تحریک انصاف کی بیکار حکومت اور مسلم لیگ کی مزید بیکار اپوزیشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلم لیگ نواز کو اب خود پر مسلط کردہ مسلسل سوگ کی کیفیت سے باہر نکلنا چاہیے اور اپنے لیے کوئی راہ متعین کر لینی چاہیے کہ کرنا کیا ہے۔

تصادم کی جس راہ پر ان کا خیال ہے کہ چل کر وہ پاکستان میں کوئی بہت بنیادی سیاسی، شہری اور جمہوری تبدیلی لا سکتے ہیں، تو یہ مکمل خام خیالی ہے، پاکستان کی شہری و دیہاتی سیاسی سماج نظریاتی طور پر تشکیل شدہ ہے ہی نہیں کہ جس میں عوام اور شہری اپنے آپ کو کسی بھی نظریہ کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کرتے ہوں اور اس نظریہ کے تحفظ کے لیے وہ اندرونی جبر اور استبداد کی کسی بھی قوت کے سامنے اپنی جماعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

یہ ممکن نہیں!

پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کے پاس کوئی نظریہ باقی نہیں رہا۔ جماعت اسلامی ہی شاید اک واحد جماعت ہے جسے کسی کے آنے یا جانے سے اگر کوئی فرق پڑتا بھی ہے تو وہ عارضی ہی ہوتا ہے : اچھا بھی اور برا بھی۔ ان کے ہاں لیڈرشپ کا تسلسل ہے جو اک سسٹم کے تحت ہے۔ یہ سسٹم کسی دوسری جماعت میں نہیں۔ مسلم لیگ نواز کو اس سوگ میں سے یا تو بہت پہلے نکل آنا چاہیے تھا، یا پھر خود پر مسلط کردہ خودساختہ حریت کے تحت الیکشن کے جھوٹے اور فراڈ نتائج تسلیم ہی نہیں کرنے چاہئیں تھے، اور اگرتسلیم کر بھی لیے تھے اور پارلیمان کا حصہ بن بھی گئے تھے تو اک بھرپور موضوعاتی اپوزیشن کرتے۔

جِنوں کو کچا گوشت کھلاتی، ”رہونیت“ کی سپر سائنس پر کھڑی، عمران نیازی صاحب کی حکومت اک ناکام، نکمی اور بے کار حکومت ثابت ہو رہی ہے اور ڈی جی آئی ایس پی آر مثبت رپورٹنگ پر جو بھلے مرضی ہے کہتے رہیں، وطن کے حالات، ڈاکٹر اشتیاق احمد صاحب کے الفاظ میں، ان۔ ٹینیبل، ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ایسا مسلسل و مستقل چل نہیں سکتا۔

نیازی صاحب کی بے کاری اور انہیں حکومت میں لانے والوں کی پاکستان کے بگڑے ہوئے حالات عین وہی موقع فراہم کرتے تھے اور ہیں کہ جہاں مسلم لیگ نواز کو سیاست کے میکاویلین اصولوں کے تحت بے رحمانہ ضربیں لگانی چاہئیں تھیں۔ مگر نیازی صاحب کی بے کار حکومت کو اصل میں چلانے والوں نے احتساب کے نام پر نون لیگ پر دباؤ بھی بنائے رکھا۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ سیاسی جماعت اگر دباؤ کا مقابلہ تخلیق اور تحریک سے نہیں کر سکتی تو اسے پھر سموسے اور پکوڑے بیچنے چاہئیں۔ آج کل تو سیزن بھی ہے!

مثلا، مسلم لیگ نواز کا رضا باقر صاحب کی تقرری پر ڈیڑھ دو انچ کی میڈیا ٹاک اور ٹویٹس کے علاوہ کیا حکمت عملی ہے؟ کسی کو معلوم ہے؟ اسی طرح شبر زیدی، شاید یہی نام ہے ان کا، کی ایف بی آر تقرری کے معاملہ پر مسلم لیگ نون نے کیا جوابی سیاسی بیانیہ تخلیق کرنے کی جانب قدم اٹھایا اور خود کو کہاں اور کیسے پوزیشن کیا؟ کسی کو کچھ علم ہے تو خادم کا علم بڑھا دیں۔ عمران نیازی کی بے کار اور نکمی حکومت پر ضربوں کے بے شمارمواقع آتے رہے، آ رہے ہیں، مگر مسلم لیگ نون پولی پولی ٹولکی پر میاں نواز شریف صاحب کے ساتھ ہونے والی، ان کے بیانیہ کے مطابق، نا انصافی پر ہی ہلکی ہلکی سینہ کوبی کے چلے جا رہی ہے۔ یہ حکمت عملی ہے؟ اور جب نیازی صاحب کی جانب سے، ان کے کرم فرماؤں کی جانب سے کوئی سافٹ پیچ مہیا نہیں ہو رہا۔ تو آپ یہ سوگ، ماتم اور رُسی رن ہونے کی بھدی ایکٹنگ کب تلک چلاتے اور کرتے رہیں گے؟

میاں صاحب اور ان کے خاندان کو اس ملک اور عوام نے بہت نوازا ہے۔ میاں صاحب کی اٹھان سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ وہ اتنے قابل، ذہین یا بردبار کبھی بھی نہ تھے، مگر پاکستان کی زمام کار ان کے ہاتھ رہی۔ مگر دباؤ کے حالات اور وقت میں اب تین برس ہونے کو آن چلے، ان کی جانب یا ان کی جماعت کی جانب سے بس ماتم اور سوگ کی سی کیفیت ہی دیکھنے کو ملتی ہے، جب بھی ملتی ہے۔ آپ یا تو پارلیمان کا حلف ہی نہ اٹھاتے، اٹھا لیا ہے تو پھر متحریک پارلیمانی طریقہ اپناتے۔

اک سیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ شخصیات کے گرد گھومتی جماعتوں پر جب برا وقت آتا ہے تو پھر یہی ہوتا ہے۔ میاں صاحب اور ان کے خاندان کو چاہیے تھا کہ پچھلے تیس برس میں جماعت کی کوئی نظریاتی تشکیل کی جانب بھی قدم بڑھا دیتے، تاکہ برے یا اچھے وقت میں جماعت پر دباؤ لینے کی ہمت اہلیت اور طاقت موجود رہتی۔ مسلم لیگ نواز نے پچھلے تین برس، خود کو اقتدار میں رہنے والی جماعت ہی ثابت کیا ہے جس میں باتیں ادھر سے اُدھر ہی چلتی رہی ہیں۔ سیاست میں اگر آپ کمزور پوزیشن کا شکار ہوں، تو اس کمزور پوزیشن کو بھی اپنے حق میں مسلسل استعمال کرنا ہوتا ہے۔ مسلم لیگ نواز ایسا بالکل بھی نہ کرپائی اور نتیجہ یہ ہے کہ اپنا شاید ہی کوئی مقصد حاصل کر پائی ہو۔

ڈنگ ٹپاؤ معاملات ہیں، بس چلائے چلے جا رہے ہیں۔ اور یہ قابل افسوس ہے۔ اک فرد کی حیثیت سے اپنی کم مائیگی اور انفرادی فضولیت کا شعوری احساس ہے، مگر پاکستانی تاریخ و سیاست کے اک طالبعلم کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ اتنی نکمی و بے کار حکومت اور اتنی بھدی اور ناکارہ اپوزیشن، اپنے ہوش میں آج تک نہیں دیکھی۔ مسلم لیگ نواز کو اپنے من میں کنگھی پھیرنا چاہیے۔ بہت جوئیں نکلیں گی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •