رمضان کا احترام ۔۔نگر سے سیکھئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے سال رمضان میں راولپنڈی سے ہنزہ کا سفر درپیش تھا ۔ بچے بھی ساتھ تھے۔ رات بشام میں بسر کی اور دوسرے روز ہنزہ پہنچنے کے ارادے سے چل پڑے۔ داسو پہنچنے تک گرمی سے برا حال ہو گیا۔ وقاص نے قے کرنا شروع کر دیا ۔ گاڑی کا اے سی بھی خراب ہو گیا۔راستے میں کوئی ایک دکان کھلی نہیں ملی کہ جس سے کچھ بسکٹ یا جوس لے لیے جائیں ۔ تمام ہوٹلز مکمل بند تھے بلکہ یہاں تک کہ ٹرک ہوٹلز کی چارپائیاں الٹی باندھ دی گئیں تھیں کہ کو ئی قسمت کا مارا مسافر ان پر کمر نہ سیدھی کر لے۔

داسو سے نکلنے کے بعد مجھے امید تھی کہ سمر نالہ ضرور کھلاہو گا۔ اگر سمرنالہ بھی نہیں کھلا تو یہ قوم ذہنی پسماندگی کی تمام نچلی حدود کو پھلانگ کر بہت گہرائی میں جا چکی ہے۔ سمر نالہ کھلا ہونے پر میرا یقین اس لیے تھاکہ قراقرم ہائی وے کے لمبے سفر میں سمر نالہ انتہائی ویران جگہ پر آتا ہے، کوئی  روزہ خور گناہ گار کم از کم سمر نالہ میں کھانا کھانے جانے کی کوشش نہیں کر سکتا اور اگر کرے گا بھی تو مسافر کی تعریف پر پورا اترتے ہوئے روزے سے ویسے ہی باہر نکل جائے گا۔

داسو سے نکل کر جب ہم کوہستانی بھول بھلیوں اور گھمن گھیریوں میں داخؒل ہوئے تو مجھے یوں لگا جیسے میں کوئی بہت بڑی غلطی کربیٹھا ہوں ۔وقاص کی بیماری کو دیکھتے ہوئے مجھے اتنا بڑا رسک نہیں لینا چاہئے تھا ۔ مصیبت یہ تھی کہ داسو میں رک کر بھی کیا کرتے ۔ داسو سے سمر نالہ تک سڑک کی انتہائی بری حالت ، گرد اور گرمی نے تباہ حال کر دیا۔ لیکن  سمر نالہ کی آس میں چلتا رہا۔ جب سمر نالہ پر نظر پڑی تو وہ بھی بند۔ منظر یہ کہ چارپائیاں بھی الٹی باندھ کر رکھی تھیں۔ تصور کیجئے ایک مسافر کا جو سفر کی صعوبت سے چور ہو اور اس کو چند لمحے کسی جگہ لیٹنے کی عیاشی تک  دستیاب نہ ہو،

سمر نالہ سے آگے چلاس تک پہنچنا ایک ڈراؤنے خواب کی مانند نظر آ رہا تھا۔

چلاس آیا تو بازار بند۔۔ہوٹل بند

ایک ہوٹل والے سے گذارش کی کہ ساتھ بچے ہیں اور ہم مسافر ہیں اور خدا کی قسم مسلمان بھی ہیں۔

خدا نے نہ جانے کس خیال میں مسافر کو روزے کی چھوٹ دے دی اب ان سے تو جو ہوا سو ہوا۔۔اب آپ بھی کچھ گنجائش پیدا کر دیں۔ ہوٹل والا ہمیں ہوٹل کے اندر لے گیا۔ کمرے کے دروازوں کی چٹخنی لگائی۔ کھڑکیوں کے پردے آگے کیے۔۔کھانا جیسا بھی تھا ٹیبل پر رکھا اور ویٹر خوفزدہ ہو کر بار بار باہر دیکھتا رہا۔۔ہمارے حلق سے نوالے نیچے نہیں جاتے تھے ۔ کچھ ہوٹل والے ہمیں عجیب نظروں سے دیکھتے ۔۔ہم نے عافیت اسی میں سمجھی کہ وہاں سے بھاگیں۔ خیر جب بل کی باری آئی تو معلوم ہوا کہ عام دنوں کے بل سے پانچ گنا زیادہ تھا۔ پانچ گنا اس لیے زیادہ تھا کہ ہوٹل والوں نے دس گنا  بڑا رسک بھی تو لیا تھا۔۔

