استنبول میں چوروں نے بیلٹ باکس کے ذریعے عوامی امنگوں کو لوٹ لیا تھا: صدر اردوعان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رجب طیب اردوعان

Getty Images
استنبول میں دوبارہ انتخابات سے ترکی میں جمہوریت مضبوط ہو گی: صدر رجب طیب اردوعان

ترکی کے صدر رجب طیب اردوعان نے انتخابی بورڈ کی جانب سے استبنول کے میئر کے دوبارہ الیکشن کرانے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’چوروں‘ نے بیلٹ باکس کے ذریعے قومی امنگوں کو چوری کرلیا تھا۔

صدر اردوعان نے حکمران جماعت اے کے پی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ہمیں یقین ہے کہ ان انتخاب میں منظم بدعنوانی اور بے قاعدگیاں ہوئیں۔‘

اپوزیشن جماعت سی ایچ پی سے تعلق رکھنے والے ایکرم اماموگلو نے استنبول میں دوبارہ الیکشن کرانے کو’غداری‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیئے

ترک انتخابات: اردوغان کی جماعت کو انقرہ میں شکست

’اردوغان شکست تسلیم کرنے کی بجائے بہانے بنا رہے ہیں‘

یورپی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ استنبول میں میئر کے انتخاب کے نتائج کو تسلیم نہ کرنا ترکی میں جمہوریت کی ساکھ کو ختم کر دے گا۔

حزب اختلاف کا موقف ہے کہ انتخابی بورڈ نے صدر اردوعان کے دباؤ میں استنبول میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔

صدر اردوعان نے کیا کہا؟

صدر اردوعان نے کہا کہ استنبول میں دوبارہ انتخابات کا ہونا ایک بہترین جمہوری عمل ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے ہمیں اپنے مسائل کو جہموریت اور قانون کے دائرے میں حل کرنے کا حوصلہ پیدا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ’چوروں‘ نے بیلٹ باکس کے ذریعے قومی امنگوں کو چرا لیا تھا اور اگر ہم نے اس کا حساب نہ لیا تو عوام ہم سے اس کا حساب لیں گی۔

استنبول میں دوبارہ انتخابات کیوں؟

ایکرم اماموگلو

Getty Images
ایکرم اماموگلو اکتیس مارچ کو ہونے والے انتخابات میں 14ہزار ووٹوں کی اکثریت سےجیت گئے تھے

انتخابی بورڈ پر حکمران جماعت کے نمائندے رجب اوزل نے کہا ہے کہ استنبول میں دوبارہ انتخابات کی وجوہات میں الیکشن بورڈ میں کچھ غیر سرکاری افراد کی موجودگی اور کچھ بیلٹ پییپروں پر دستخط نہ ہونا ہے۔

اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے چیئرمین اونسرل ادیغزل نے کہا کہ استنبول میں دوبارہ انتخابات کے فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اے کے پی کے خلاف الیکشن جیتنا غیر قانونی ہے۔

انھوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا ’صاف اور واضح ڈکٹیٹرشپ ہے۔

انھوں نے کہا ایسا نظام جو لوگوں کے رائے کو خاطر میں نہیں لاتا وہ نہ تو جمہوری ہے اور نہ ہی قانونی۔

ایکرم اماموگلو نے جو اکتیس مارچ کو ہونے انتخابات میں فاتح قرار پائے تھے، انتخابی بورڈ کے فیصلے کی مذمت کرنےہوئے کہا کہ وہ حکمران جماعت کےدباؤ میں ہے۔

ایکرم اماموگلو نے کہا کہ ہمیں اصولوں پر سودا نہیں کریں گے۔ ’یہ ملک آٹھ کروڑ محب وطنوں سے بھرا ہوا ہے۔ ۔۔۔ ہم جمہوریت کے لیے آخری دم تک لڑیں گے۔‘

ایکرم اماموگلو کے ایک حامی گروپ نے صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا ’ متحد رہیں، ہم پھر جیتیں گے، ہم پھر جیتیں گے۔‘

استنبول انتخابات کا پس منظر

ترکی میں اکتیس مارچ کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت اے کے پی نے عمومی طور پر اکاون فیصد ووٹ حاصل کیے لیکن دالحکموت انقرہ، ازمیر اور استنبول میں حکمران جماعت کے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

صدر رجب طیب اردوعان بھی استنبول کے میئر رہ چکےہیں اور ماضی میں کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جس کے پاس استنبول ہے ، اس کے پاس ترکی ہے۔

اکتیس مارچ کو ہونے والے انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعت سی ایچ ایم کے ایکرم اماموگلو چودہ ہزار ووٹوں کی اکثرتیت سے فاتح قرار پائے تپے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9979 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp