنانے کے بعد پہلا پاکستانی روحانی طور پر خلا میں بھیجے گی۔ بلکہ خلا میں کیا سپر سائنس تو گزشتہ دنوں دریافت ہونے والے اس بلیک ہول میں بھی پاکستانیوں کو بھیج سکتی ہے جہاں روشنی تک کا پہنچنا محال ہے۔

یہ بھِی نوٹ کریں کہ پیٹرول کی قیمت اور روحانیت کی یونیورسٹی لیول پر تعلیم دینے کا اعلان ایک ہی وقت میں کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب لوگ ماہر روحانیات ہو جائیں گے تو وہ کہیں آنے جانے کے لیے پیٹرول کے محتاج نہیں رہیں گے۔ وظیفہ پڑھ کر اڑ کر چلے جایا کریں گے۔

یہی معاملہ خزانے کا ہو گا۔ ماہرین روحانیات ایسی سپر سائنسی ہانڈیاں استعمال کیا کریں گے جن سے حسب ضرورت پیسے نکلا کریں گے اور فیض کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔ بلکہ جو ماہرین روحانیات ”کاملاں را راہنما“ یعنی وفاقی وزیر کے منصب پر فائز ہوں گے ان کی ہانڈی سے ڈالر نکلیں گے جو عالمی مہاجنوں کے منہ پر دے مارے جائیں گے۔

پاکستان میں غذائی قلت کا معاملہ حل کرنے کے لئے بھی سپر سائنسی ہانڈیاں استعمال کی جائیں گی جن سے حسب ضرورت اتنا کھانا نکلے گا کہ ہزاروں سیر ہو جائیں مگر ہانڈی خالی نہ ہو۔ اسی طرح پاکستان میں پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کے لئے بھی ایسی روحانی صراحیاں استعمال کی جائیں گی جن سے عند الطلب اتنا پانی نکل آئے گا کہ پیٹ کیا کھیت بھی سیراب ہو جائیں۔

اگر آپ بچپن میں داستان امیر حمزہ پڑھ چکے ہیں تو اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ ایسی روپیہ، کھانی اور پانی فراہم کرنے والی روحانی ہانڈیاں عمرو عیار کے پاس موجود تھیں۔ اس لئے ان کے وجود سے انکار کرنا ممکن نہیں۔ بندہ اگر روحانیت کی سپر سائنس میں ڈگری رکھتا ہو تو ایسی ہانڈیاں بنانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو گا۔

کیا آپ نے تصور بھی کیا ہے کہ اس روحانی سپر سائنس یونیورسٹی کے ہمارے معاشرے اور رہن سہن پر کیا اثرات ہوں گے؟ پہلے لوگ نہ سمجھ میں آنے والی پیچیدہ یا احمقانہ بات پر پوچھا کرتے تھے کہ ”یہ کیا سائنس ہے“۔ اب روحانیت کے سپر سائنس بننے کے بعد سوال ہو گا ”یہ کیا روحانیت ہے“۔

ہماری رائے میں اس روحانی یونیورسٹی کا چانسلر پیر شاہ محمود قریشی کو بنایا جانا چاہیے کیونکہ وہ سپر سائنس میں اعلی ترین مقام رکھتے ہیں اور سپر سائنس کے دو اہم ترین مراکز کی گدی ان کے مبارک وجود سے برکت پاتی ہے۔

ایک ضمنی خیال یہ بھی ذہن میں گزر رہا ہے کہ القادر یونیورسٹی کے نام سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان کو اب دیوبندی سے بریلوی ریاست بنانے کا مقدس مشن شروع ہو چکا ہے۔ مرشد خادم رضوی تو اندر ہیں۔ اب اگر کوئی بریلوی مولوی صاحب چاند کا سپر سائنسی کیلنڈر بنانے کے منصوبے کی پرجوش حمایت کرتے ہوئے اسے دینی و روحانی مواخذ سے حق ثابت کرنا شروع کر دیں تو وہ پاکستان کے سرکاری شیخ الاسلام بن سکتے ہیں۔ میں اس منصوبے کا حامی ہوں اور گیارہویں شریف کی سرکاری چھٹی اور سرکاری کونڈوں کا شدت سے منتظر ہوں۔ دیکھتے ہیں سرکار کب کونڈا کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1202 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar