عہد ساز مغربی سیکولر صوفی کے افکار اور یادداشتیں

23 اپریل کی شب ہالینڈ سے تعلق رکھنی والی یورپ کی ایک عہد ساز شخصیت ڈاکٹر ایج۔ جے وٹوین (1921۔ 2019) کے انتقال کی خبر سنی تو بقیہ رات کا ہر لمحہ یاد در یاد جاگ کر گزرا۔ رات بھر ان سے ہونے والی ہر ملاقات اور اس طالب علم سے کی گئی ان کی باتیں یاد آتی رہیں،جن میں سے کچھ رُو برو ہوئیں تو کچھ بذریعہ برقی خط کتابت۔ ان کے انتقال کی خبر ایک دُکھ کی بات تھی، کیوں کہ اس سانحے سے 15 سالہ گہرے تعلق کا وہ دور تمام ہو گیا تھا جو 20 سال قبل پیش آنے والے کچھ واقعات کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا۔

بیس سال پہلے یہ طالب علم جس کرب ناک تجربے سے دو چار تھا اُسے آج وہ باطنی تنازِع کا نام دیتا ہے اور یہ تنازع اس وقت ایک بحران کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ یہ بحران اس لئے کرب ناک تھا کہ اس سے دو چار ہونے والے کو یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ کائنات کے قلب سے نکل کر کسی جائے بے امان جگہ آن پڑا ہے جہاں نہ سر پر آسمان ہے نہ پاؤں تلے زمین۔ ہمارے ہاں خاص طور پر اسی کی دہائی میں بہت سے نوجوان اسی بحران کا شکار ہوئے ہوں گے، جنہوں نے سچ کی تلاش کا سفر یہ تصور کرتے ہوئے شروع کیا کہ سچ ان کے آنگن میں لگے پودے کا ہی پھل ہے جو انہیں سستے میں یا مفت مل گیا ہے۔

انہیں اس کی تلاش میں کہیں اور جانے اور بھٹکنے کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی سچ کی تلاش میں گھر سے باہر بھی جاتا ہے تو یہ سوچ کر جاتا ہے کہ سچ گھر سے باہر سہی لیکن ہماری روایت کے باہر کہیں وجود نہیں رکھتا۔ یہ گھر سے نکلنے والا یہ بھی نہیں سوچتا ہے کہ جو روایت بن جائے، جو فارمولا بن جائے وہ سچ کیسے ہو سکتا ہے؟

ان سب لوگوں کی طرح اس طالب علم نے بھی پیدائش کے حادثے کے ساتھ گھر میں ملے اس سچ سے تعلق نبھانے کی بہت کوشش کی، مگر ہر بار دُکھ ملا۔ سال ہا سال مذہبی کتب کے تراجم اور شرح پڑھنے کے لئے گرمی ہو یا سردی میلوں پیدل سفر کیا۔ مگر کبھی سوال کرنے پر جسم پر ڈنڈے برسائے گئے تو کبھی جس سے گیان چاہا۔ اس نے زد پذیر بچہ سمجھ کے مسجد ہی میں جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ لیکن ذہن تھا کہ پھر بھی اس عیاشی سے باز نہ آیا کہ جیون نہیں بدلا تو کیا ہوا، سچ اسی روایت میں موجود ہے جو پیدا ہونے کے انعام میں بے مول مل گئی ہے۔ اسی دھن میں ’مجاہدین‘ کے لئے عید قربان کے تین روز تک لاؤڈ اسپیکر پر چیخ چیخ کر کھالیں جمع کیں اور جب ان نیکو کاروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو ذہن میں ان سوالات کا شور اٹھا:
تو یہ ہیں وہ لوگ جو اگر نہ ہوں تو زمین پر خدا کا نام لینے والا کوئی نہ ہو گا؟ خدا مشکل میں پڑ جائے گا؟ خدا ان پر انحصار کر رہا ہے؟

ذہن ان سوالات کے جواب تلاش کرنے نکلا تو عقیدہ جاتا رہا لیکن عقیدہ جانے کا یہ تجربہ بھی گوشت سے ناخن کے الگ ہونے جیسا تجربہ تھا۔ شروع میں یوں لگتا تھا جیسے آسمان میں دراڑ یا پھر اناپ شگاف پڑ گیا ہے۔ لیکن شاید کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ اگر ایمان سے ہاتھ دھونے کا آسان راستہ اُن کی صحبت ہے ایمان جن کا تجارتی نشان ہے۔

اس شارٹ کٹ نے تشکیک کی منزل تک پہنچا دیا۔ میں خوش قسمت تھا کہ مذہبی کتب کا مطالعہ کرنے، چلے لگانے، کھالیں جمع کرنے اور با قاعدہ خدائی فوج داروں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ طالب علم نے انگریزی زبان و ادب سے رشتہ قائم رکھا تھا۔ جب یقین کے نرم و گرم بستر سے نکل کر میں نے تشکیک کے تپتے صحرا میں قدم رکھا تو ایک روز یونہی چلتے چلتے ملتان النگ پر کسی ریڑھی پر برٹرینڈرسل کی جملہ سیکنڈ ہینڈ کتب سستے داموں مل گئیں اور میں پہلے کی طرح صبح سویرے کوئی ایک کتاب بغل میں دبائے گھر سے نکلتا اور سارا دن دریائے چناپ کے کنارے گزارنے لگا۔

چناب عشق کی داستانوں میں تزکیہ اور وصال کا دریا ہے جو اُسے نواز دیتا ہے جو اپنی کثافتوں سے بوجھل اور جوگ کے جواری ہوں۔ رسل نے نہ صرف جہان ِ علم و فکر کی سیر کرائی، تنقیدی فکر کا تحفہ دیا بلکہ ان تینوں نے جذبات سے بھی مالا مال کر دیا جنہوں نے ان کے بقول انہیں زندگی بھر متحرک اور مصروفِ عمل رکھا: علم کی پیاس، مصائب کی دھوپ میں بلکتی انسانیت کا درد اور عشقِ مجازی۔ عورت کا عشق۔

میں جب اپنے گریبان میں جھانکتا تو مجھے اپنے اندر، تا حد خیال علم کی پیاس اور انسانیت کا درد کا درد تو دکھائی دیتا مگر آخر الذ کر، خام دھات کو سونا بنانے والے کیمیا کا کہیں نشان تک نہ ملتا جسے عشق کہتے ہیں۔ پھر مجھے دریا کی لہروں کی آواز میں کسی کی پائل کی جھنکار سنائی دیتی اور پھولوں سے لدے، ہوا میں جھومتے پودوے اپنے مشک بار بال سنوارنے والی اپسرائیں۔ مگر عشق شعوری یا دانستہ کیا جانے والا تجربہ نہیں کہ آپ شراب کے جام کی طرح اسے اٹھائیں اور منہ سے لگا کر مست ہوجائیں۔ عشق تو نہایت کٹھن سچائی کا اعتراف ہے کہ کوئی دوسرا مجھ سے زیادہ اہم ہے۔

پھر ایک سرد سہ پہر کسی کو اس لمحے نظر بھر دیکھنے کی جرات کربیٹھا جب ڈھلتے سورج کی سیال کندن جیسی کرنیں کسی کا روپ سنوار رہیں تھیں۔ مجھے یوں لگا کہ زمین پر یہی حقیقت کا سایہ ہے اور مجھ سے اس کٹھن سچائی کا اعتراف ہو گیا کہ مجھ سے زیادہ حقیقی کوئی دوسرا ہے۔ یہ عشق تھا کہ آتش جس نے شعور تو شعور لا شعور میں چھپی تعصبات کی کثافتیں بھی بھسم کردیں اور علمی سچائیوں کے علاوہ وجودی سچائیاں (existential۔ truths) کا ادراک دیا۔

پھر وہ مرحلہ بھی آیا جب یہ خبر تو نہ رہی کہ کہاں سے کہاں کے لئے سفر شروع کیا تھا بس یہ احساس باقی رہ گیا کہ یہ سفر جہاں بھی ختم ہو گا، وہاں اُس سے ملاقات ہو گی جس پر میرے رُوں رُوں کی توجہ مرکوز ہے۔ اس دوران رت جگوں کا عذابِ سلیم اترا تو محسوس ہوا کہ عاشقوں کے علاوہ سب دو نیندوں کے درمیان سوئے رہنے کے تجربے کو زندگی کہتے ہیں۔

یہاں پر ایک دائمی پچھتاوے کا اعتراف ضروری ہے کہ میں بزدل تھا کہ پوری طرح خود کو اس آتش کے سپرد نہ کر سکا جو مجھے خلوصِ دل سے اپنی طرف بلا رہی تھی۔ میں ڈر کر وا پس آ گیا۔ لیکن جہاں تک بھی گیا، خالی نہیں لوٹا کیونکہ خالی ہاتھ لوٹانا زاہدوں، مندروں، مسجدوں کا شیوہ ہے عشق اور عاشق کا شیوہ نہیں۔ عاشق کے ہاتھ کوئی لعل کوئی موتی آئے نہ آئے، جب وہ ڈوب کر ابھرتا ہے تو محبت بن کر ابھرتا ہے۔

اس واردات سے قبل میں کانٹ تنقید عقلِ محض، ہیڈاگر کی ہستی اور وقت، سارتر کی ہستی و نیستی، کارل پوپر کی سائنسی دریافت کی منطق جیسی کتب کے مطالعے میں غرق تھا کہ عشق نے ہر کتاب چھین کر میری ہی ذات کے چند اوراق میرے ہاتھ میں پکڑا دیے۔ چند بوسیدہ اوراق جن پر آڑی ترچھی لکیروں کے سوا کچھ نہیں تھا لیکن بعد میں خبر ہوئی کہ ان پر بہت کچھ لکھا ہوتا ہے مگر خفیہ روشنائی میں جو اس سمے جلی ہوتی ہے جب ہم اسے اپنے ساتھ عشق کی آگ میں جلاتے ہیں۔ کبھی یہ روشنائی روشن ہوئی اور نہ جانے کب، شک بھی تشکیک کی زد پر آ گیا۔

میں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو شاکر کے نگر نئی کتب خریدنے جاتا تھا۔ قلزمِ عشق سے نکلا تو تین سال گزر چکے تھے اور اس بار جب گیا تو کچھ اور ہی اٹھالایا۔ ڈاکٹر وٹوین کی لکھی ہوئی دو کتابیں: عالمگیر تصوف اور تصوف میدان ِ عمل میں۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن  دبائیے 

پہلی کتاب تصوف کو ادیانِ عالم کی روح کے طور پر متعارف کرایا اور دوسری کتاب انتہاؤں کے بر عکس تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں توازن کی ضرورت اور اس غلط فہمی کے رد میں لکھی گئی تھی کہ تصوف بد عملی کا درس دیتا ہے۔ کتاب کا ایک دل چسپ پہلو مظاہر پرستوں کی زمین دوستی سے جڑی وحدت پرستی کے تذکرے کے علاوہ یہ بھی تھا کہ سائنسی و مذہبی کٹرپن کو تشکیک سے متوازن کرنے کی بات بھی توازن کے باب میں کی گئی تھی۔

شاعری جیسی خوبصورت اور ریاضی کی طرح بے کم و کاست، متوازن علمی و شاعرانہ نثر میں لکھی یہ دو کتب صحرائے خرد میں ہرے بھرے نخلستان جیسی لگیں اور میں دو بار پڑھنے کے بعد ان کا اُردو ترجمہ کرنے بیٹھ گیا۔ ترجمہ مکمل ہوا، ناشر کو پسند آیا تو مصنف سے اشاعت کی با قاعدہ اجازت لینے کے لئے ان کا ای میل ایڈریس تلاش کیا اور اجازت چاہی۔ چند روز بعد مصنف کا جواب موصول ہوا تو انہوں نے نہ صرف شایع کرنے کی تحریری اجازت دے دی بلکہ میرے چند علمی و تنقیدی سوالات کا جواب بھی دیا اور بندے کو حقیقی طالب علم مان کر اسی سال ہیگ میں ہونے والے سالانہ صوفی سمر اسکول میں شامل ہونے کی دعوت بھی دے دی۔

یوں یہ طالب علم جولائی 2009 میں پہلی بار ہالینڈ میں کاٹوے میں ڈاکٹر صاحب کا مہمان ہوا اور وہ مجھے ساحل سمندر پر واقع مراد حاصل لے گئے جو ان کے پیر و مرشد حضرت عنایت کی مراقبہ گاہ تھی اور یہ یادگار، مراقبہ ہال اور مہمان خانہ انہوں نے اس وقت تعمیر کروایا تھا جب وہ پہلی بار ہالینڈ کے وزیر خزانہ بنے تھے۔ وہ بھی خالص صوفی تعلیمات کے مطابق تبلیغ یا لوگوں کا مذہب تبدیل کرنے کے قائل نہیں تھے اس لئے مراقبہ ہال میں عالم گیر عبادت کا اہتمام تھا جہاں ہر مذہب کے ماننے والے عبادت کرتے اور اپنے روحانی تجربات ایک دوسرے کے سامنے لاتے۔ عالم گیر عبادت کے سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ عالم گیر عبادت کی عملی شکل مغل بادشاہ اکبر کے عبادت خانے میں ملتی ہے جب کہ صوفیانہ نظریات میں ہم حضرت محی الدین ابن العربیؒ کے اس قول کو مشعل راہ مانتے ہیں:

”خود کو مکمل طور پر کسی ایک عقیدے سے اس طرح منسلک مت کرو کہ تمہارا دیگر عقائد سے ایمان اٹھ جائے۔ ایسا کرنے سے تم بہت سے خیر سے ہاتھ دھو بیٹھو گے اور تم معاملات کی اصل حقیقت کو نہیں پہنچان پاؤ گے۔“

اگر چہ وہاں دنیا کے با کمال لوگ ان کے مہمان تھے مگر شاید یہ ان کی نظر کا معجزہ تھا کہ میں نے ہر بار خود کو ان کی آنکھ کا مخاطب پایا۔ مجھے یاد ہے جب ایک برطانوی پروفیسر کے ساتھ خوشی کے روحانی تصور کے موضوع پر نا چیز کا ایک مکالمہ ہوا تو میرا ہاتھ پکڑ کر دیگر مہمانوں سے میرا تعارف کراتے رہے جن میں یورپ اور امریکا کے کئی اہم اداروں کے سربراہان اور سفارت کار شامل تھے۔ ان لوگوں سے مل کر مجھے پہلی بار خبر ہوئی کہ دنیا ہم پاکستانیوں کو ہمارے ہتھیاروں کی وجہ سے نہیں فن کاروں کی وجہ جانتی ہے۔ اس دوران مختلف لوگوں سے ملاقات کا احوال میں ’ہم سب‘ میں مرحوم امجد صابری کے قتل پر تحریر کردہ خصوصی مضمون ’’یہ کس کی نشانی مٹا دی ہے؟‘‘ میں بیان کر چکا ہوں کہ ان میں سے ہر ایک پاکستان کو فنِ قوالی اور عارفانہ کلام کی وجہ سے پہچانتا تھا۔

میں جتنی بار ان کی دعوت پر ان کا مہمان ہوا کئی مرتبہ دنیا میں پائیدار امن لانے کے موضوع پر سیر حاصل بات ہوئی۔ ایک بار انہوں نے بتایا کہ مغرب میں انسانی رویوں اور انسان دوست نظام کے فروغ کی وجہ صرف عقل پسندی نہیں بلکہ انسان دوستی، حیات دوستی، آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کا تقدس ہے۔ سائنسی فکر نے مغرب کو ایجادات اور تنقیدی فکر دی ہے لیکن موخز الذکر نے مغرب کو انسانوں اور دیگر حیات کے ساتھ رہنے کا ڈھنگ سکھایا ہے۔

وہ ایک سیاست دان کے طور پر ہالینڈ میں جمہوری آزادیوں پر یقین رکھنے والی پیپلز پارٹی کے سرگرم رکن اور رہنما رہے۔ اس کے علاوہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ابتدائی حصہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کے طور پر گزارا اور بعد ازاں وہ دو مرتبہ ہالینڈ کے وزیر خزانہ پھر مشیر خزانہ بھی رہے، یورپی یونین کے قیام اور یورپ کی الگ کرنسی جیسے اقدامات میں ایک معیشت دان کے طور پر پیش پیش رہے۔ طالب علم نے ایک مرتبہ ان سے ترقی پزیر دنیا کے آئی ایم ایف جیسے اداروں کے استحصال کے تاثر پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ انسانوں کی طرح اداروں کو بھی اندر سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

وہ کہا کرتے تھے کہ بڑے مالیاتی اداروں کے کام کو قریب سے دیکھنے کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ اب وہ انہیں روحانی اقدار سے آشنا کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ طالب علم نے پوچھا کہ انسان دوست بنانے (humanization) کی بجائے روحانی اقدار سے ہم آہنگ کرنا (spiritualization) کیوں تو انہوں نے جواب دیا: اس لئے کہ زمین صرف انسانوں کی نہیں۔ وہ جانوروں کی بھی ہے۔ مچھلی کی بھی ہے اور اس حیات کی بھی جسے زندہ رہنے کے لئے برف درکار ہے۔

زمین مشین نہیں، نظم ہے۔ اس کا ایک جزو، ایک مصرع ادھر سے اُدھر کردیا جائے تو اس کا حسن، توازن اور زندگی باقی نہیں رہے گی اور روحانیت کا اصل مطلب یہی ہے کہ ہم صرف انسان کے لئے نہیں بلکہ ہر ذی روح کے بارے میں سوچیں اور اسے ساتھ لے کر چلیں۔ انسانوں کے علاوہ اس زمین کا بچہ زندگی کی نظم کا اہم مصرع ہے۔

چونکہ اُن کے مرشد کا تعلق ہندوستان سے تھا اور حضرت عنایت خان کی مادری زُبان اُردو تھی، اس لئے اُن کا خیال تھا کہ حضرت عنایت خان کی صوفی تعلیمات، عالم گیر روحانی فکر (درج بالا معانی میں) اور موسیقی مغرب کو پاکستان اور ہندوستان کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ ان کی دنیوی لحاظ سے کام یاب زندگی اس بات کا ثبوت تھی کہ تصوف بے عملی کا درس نہیں دیتا۔ وہ کہا کرتے تھے:

’’حقیقت سے باہر چھلانگ لگانا (فرار) تصوف نہیں۔ حقیقت کے اندر چھلانگ لگانا تصوف ہے۔‘‘

وہ کہا کرتے تھے کہ جب تک ہم خود کو تعصبات سے خالی نہیں کر لیتے، اُس وقت تک ہم ہمارا ہر خیال، ہر بات اور ہر عمل ہمارے تعصب کا اظہار ہے۔ اس لئے اپنے باطن سے تعصبات کا زہر نکالنا بے عملی نہیں بلکہ بے عملی تعصبات کے اندھیرے میں ہاتھ پیر مارنا ہے۔ اگر انسان کے اندر تعصب، خود پرستی اور نفرت باقی ہے تو اس کا ہر کام، ہر عمل خطرناک ہو جاتا ہے۔ نفرت سے بھرے با عمل شخص سے وہ شخص بہتر ہے جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے کسی غار میں بیٹھا ہے۔

ان کے توسط سے جہاں دنیا بھر کے مذاہب کے روحانی سلاسل کے قائدین اور دیگر کئی با کمال شخصیات سے ملنے کا موقع ملا وہاں ان پہلی ملاقات نے ان سے مزید ملاقاتوں کی راہ کھول دی۔ ان ملاقاتوں کے علاوہ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران ہمارے درمیان کوئی چارسو کے قریب ای میلز کا تبادلہ ہوا اور ان میں ایسے علمی، فکری و عملی موضوعات پر گفتگو رہی جن میں چنیدہ موضوعات کو یہ طالب کتابی شکل دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہی مراسلات میں طالب علم نے انہیں عالم گیر صوفی کونسل کا مشورہ دیا، کونسل کے تصور کو تحریری منصوبے کی شکل دی اور وہ کونسل کا قیام عمل میں لائے جس میں نا چیز ہی کے تعارف کردہ ایک پاکستانی دوست بھی ان کی مدد کرتے رہے۔ آج سے دو ماہ پہلے جو مجھے ان کی آخری ای میل موصول ہوئی وہ بھی اسی کونسل کے کچھ انتظامی امور پر مشاورت کے سلسلے میں تھی، جس میں وہ دنیا بھر سے اہم مذہبی و رُوحانی شخصیات کو مدعو کرنا چاہ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مذہب روحانی میدان چھوڑ دیتا ہے تو اس کی جگہ نفسیات کا علم لے لے گا۔ اس لئے اہل مذہب کے لئے ضروری ہے کہ وہ مذہب کو سیاست اور عسکریت کی لونڈی نہ بنائیں۔

یہ سب ذہن میں لئے وہ 98 سال کی عمر میں بھی بین المذاہب ہم آہنگی اور وحدتِ ادیان کے خواب کے عشق میں گرفتار تھے۔ ان سے زیادہ متحرک اور با عمل کون ہو گا؟ مجھے یاد ہے کہ ایک بار جب میں نے ان سے آرام کی درخواست کی تو انہوں نے کہا: ’’مجھے میرے کام، مراقبے اور بین المذاہب امن سے عشق نے ہی اب تک متحرک اور زندہ رکھا ہوا ہے۔‘‘ عشق کا شعلہ ہنوز بھڑک رہا تھا لیکن ان کا جسم ساتھ چھوڑ گیا اور یوں 23 اپریل 2019 کی شام یہ شعلہ سیاہ پوش ہو گیا۔