چلاس میں رات قیام رہا ۔۔ گذشتہ دن کے تجربے کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ رات دو بجے ہی ہنزہ کے لیے نکل جایا جائے۔ صبح 7 بجے ہم جگلوٹ میں تھے۔ آپ کو معلوم ہے ناں کہ جگلوٹ سےآگے انسانیت شروع ہو جاتی ہے۔ چہروں پر شفقت اور مسکراہٹ نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ بچیاں اور بچے سڑک پر مٹر گشت کرتے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم بغیر گلگت رکے سیدھا  نگر میں اوشو تھینگ ہوٹل میں اسرار صاحب کے پاس پہنچ گئے۔

بچوں کی وجہ سے ذہنی  طورپر اس قدر فرسٹریشن کا شکار تھا کہ اسرار صاحب کو دیکھ کر آنکھوں میں نمی سی آ گئی جیسے کوئی صدیوں کے ظلمت کے سفر کے بعد ایسی جگہ پہنچے کہ جہاں ٹھنڈا پانی اس کے گلے سے معدے تک پتہ بتاتا جائے۔ اسرار وارفتگی سے آگے بڑھے اور انہوں نے گلے لگاتے ہوئے  بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے صرف اتنا کہا۔۔۔اوہ مسلمانوں نے بچوں کا کیا حال کر دیا ہے۔۔میری حالت یہ کہ جیسے بند ٹوٹ جائے۔دل کرتا تھا کہ زاروقطار اسرار صاحب کے گلے لگ کے رو دوں۔

میں اس دن سوچ رہا تھا کہ چلو ہمیں تو اصل اسلام وغیرہ کی لوگ سمجھ بوجھ دیتے رہتے ہیں لیکن تصور کیجئے کسی نو مسلم کا کہ اگر اس کے ساتھ ایسا ہو تو اس کے دل میں کیسا نفرت کا طوفان برپا ہو جائے۔ ہو سکتا وہ آپ کے ‘اصل اسلام ‘والے سبق لینے سے بھی انکار کر دے

اسرار صاحب نے انتہائی شفقت سے کھانا کھلایا۔ پھر باغ لے گئے جہاں خود شہتوت توڑ توڑ کر دیتے رہے۔ میں ناسمجھی میں کہہ بیٹھا کہ اسرار صاحب آپ بھی کھائیں ناں۔۔شرماتے ہوئے سرگوشی میں صرف اتنا کہا کہ ۔۔مجھے روزہ ہے

ان کی اس بات سے یاد آیا کہ میٹرک کے دنوں کی یاداشتوں کو کھنگالوں تو حالت روزہ میں کچھ ایسے احباب ملتے جن کا روزہ نہ ہوتا تو سمجھ نہیں آتی تھی کہ  اپنےروزے کو کیسے چھپایا جائے ۔ کیونکہ یہ تو ایک ذاتی عبادت ہے ۔ میری اس عبادت سے کہیں وہ احباب جن کا روزہ نہیں ہے کھانا کھانے میں دقت محسوس نہ کریں۔

نگر میں اتنے ہی لوگ روزہ رکھتے ہیں جتنا باقی پاکستان میں لیکن مجال ہے جو یہاں کرفیو نظر آئے۔ ہم ہوٹل واپس آئے تو سامنے لان میں ایک باریش صاحب بیٹھے تھے جبکہ ان کے سامنے دو نوجوان بیٹھے تھے۔ میں کافی دیر دیکھتا رہا۔ وہ کھانا کھاتے رہے چائے پیتے رہے جبکہ میز کی دوسری طرف باریش حضرت ان سے مشفقانہ لہجے میں باتیں کرتے رہے۔ انہوں نے کچھ نہ کھایا کہ ان کا روزہ تھا۔ میں نے اسرار صاحب سے پوچھا یہ سامنے بیٹھے حضرت کون ہیں ؟ کہنے لگے یہاں کے ایک بڑے عالم ہیں۔

مجھے آج بھی وہ منظر نہیں بھولتا کہ عالم صاحب کس مشفق چہرے سے ان سے گفتگو کر رہے تھے اور ن کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں تھی۔ ان کے چہرے پر کوئی زعم عبادت نہیں تھا۔ ان کی آنکھوں میں کہیں پارسائی کا دعویٰ نہیں تھا۔

ہم اسرار کی جنت میں ایک دن رہے اور دوسرے دن  گوشہ عافیت ہنزہ  پہنچ گئے۔۔۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 157 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik