ناصر خان جان کے ساتھ جانبدارانہ سلوک: ’ہر شاخ پہ اینکر بیٹھا ہے انجام صحافت کیا ہو گا‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی ٹوئٹر پر ناصر خان جان اس وقت ٹاپ ٹرینڈ ہے، جس کی وجہ ان کی نجی ٹی وی چینل سما کے پروگرام نیا دن میں شرکت اور پروگرام کے اینکرز کی جانب سے نہ صرف ان کے ساتھ ہتک آمیز سلوک بلکہ ان کی تضحیک ہے۔

ناصر خان جان سوشل میڈیا پر مشہور ہیں اور فیس بُک اور یوٹیوب پر ان کی مزاحیہ ویڈیوز بہت دیکھی جاتی ہیں۔

پروگرام کے کلپ سما نیوز کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ہیں جن میں مرد میزبان انتہائی جانبداری سے ناصر خان جان پر رکیک جملے کستا ہے، جس پر سوشل میڈیا پر لوگ مرد میزبان کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

پروگرام ’نیا دن‘ کے اینکر محمد شعیب اور کرن آفتاب احمد ہیں۔

عائشہ خالد نے لکھا ‘اینکر بھائی صاحب کو موقع مل گیا پارسا بننے کا، اتنا ہی بُرا ہے یہ انسان تو کیوں مہمان بنایا؟ ریٹنگ کھینچنے کے لیے؟ یا اُس کی بے عزتی کر کے اپنے آپ کو بہتر انسان ثابت کرنے کے لیے؟’

مرزا اقبال بیگ نے لکھا ‘ کیسے کیسے لوگ اینکر بن جاتے ہیں،خدا خیر کرے۔’

ارم مدثر نے لکھا ‘اینکر کو صرف ریٹنگ سے مطلب ہے۔ اس کو نیچا دکھانے کے چکر میں خود ہی نظروں سے گر گیا فضول اینکر۔’

لوگ نہ صرف ناصر خان جان کے حوصلے اور ہمت کی داد دے رہے ہیں کہ انہوں نے حوصلے سے اپنے اوپر تنقید کا سامنا کیا بلکہ سما نیوز سے مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ ان کے انیکر اور چینل ناصر خان جان سے معافی مانگے۔

نبیل کھوکھر کہتے ہیں کہ ‘سما جیسے چینل اس اخلاقی پوزیشن میں نہیں کہ وہ دوسروں کو تہذیب سکھائیں۔ انہیں ناصر خان جان سے معذرت کرنی چاہیے اس اخلاقی پولیسنگ پر۔ یہ بہت مضحکہ خیز ہے۔’

مگر ضیا رحمان نے ناصر خان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ‘کیا ملک ہے جس میں سوشل میڈیا پر ناصر خان جان ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ ہم کیسی ثقافت کی ترویج کر رہے ہیں۔’

ارباز بن عادل کا کہنا تھا کہ ‘مجھے نہیں پتا کہ لوگ ناصر خان جان کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں۔ اینکر نے جو بھی کی وہ غلط تھا مگر جو ناصر خان جان کرتا ہے وہ غلیظ اور گھٹیا ہے۔’

مگر اس ویڈیو نے ان لوگوں کی رائے بھی بدلی جو ناصر کو ناپسند کرتے تھے جیسا کہ ضدی خٹک نے لکھا ‘مجھے پہلی بار ناصر خان جان پسند آیا جب اس نے اپنے جذبات پر کنٹرول رکھا ساری بحث کے دوران۔ غلط یا صحیح میں اس کا فیصلہ نہیں کروں گا مگر کس قسم کی بے وقوفانہ میزبانی تھی یہ؟’

اور پھر اس گفتگو میں زیرِ بحث ناصر خان جان کی جانب سے جسم کی نمائش پر فراز نے پوچھا ‘اس اینکر نما بندے سے پوچھیں وہ۔جو سلمان خان اور رنبیر کپور کرتے ہیں وہ فحش ہے یا نہیں، میں سنی لیون کا ذکر نہیںکرنا چاہتا پورا پاکستان سرچ کرتا ہے اسے۔’

نامعلوم نے لکھا ‘یاد ہے قندیل کے ساتھ کیا ہوا تھا جب بہت سے نام نہاد پاک دامن اینکر انہیں اپنے شو پر بلاتے تھے اپنے شو کی ریٹنگ کے لیے۔ ان دونوں اینکروں نے بھی اپنی ذہنیت بار بار دکھائی۔’

عبدالسلام علی نے لکھا ‘ ہر شاخ پہ اینکر بیٹھا ہے انجام صحافت کیا ہو گا۔’

اینکر محمد شعیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’سوشل میڈیا پر ٹرولز کی میں پروا نہیں کرتا اور ناصر خان پروگرام کے بعد بہت مطمئن تھے اور لوگ جو تنقید کر رہے ہیں انہوں نے پورا پروگرام نہیں دیکھا اور اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جو مجھے اخلاقیات کا درس دے رہے ہیں وہ اپنے الفاظ پر غور کریں کہ مجھے کس طرح مخاطب کر رہے ہیں۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8368 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp